بھگت سنگھ (پہلا حصہ)

میری مٹی کا بیٹا، میرا ہیرو


حارث بٹ February 22, 2026

لاہور:

پونچھ ہاؤس

یہ ایک تاریخی عمارت ہے جو ملتان روڈ، لاہور پر واقع ہے۔ برطانوی دور میں ریاستِ پونچھ (جموں و کشمیر) کے مہاراجا/راجا کی لاہور میں رہائش اور سرکاری قیام کے لیے تعمیر کی گئی۔

تقسیمِ ہند کے بعد یہ عمارت حکومتی تحویل میں آگئی اور مختلف ادوار میں سرکاری رہائش، گیسٹ ہاؤس اور دفاتر کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ طرزِتعمیر نوآبادیاتی (Colonial) ہے، جس میں کشادہ برآمدے، اونچی چھتیں اور وسیع لان شامل ہیں۔ تاریخی اعتبار سے یہ مال روڈ کی اُن عمارتوں میں شمار ہوتی ہے جو برصغیر کی ریاستی سیاست اور برطانوی دور کی یاد دلاتی ہیں۔ پونچھ ہاؤس اور بھگت سنگھ کا تعلق براہِ راست رہائشی یا خاندانی نہیں تھا، بلکہ یہ تعلق انقلابی سرگرمیوں اور گرفتاری کے بعد کے واقعات سے جڑتا ہے۔

پونچھ ہاؤس، لاہور برطانوی دور میں ایک اہم سرکاری/ریاستی عمارت تھی، جہاں بعض اوقات اعلیٰ حکام، سیاسی قیدیوں سے متعلق مشاورت یا عارضی حراست/نگرانی جیسے امور انجام پاتے تھے۔

بھگت سنگھ جب دہلی اسمبلی بم کیس اور بعد ازاں لاہور سازش کیس میں گرفتار ہوئے تو ان کی تفتیش، قانونی کارروائی اور نگرانی مختلف سرکاری مقامات پر ہوتی رہی۔ تاریخی حوالوں میں آتا ہے کہ بھگت سنگھ کو لاہور لانے کے بعد کچھ عرصہ ایسے مقامات پر رکھا گیا جو عام جیلوں سے ہٹ کر تھے—ان میں پونچھ ہاؤس کا نام بھی روایتاً لیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ بھگت سنگھ کی مستقل قید سینٹرل جیل لاہور میں تھی۔ پونچھ ہاؤس اگر استعمال ہوا بھی تو عارضی یا انتظامی نوعیت کا تھا۔

پونچھ ہاؤس میں بھگت سنگھ گیلری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو دراصل لاہور کی انقلابی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک علامتی اور تعلیمی کوشش ہے۔ پونچھ ہاؤس، مال روڈ لاہور وہی تاریخی عمارت جسے بھگت سنگھ کی گرفتاری کے بعد عارضی حراست/تفتیش سے جوڑا جاتا ہے۔ بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں (راج گرو، سکھ دیو) کی جدوجہد کو عوام کے سامنے لانا، نوجوانوں کو برصغیر کی انقلابی تحریک سے روشناس کرانا، لاہور کے اُن مقامات کی تاریخی اہمیت اجاگر کرنا جو تحریکِ آزادی سے وابستہ رہے۔

بھگت سنگھ کی زندگی کے اہم مراحل پر مبنی تصاویر، خاکے اور معلوماتی پینلز گیلری میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ چوں کہ روایتاً پونچھ ہاؤس کا تعلق بھگت سنگھ کی عبوری نگرانی/تفتیش سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے اسی عمارت میں گیلری کا قیام تاریخی ربط پیدا کرتا ہے یعنی جگہ بھی بولتی ہے اور تاریخ بھی۔

بھگت سنگھ

 یہ 27 ستمبر 1909 کا خوب صورت دن ہے۔ حالاں کہ سورج اپنے معمول کے مطابق مشرق سے اگا ہے، تمام پرندے اپنی اسی مخصوص میٹھی میٹھی آواز میں خدا کی حمد و ثناء بیان کر رہے ہیں۔ سب کچھ ویسا ہے مگر لاہور کی سینٹرل جیل میں قید ایک قیدی بے چین ہے۔ رات اسے نیند نہیں آئی۔ اسی شخص کا بھائی بھی ساتھ قید ہے۔ دونوں پر انگریز سرکار کے خلاف بغاوت کا الزام ہے۔

دونوں قیدیوں میں سے ایک کا نام سردار کشن سنگھ ہے جب کہ اس کے بھائی کا نام سوہن سنگھ ہے۔ زیادہ بے چین سردار کشن سنگھ ہے۔ اسے بے چین ہونا بھی چاہیے تھا۔ ان ہی دنوں اس کے گھر بالک ہونے والا تھا۔ لاہور سینٹرل جیل میں سب کام معمول کے مطابق ہورہے تھے کہ سنتری کشن سنگھ کے پاس ملاقات کا پیغام لایا۔ کشن سنگھ کے کان کھڑے ہوئے اور وہ بھاگتا ہوا ملاقاتی کی طرف گیا۔ ملاقاتی کو شاید جلدی تھی، وہ جیلر کو پیغام دے کر واپس چلا گیا۔ جیلر نے سردار کشن سنگھ کو بالک کی خوش خبری دی۔

اجیت سنگھ کو اس بارے علم ہوا تو وہ بھی بھتیجے کی خوشی میں نہال ہوگیا۔ سردار کشن سنگھ اپنے دونوں بھائیوں اجیت سنگھ اور سوہن سنگھ سمیت جیل میں قید تھا۔ اجیت سنگھ کہنے لگا کہ مبارک ہو، تمھارے گھر شیر پیدا ہوا ہے اور آگے چل کر یہ بچہ حقیقت میں شیر ہی ثابت ہوا۔ کشن سنگھ تو جیسے خوشی سے پاگل ہوگیا تھا۔ اتنے میں ایک دوسرا سنتری آیا اور کشن سنگھ اور اس کے بھائی سوہن سنگھ اور اجیت سنگھ کی رہائی کا انھیں بتایا۔ تینوں بھائی خوشی خوشی لاہور سینٹرل جیل سے باہر نکلے اور لائل پور کے قریبی قصبے بنگا کا رخ کیا۔

تینوں بھائی سارا راستہ بالک کا نام سوچتے رہے مگر گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کی ماں یعنی کہ بالک کی دادی نانکی دیوی بالک کا نام ’’بھگت سنگھ‘‘ رکھ چکی ہے۔ بھگت سنگھ کی پیدائش کے وقت گھر میں حالات سخت تھے، لیکن خاندان مذہبی اور محبِ وطن تھا۔ دادی نے بچے کو دیکھ کر کہا کہ یہ بچہ خاندان کا ’’بھگت‘‘ (یعنی خدمت گزار، نیک، عبادت گزار) ہوگا۔

اس لیے انہوں نے اس کا نام ’’بھگت سنگھ‘‘ رکھ دیا۔ کچھ مقامی روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ خاندان میں ابتدا میں نام ’’بھگت‘‘ یا ’’بھگتی‘‘ رکھنے کی بات ہوئی تھی، لیکن دادی نے مؤثر طور پر پورا نام ’’بھگت سنگھ‘‘ چن لیا۔ بھگت سنگھ کے والد سردار کشن سنگھ کو قید ہونے کی بنیادی وجہ انقلابی تحریکوں میں شمولیت اور برطانوی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کی حمایت تھی۔ اُن کا تعلق غدرپارٹی اور انقلابی قوم پرستوں سے تھا، اسی وجہ سے وہ انگریز حکومت کے لیے ’’مشکوک‘‘ افراد میں شامل تھے۔ سردار کشن سنگھ اور ان کے بھائی (سوہن سنگھ، اجیت سنگھ) انگریزوں کے خلاف سیاسی و انقلابی کام کرتے تھے۔

اجیت سنگھ تو باقاعدہ پگڑی سنبھال جٹا تحریک (1907) کے بڑے لیڈر تھے۔ اس خاندان کا پورا جھکاؤ آزادی کی تحریکوں کی طرف تھا، اس لیے حکومت نے انہیں ’’باغی خاندان‘‘ سمجھا۔ کشن سنگھ ماضی میں غدر پارٹی کے کئی راہ نماؤں سے رابطے میں رہے تھے۔ انقلابی لٹریچر رکھنا بھی جرم شمار ہوتا تھا۔ پنجاب میں 1907 میں جو بڑے احتجاج ہوئے (کرشی قوانین کے خلاف)، اُن میں پورا خاندان شریک تھا۔ برطانوی حکومت نے احتجاج کے بعد سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا، جن میں بھگت سنگھ کے والد بھی شامل تھے۔

 یہاں آپ نے دو اہم چیزوں کے نام پڑھے ہیں۔ غدر پارٹی اور پگڑی سنبھال جٹا تحریک۔

غدر پارٹی لالہ ہر دیال اور اُن کے ساتھیوں نے 21 اپریل 1913 میں امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں قائم کی تھی۔ یہ تنظیم ہندوستان کی برطانوی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی حامی تھی۔ لالہ ہر دیال اس کے مرکزی بانی اور نظریاتی رہنما تھے۔ غدر پارٹی کی فکری بنیادیں ہر دیال نے رکھیں۔

وہی امریکا میں انقلابی بھارتیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لائے۔ غدر اخبار شروع کروانے کا فیصلہ بھی انہی کا تھا۔ سوہن سنگھ بھکنا غدر پارٹی کے با ضابطہ صدر منتخب ہوئے۔ دیگر اہم شریک بانیوں میں کرتار سنگھ سرابھا، بھگت سنگھ تھنڈی، بیلا سنگھ، کے ے دار ناتھ سیانی، ہرجن سنگھ، پاندورنگ کھانڈیکر تھے۔ یہ سب لوگ غدر پارٹی کے ابتدائی تنظیمی ڈھانچے اور اخبارات کی اشاعت میں ساتھ تھے۔

غدر پارٹی برصغیر کی سب سے مؤثر انقلابی تحریکوں میں سے ایک تھی، جو بیرونِ ملک رہنے والے بھارتیوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے بنائی تھی۔ ابتدا میں اس کا نام ہندوستانی ایسوسی ایشن آف پیسیفک کوسٹ رکھا گیا، لیکن جلد ہی یہ غدر پارٹی کے نام سے مشہور ہو گئی۔ غدر پارٹی ایک انقلابی، مسلح جدوجہد کی حامی تنظیم تھی، جس کا مقصد برطانوی راج کا تختہ الٹنا، ہندوستان میں مسلح بغاوت کے ذریعے آزادی، دنیا بھر میں مقیم ہندوستانیوں کو آزادی کی تحریک میں شامل کرنا تھا۔ صدر پارٹی اگرچہ کہ سان فرانسسکو میں بنی مگر بعد میں ہانگ کانگ، سنگاپور، تھائی لینڈ، کینیڈا، اور مشرقی ایشیا میں بھی مراکز قائم ہوئے۔ غدر اخبار بھی 1913 میں جاری ہوا۔

اخبار کے ذریعے برطانوی سام راج کے خلاف سخت مضامین شائع کیے گئے۔ یہ اخبار اردو، پنجابی، انگریزی اور کئی زبانوں میں نکلتا تھا۔ جب 1914–15 میں برطانیہ جنگ میں پھنسا ہوا تھا، غدریوں نے پورے پنجاب اور شمالی ہندوستان میں مسلح بغاوت کا منصوبہ بنایا۔ لیکن بدقسمتی سے ایک مخبر نے راز فاش کر دیا اور بغاوت ناکام ہوئی۔ سیکڑوں غدری گرفتار ہوئے۔ لاہور سازش کیس 1915 میں کئی انقلابیوں کو پھانسی اور عمر قید ہوئی۔ کرتار سنگھ سرابھا بھی انہی میں شامل تھا۔

غدر پارٹی کی بغاوت 1915 میں پورے ہندوستان میں مسلح انقلاب برپا کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ تھا، مگر یہ بغاوت چند اہم وجوہات کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ بغاوت کی تاریخیں، اسلحہ، مراکز، سب خفیہ تھا مگر کرپال سنگھ نامی شخص نے پوری منصوبہ بندی برطانوی حکومت کو بتا دی۔ فوجی بیرکوں پر حملے، پولیس اسٹیشنوں پر قبضے، لاہور، فیروزپور، میاں میر میں بغاوت کی ٹائمنگ سب انگریزوں کو پہلے ہی معلوم ہو گیا۔ جس کے نتیجہ میں انگریزوں نے بہت سی گرفتاریاں کیں، چھاپے مارے اور سازش کے تمام مراکز تباہ کر دیئے۔

غدری منصوبہ یہ تھا کہ ہندوستانی فوجی انگریزوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے مگر بہت سے افسر انگریزوں کے وفادار تھے۔ فوجی یونٹوں میں رابطے کمزور تھے۔ کئی جگہ سپاہیوں نے بغاوت کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ لہٰذا بڑے پیمانے کی بغاوت شروع ہی نہ ہوسکی۔ اگرچہ غدری چاہتے تھے کہ جنگِ عظیم کا فائدہ لیں، لیکن اس وقت برطانوی خفیہ ادارے بہت فعال تھے، پورے ملک میں سخت نگرانی تھی۔ معمول سے زیادہ جاسوس کام کر رہے تھے، اس لیے منصوبہ خفیہ نہ رہ سکا۔

بغاوت کے منصوبے کے لیے بڑی مقدار میں بندوقیں، بارود، کارتوس تیزرفتار مواصلات ضروری تھے، جو غدریوں کو بڑی حد تک نہیں مل سکے۔ غدرپارٹی زیادہ تر بیرونِ ملک سرگرم تھی، ہندوستان میں مضبوط خفیہ نیٹ ورک موجود نہیں تھا۔ اس لیے ہر ضلع میں واضح قیادت موجود نہیں تھی۔ منصوبہ بندی مکمل نہیں ہو سکی۔ فوری ردعمل کے لیے وسائل کم تھے۔

برطانوی حکومت کی طاقت اور جاسوسی کا بڑا مضبوط نظام تھا، جو ہر سرگرمی پر نظر رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بغاوت کے شروع ہونے سے پہلے ہی پورا منصوبہ توڑ دیا گیا۔ درجنوں انقلابی پھانسی پر چڑھ گئے۔ سیکڑوں کو عمر قید اور کالا پانی بھیج دیا گیا۔ اس ناکامی کے باوجود غدر تحریک نے ہندوستان میں انقلابی سوچ کو مضبوط کیا۔ لاہور سازش کیس برصغیر کی آزادی کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور سخت ترین مقدمہ تھا، جو غدر پارٹی کی 1915 کی منصوبہ بندی کردہ مسلح بغاوت کے بعد برطانوی حکومت نے انقلابیوں کے خلاف لاہور میں چلایا۔

یہ مقدمہ دراصل برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام پر چلایا گیا۔ اسی وجہ سے اسے سازش کیس یا لاہور سازش کیس بھی کہا گیا۔ لاہور سازش کیس وہ مقدمات تھے جو 1915 میں غدر پارٹی کی ناکام بغاوت کے بعد لاہور میں قائم خصوصی ٹربیونل میں چلائے گئے۔ غدری انقلابیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے برطانوی فوج کے ہندوستانی سپاہیوں کو بغاوت پر اکسایا، لاہور، فیروزپور، میاں میر، راولپنڈی میں مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کی، انگریز حکومت گرانے کی خفیہ سازش کی، اسلحہ بنانے اور لانے کی کوشش کی۔ اسی سب کو برطانوی حکومت نے ’’لاہور سازش‘‘ کہا جاتا ہے۔ لاہور سازش کیس بنیادی طور پر دو مراحل میں چلا۔ پہلا 1915 میں جب کہ دوسرا 1916 تا 1917 میں۔ دونوں میں سیکڑوں انقلابیوں کو گرفتار کر کے ٹرائل کیا گیا۔

اہم ملزمان میں کرتار سنگھ سرابھا (سب سے نمایاں نوجوان انقلابی)، وشنو گنیش پنگلے، بہادر سنگھ، ہرجن سنگھ، بنس سنگھ، جگت سنگھ اور غدر پارٹی، برما، مالے، ہانگ کانگ سے آئے ہوئے رضاکار شامل تھے۔ کرپال سنگھ نامی مخبر نے پورا منصوبہ انگریزوں کو بتا دیا۔ پنجاب میں سینکڑوں افراد گرفتار، گھروں پر چھاپے، اسلحہ برآمد ہوا۔ لاہور سینٹرل جیل میں ایک Special Tribunal قائم کیا گیا جو عام عدالتوں سے بالکل مختلف تھا۔ اس میں اپیل کا حق بھی بہت محدود تھا۔ سخت سزائیں ہوئیں۔

بہت سے انقلابی پھانسی پر لٹکائے گئے، متعدد کو عمر قید اور املاک ضبط کرلی گئیں۔ بہت سے خاندان بے گھر ہوئے۔ سب سے بڑا نام کرتار سنگھ سرابھا جس کی عمر اس وقت صرف 19 سال تھی۔ غدر پارٹی کے سب سے بہادر اور ذہین نوجوان بھگت سنگھ انہیں اپنا گرو مانتے تھے۔ انہیں 1915 میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ برصغیر کی آزادی کی سب سے بڑی انقلابی سازش تھی۔ غدر پارٹی کی تحریک نے ہندوستان میں انقلاب کی سوچ کو مضبوط کیا۔ بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد اور HSRA کی نسل نے اسی تحریک سے حوصلہ لیا۔ سکھ، ہندو، مسلمان سب نے مل کر بغاوت کی۔ یہ برصغیر میں مشترکہ جدوجہد کی ایک بڑی مثال تھی۔

 بھگت سنگھ کی پیدائش 28 ستمبر 1907ء کو ضلع لائل پور (موجودہ فیصل آباد) گاؤں بنگا میں ہوئی۔ ان کی پیدائش کے وقت گھر کا ماحول بھی انقلابی تھا اور پورا پنجاب سیاسی بے چینی سے گزر رہا تھا۔ بھگت سنگھ کے والد سردار کشن سنگھ، چچا اجیت سنگھ اور سورن سنگھ تینوں برطانوی راج کے خلاف سرگرم جدوجہد میں شامل تھے۔ جب بھگت سنگھ پیدا ہوئے، ان کے والد اور دونوں چچا برطانوی حکومت کے خلاف سیاسی سرگرمیوں پر قید تھے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بھگت سنگھ نے آنکھ کھولی تو آزادی کی جدوجہد ان کے گھر کے ماحول میں پہلے سے موجود تھی۔ ان کی والدہ ودیا وتی کور نہایت باشعور، مذہبی اور پرعزم خاتون تھیں، جو اپنے شوہر اور دیوروں کی تحریکِ آزادی کی حمایت میں ثابت قدم رہیں۔

گھر میں آزادی اور خودداری کی تربیت بھگت سنگھ نے بچپن ہی سے پائی۔ بھگت سنگھ ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جب پنجاب میں کرزن کے نوآبادیاتی قوانین، زرعی ٹیکسوں اور دباؤ کی پالیسیاں عوام میں شدید غصے کا باعث تھیں۔ ان کے چچا اجیت سنگھ ’’پگڑی سنبھال جٹا‘‘ تحریک کے قائد تھے، جو کسانوں کے حقوق کے لیے انگریز حکومت کے خلاف چل رہی تھی۔ اس تحریک نے پورے پنجاب میں آزادی کا جذبہ بیدار کیا۔ 1907ء ہی میں لالہ لاجپت رائے کی جلاوطنی نے پورے پنجاب میں اضطراب پیدا کیا، اور سیاسی ماحول گرم تھا۔ بھگت سنگھ کی پیدائش انہی ہنگامہ خیز حالات میں ہوئی۔

مختصراً بھگت سنگھ ایک ایسے گھر، علاقے اور دور میں پیدا ہوئے جہاں برطانوی راج کے خلاف بغاوت، سیاسی مزاحمت اور آزادی کا جذبہ ہر طرف موجود تھا۔ یہی ماحول آگے چل کر ان کی شخصیت کی بنیاد بنا اور وہ برصغیر کے عظیم ترین انقلابیوں میں شمار ہوئے۔ اگر آپ تاریخ کے طالبِ علم ہیں تو آپ ’’پگڑی سنبھال جٹا تحریک‘‘ کے بارے ضرور جانتے ہوں گے۔ یہ (1907) برطانوی حکومت کے خلاف پنجاب کی کسان بغاوت تھی۔

اس کا نام مشہور انقلابی اجیت سنگھ (بھگت سنگھ کے چچا) کی تقریر اور مشہور نعرے، پگڑی سنبھال او جٹا! سے نکلا۔ انڈین حکومت نے 1907 میں پنجاب کے کسانوں پر یہ سخت اقدامات نافذ کیے: پیداواری ٹیکس میں اضافہ، نہر کے پانی کی فیس بڑھانا، زرعی زمین کی جبری ضبطگی۔ یہ قوانین کسانوں کے معاش کو تباہ کر رہے تھے، اس لیے اجیت سنگھ اور لالہ لاجپت رائے جیسے راہ نماؤں نے اس کے خلاف بڑی تحریک اٹھائی۔ تحریک پورے پنجاب میں پھیل گئی۔ برطانوی حکومت نے قوانین نرم کرنے پر مجبور ہوکر کچھ فیصلے واپس لیے۔ اسی تحریک کے دوران اجیت سنگھ، کشن سنگھ اور سورن سنگھ جیسے رہنما گرفتار ہوئے۔ بھگت سنگھ اسی حال میں پیدا ہوا جب ایک گھر جس کے مرد ’’برطانوی راج‘‘ کے خلاف لڑ رہے تھے۔

جب لالہ لاجپت رائے کا ذکر آ ہی چکا تو اس عظیم مٹی کے سپوت لالہ لاجپت رائے کا ایک مختصر ذکر کرہی لیتے ہیں۔

 لالہ لاجپت رائے (1865–1928) برصغیر کے عظیم آزادی پسند رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ وہ ’’پنجاب کیسری‘‘ (شیرِ پنجاب) کے لقب سے مشہور تھے۔ ان کا شمار لال–بال–پال کی مشہور تکڑی میں ہوتا ہے، جس میں بال گنگا دھر تلک اور بپن چندر پال شامل تھے۔

لالہ لاجپت رائے ایک قوم پرست راہ نما، ادیب، وکیل، سماجی مصلح اور آرگنائزَر تھے۔ انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کی، تعلیم کو فروغ دیا، اور برطانوی حکومت کے خلاف بھرپور سیاسی جدوجہد کی۔ آپ کانگریس کے فعال راہ نما تھے اور اعتدال پسند سیاست کے بجائے مضبوط اور جارحانہ رویے کے حامی تھے۔ بنگال کی تقسیم (1905) کے خلاف تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ 1920 میں عدم تعاون تحریک کی قیادت کی۔ امریکہ اور برطانیہ میں رہ کر بھی ہندوستان کی آزادی کے لیے رائے عامہ ہموار کی۔ لاہور میں دیانند انگلوا ویدک کالج (DAV College) کی بنیاد رکھی۔ ’’آریہ سماج‘‘ کی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ غربت کے خاتمے، خواتین کی تعلیم اور سماجی اصلاحات کے داعی تھے۔

1928 میں سائمن کمیشن کے خلاف لاہور میں زبردست احتجاج کیا جا رہا تھا۔ لالہ لاجپت رائے نے اس جلوس کی قیادت کی۔ برطانوی پولیس افسر سپرنٹنڈنٹ جیمز اسکاٹ کے حکم پر لاٹھی چارج ہوا جس میں لالہ لاجپت رائے شدید زخمی ہوئے۔ چند ہفتوں بعد انہی زخموں کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے کہا تھا: ’’میرے جسم پر پڑنے والی ہر لاٹھی ہندوستان کی آزادی کی چنگاری بنے گی۔‘‘ اسی واقعے کا بدلہ لینے کے لیے بھگت سنگھ، راج گرو اور چندرشیکھر آزاد نے بعد میں اسکاٹ کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اوپر شاید آپ نے لال-بال-پال کی تکڑی پڑھا ہو۔ اگر آپ اس بارے نہیں جانتے تو جان لیں کہ لال-بال-پال کی تکڑی تحریکِ آزادی ہند کے تین بے حد اہم اور دبنگ راہ نماؤں پر مشتمل تھی۔

یہ تینوں مل کر انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں انقلابی قوم پرستی کے بڑے چہرے سمجھے جاتے تھے۔ لال-بال-پال سے مراد تین شخصیات ہیں۔ اول لالہ لاجپت رائے جو ’’پنجاب کے شیر‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ ہندو سماج کی اصلاح، سوَدیشی تحریک کی حمایت، اور سکھ، ہندو، مسلمان سب کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔ 1928 میں سائمن کمیشن کے خلاف احتجاج میں پولیس لاٹھی چارج سے شدید زخمی ہوئے اور بعد میں وفات ہوگئی۔

دوم بال گنگادر تلک جو ’’لوک مانیہ تلک‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ تحریکِ آزادی کے انتہائی بااثر راہ نما، گنپتی اور شیواجی تہواروں کو عوامی سیاسی بیداری کے لیے استعمال کیا۔

سوم بپّن چندر پال جو جدید تعلیم یافتہ، بہترین مقرر اور مصنف تھے۔ بنگال کی تقسیم کے خلاف تحریک اور سوَدیشی تحریک کے بنیادی راہ نما۔ تشدد کی بجائے نظریاتی بیداری اور شعور اجاگر کرنے پر زور دیتے تھے۔

