ملکی معیشت اور اس کے مسائل

آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے


ایڈیٹوریل February 22, 2026

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مختلف نوعیت کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر گزرے دو تین برس کا جائزہ لیا جائے تو ملکی معیشت میں قدرے استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔

معیشت کے دیوالیہ ہونے کی خبریں بند ہو چکی ہیں جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ شرح سود میں بھی خاصی کمی واقع ہو چکی ہے۔

پاکستان پر عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ اگلے روز کی ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025میں پاکستان کی مالی کارکردگی مضبوط رہی اور جی ڈی پی کا 1.3فیصد بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا ہے، یہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔

یہ انکشاف آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ میں کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 25فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا، آئی ایم ایف کا یہ وفد اپنے دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جب کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت کرے گا۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا، اصلاحات سے معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا۔آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں سادگی اور شفافیت بڑھانے کی سفارشات کی ہیں، سرکاری خریداری کی نظام میں شفافیت پرزوردیا ہے۔

پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔قوانین میں موجود پیچیدگیوں اور ابہام کا خاتمہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس وقت ٹیکس کا نظام بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔

خصوصاً کم آمدنی والا ایسا طبقہ جو انکم ٹیکس کی سلیب کے تحت ٹیکس نیٹ میں آ جاتا ہے، اسے اپنا گوشوارہ جمع کروانے کے لیے وکیل کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ گوشوارہ خود سے تیار نہیں کر سکتا۔

اگر یہ سادہ ہو تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا دکاندار وکیل کی فیس دینے سے بچ سکتا ہے اور وہ خود ہی اپنا گوشوارہ تیار کر کے ایف بی آر کو بھجوا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں مہنگائی کی شرح قابو میں رہی جب کہ مالی سال 2025میں ملک نے 14سال بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔

آئی ایم ایف پروگرام سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ حال ہی میں شائع کی گئی، رپورٹ میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں، ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانا اہم ترین ٹیکس اصلاحات ہے۔

جیولی کوزیک کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں گورننس اور کرپشن سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔ ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور سرکاری خریداری میں شفافیت بھی شامل ہے۔

 آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک کی باتیں حوصلہ افزا ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستانی حکومت کی معاشی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہے، البتہ آئی ایم ایف نے کئی معاملات میں اپنی سفارشات پیش کی ہیں جو کہ قابل غور ہونی چاہئیں۔

ادھر جمعہ کو سرکاری سروے رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ یہ سروے رپورٹ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔

سال2018-19ء سے 2024-25کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2014  کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ دولت کی عدم مساوات 32.7 تک پہنچ چکی ہے۔

اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998 میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔ پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جب کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔

اس کے علاوہ کورونا سمیت دیگر قدرتی آفات اوراقتصادی شرح نمو میں کمی بھی غربت بڑھنے کی وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ غربت میں کمی کے رجحان کا پہیہ الٹا گھوما ہے اور اس کے برے اثرات حکومت کی پالیسیوں اور لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگیوں پربھی نظر آئے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر  36.2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح 41 فیصد اضافے کے ساتھ 16.5سے بڑھ کر 23.3فیصد ،سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جب کہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12.4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔

لوگوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی جو 2019ء میں 35,454 روپے تھی گزشتہ مالی سال تک 12 فیصد کمی کے ساتھ گر کر31,127 روپے رہ گئی ہے۔

لوگوں کے ماہانہ اخراجات 31,711 روپے سے گرکر 29,980 روپے ہوگئے ہیں۔اسی طرح پنجاب میں دولت کی عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر32 فیصد ،سندھ میں 29.7  فیصد سے بڑھ کر 35.9 فیصد،خیبرپختونخوا میں 24.8 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد جب کہ بلوچستان میں21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوچکی ہے۔

لیبرمارکیٹ کا بھی برا حال ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوںکی پیداوار کورونا وبا کی پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہے جہاں سے اب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر لوگوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ بھی ہوا ہے تو مہنگائی نے اسے ختم کردیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی معیشت میں حالیہ بہتری کا بھی لوگوں کی عام زندگیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا کیونکہ مہنگائی کی بلند شرح،توانائی کی بڑھتی قیمتوں،روپے کی شرح مبادلہ گرنے ،بھاری ٹیکسوں خاص طور پربراہ راست لگنے والے ٹیکسوں نے لوگوں کی زندگیوں پر بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔

اس سے لوگوں کے لیے اپنے ضروری اخراجات پورے کرنے مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔احسن اقبال نے غربت بڑھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ پہلی بارتو2018 میں اقتصادی ترقی کا سفر متاثر ہوا اس کے بعد 2022 میں ملکی معیشت کریش کرگئی ۔

ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غربت ختم نہیں ہوسکتی ،اس کے لیے ہمیں معاشی گروتھ اور دولت کی پیدا واریت کی طرف جانا ہوگا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور کم پیداواریت سے غربت بڑھی ہے،صرف 90 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں 40 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیج رہے ہیں باقی24 کروڑ کی آبادی 40 ارب ڈالر کے برابر ایکسپورٹ کے بھی قابل نہیں۔

جب ان سے ملکی معیشت کی بدحالی میں وفاقی حکومت کے کردارکے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ہمیں پہلے تین سال تو پی ٹی آئی کی تباہی کے اثرات دور کرنے میں ہی لگے ہیں۔

انھیں امید ہے کہ اب اگلے مرحلے پر ہم اقتصادی شرح نمو بڑھانے اور غربت کی شرح میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

انھوں نے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام سے قبل ازوقت نکلنے کی باتوں کو مسترد کردیا اور کہا کو حکومت زراعت او رآئی ٹی سیکٹرز کو فروغ دے کرمشکلات سے نکل سکتی ہے۔

حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات نے غربت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں پائیدارروزگارکی ترقی ،حقیقی آمدنی کو بحال کرنے سماجی تحفظ کی طرف جانا ہوگا۔

پاکستان میں گراس روٹ لیول پر جو معاشی مسائل نظر آ رہے ہیں، ان کی وجوہات میں ایک وجہ غیرپیداواری اخراجات میں اضافہ ہونا بھی شامل ہے۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا خصوصاً سابقہ فاٹا کا ایریا، بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب سے وفاقی ٹیکسوں کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وفاقی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت کی شرح میں کمی کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں