بھارت؛ 33 بچوں کے جنسی استحصال اور انکی ویڈیوز پھیلانے پر میاں بیوی کو سزائے موت

ملزمان نے کم سن بچوں کو 2 لاکھ سے زائد فحش ویڈیوز اور تصاویر دنیا کے تقریباً 47 ممالک میں پھیلائیں


ویب ڈیسک February 21, 2026
بھارت میں 33 بچوں کو جنسی استحصال اور ان کی نازیبا ویڈیوز کو نیٹ پر دالنے والے میاں بیوی کو سزائے موت

بھارتی ریاست اتر پردیش کی خصوصی عدالت نے انجینئر رام بھون اور ان کی اہلیہ دُرگاوَتی کو 33 کم سن لڑکوں کے جنسی استحصال کے الزام میں موت کی سزا سنادی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سفاک جوڑے نے کم سن بچوں پر یہ جنسی مظالم 2010 سے 2020 کے دوران ڈھائے جب کہ بچوں کی عمریں صرف 3 سال سے 10 سال کے درمیان تھیں۔

عدالت نے کیس کو اپنی نوعیت کا سب سے کم رونما ہونے والا کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجرموں نے نہ صرف منظم طریقے سے بچوں کا استحصال کیا بلکہ 2 لاکھ سے زائد فحش ویڈیوز اور تصاویر دنیا کے تقریباً 47 ممالک میں پھیلائیں۔

خصوصی پبلک پراسیکیوٹر سوربھ سنگھ نے بتایا کہ عدالت نے متاثرہ ہر بچے کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا جس کے لیے ملزمان کے گھر سے ضبط شدہ رقم کو متاثرہ بچوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔

عدالت نے ریاستی حکومت اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ متاثرہ بچوں کے نفسیاتی علاج، بحالی اور محفوظ مستقبل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

تحقیقات اور گرفتاری

بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے 31 اکتوبر 2020 کو رام بھون اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ رام بھون اور دُرگاوَتی نے بچوں کو لالچ دینے اور دھمکیاں دینے کے ذریعے کئی سال تک جسمانی اور ذہنی استحصال کیا۔

بعض بچوں کو شدید چوٹیں آئیں، کچھ اسپتال میں داخل ہوئے اور کچھ کو نفسیاتی اور جسمانی مسائل لاحق ہوئے جن میں سُکڑتی آنکھ (squint eye) بھی شامل ہے۔

سی بی آئی نے یہ بھی بتایا کہ رام بھون بچوں کو آن لائن گیمز اور تحائف کے ذریعے اپنے جال میں پھنسا کر جنسی استحصال کرتا تھا۔

واضح رہے کہ سی بی آئی نے فروری 2021 میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے کیس عدالت میں پیش کیا تھا جس پر مسلسل تین سال تک سماعت ہوتی رہی تھی۔

 

 

 

مقبول خبریں