اسلام آباد:
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے کہا ہے کہ عمران خان کا حق ہے کہ ذاتی معالج تک رسائی دی جائے، ملک میں ٹینشن گالم گلوچ کا ماحول ختم ہونا چاہیے، سب سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے۔
یہ بات نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر پوری قوم پریشانی کا شکار ہے، آپ عمران خان کے معالج کو رسائی دیں وہ جیل سے بتا دیں ان کے ساتھ کس کو ہونا ہے، یہ حق ہے ان کا انہیں ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی حاصل ہو، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کس کو ہونا چاہیے کس کو نہیں یہ فیصلے کا حق بھی عمران خان کو کرنے دیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ملک کا سیاسی درجہ حرارت نارمل کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے، عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے پوری کوشش کی مگر انقلاب نہ آسکا، پاکستان کی معیشت کے جو حالات ہیں اس کے سبب 125 عالمی کمپنیاں ملک چھوڑ گئیں، آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ عوام کی کمر ٹوٹ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں، حکومت اور عوام کے درمیان اس وقت بہت زیادہ فاصلہ ہے ملک میں کوئی مثبت سیاسی ڈویلپمنٹ نہیں ہورہی، اس وقت سیاست کو کسی بڑی تحریک کی ضرورت نہیں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک ساتھ مل کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
زرداری نے نازیبا بیان دیا جس میں خواتین کو حقیر گردانا، محمد علی درانی
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ صدر مملکت نے ایک نازیبا بیان دیا، اپنے بیان میں انہوں نے خواتین کو حقیر گردانا، یہ ناپسندیدہ بیان تھا، صدر مملکت کو لوگوں کو جوڑنا چاہیے، صدر مملکت کو اپنا بیان واپس لینا چاہیے، صدر مملکت عمران خان کے خلاف غیر ضروری بیان بازی کر رہے ہیں، اس وقت واحد حل قومی حکومت کا قیام ہے۔
بیرسٹر محمد سیف نے کہا کہ ملک میں سیاسی صورتحال میں مفاہمت کی ضرورت ہے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ملک کی سیاست میں مثبت کردار ادا کررہی ہے، ملک کے آدھے سے زیادہ حصے کو دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، پاکستان میں اس وقت ایک متحد قوم کی ضرورت ہے، ملک میں ٹینشن گالم گلوچ کا ماحول ختم ہونا چاہیے، سب سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے۔