یہ تینوں راہ نما کانگریس کے اندر انقلابی دھڑے کے قائد تھے، جن کا مقصد نرم رویہ چھوڑ کر برطانوی راج کے خلاف مزاحمتی، جرأت مند اور عوامی سیاسی تحریک کو مضبوط کرنا تھا۔ ان کے ذریعے سوَدیشی تحریک زور پکڑی۔ برطانوی مصنوعات کے بائیکاٹ کے بڑے مظاہرے ہوئے۔

عوام میں قوم پرستی، خوداری اور آزادی کا جذبہ بڑھا۔ کانگریس میں اعتدال پسندوں اور انقلابیوں کے درمیان تقسیم پیدا ہوئی۔ لال-بال-پال کی تکڑی نے ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں انقلابی سوچ کی بنیاد رکھی، عوامی تحریکوں کو طاقت دی اور نوجوانوں میں جدوجہدِ آزادی کا نیا ولولہ پیدا کیا۔ بھگت سنگھ کے زمانے سے پہلے ہی یہ تینوں راہ نما آزادی کی فضا بنانے میں مرکزی کردار ادا کر چکے تھے۔

اوپر آپ نے سائمن کمیشن بارے پڑھا ہوگا۔ اگر آپ اس بارے نہیں جانتے تو جان لیجیے کہ برطانوی حکومت نے 1927ء میں ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے کا جائزہ لینے اور مستقبل کی آئینی اصلاحات تجویز کرنے کے لیے ایک کمیشن بنایا، جسے اس کے سربراہ سر جان سائمن کے نام پر ’’سائمن کمیشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ 1919 کے انڈیا گورنمنٹ ایکٹ کے تحت دس سال بعد ایک کمیشن بننا تھا جو اصلاحات کا جائزہ لے۔

برطانوی حکومت نے یہ کمیشن وقت سے پہلے 1927 میں بنا دیا، جس کا مقصد ڈائریکٹو ریفارمز کا جائزہ اور صوبائی خودمختاری اور مرکزی حکومت میں تبدیلیوں کی سفارش کرنا تھا۔ کمیشن پر سب سے بڑی تنقید یہ تھی کہ کمیشن کے تمام سات (7) ارکان برطانوی تھے، یعنی ایک بھی ہندوستانی شامل نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پورے ہندوستان میں نعرہ لگا: ’’سائمن واپس جاؤ!‘‘ تمام بڑی سیاسی جماعتوں، بشمول کانگریس اور مسلم لیگ کے اکثریتی دھڑوں، نے کمیشن کا بائیکاٹ کیا۔ 1928 میں جب کمیشن ہندوستان آیا تو ہر جگہ شدید احتجاج ہوا۔ لاہور میں بڑا احتجاج ہوا جب کہ مظاہرین کی قیادت لالہ لاجپت رائے کر رہے تھے۔

انگریز پولیس افسر سپرنٹنڈنٹ جیمز اسکاٹ کے حکم پر لاٹھی چارج ہوا۔ لالہ لاجپت رائے شدید زخمی ہوئے اور کچھ ہفتوں بعد وفات پاگئے۔ ان کی موت نے پورے ملک میں غم و غصہ پیدا کیا اور انقلابی سرگرمیوں میں تیزی آگئی۔ بھگت سنگھ اور ساتھیوں نے اسی واقعے کے ردِعمل میں جیمز اسکاٹ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ کمیشن نے 1930 میں رپورٹ دی، جس میں صوبوں کو مزید اختیارات دینے کی سفارش، علیحدہ انتخابی حلقے کا نظام برقرار رکھنے کی حمایت، مرکزی حکومت میں ہندوستانیوں کو محدود اختیار دینے کی تجاویز تھیں۔ ان سفارشات کی بنیاد پر ہی آگے چل کر گول میز کانفرنسیں (1930–1932) ہوئیں اور پھر 1935 کا انڈیا گورنمنٹ ایکٹ بنایا گیا۔

اب تک یہ تو آپ کو معلوم ہو کہ چکا کہ جس دن بھگت سنگھ پیدا ہوئے، اُن کے باپ (کشن سنگھ) اور دو چچا (اجیت سنگھ، سوہن سنگھ) سب جیل میں تھے۔ پورا گھرانا انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں شامل تھا، اس لیے بھگت سنگھ کے کان بچپن سے ہی ’’ملک کی آزادی‘‘ کے نعرے سنتے رہے۔ روایت ہے کہ بھگت سنگھ نے صرف 5–6 سال کی عمر میں اپنے والد سے پوچھا، ’’انگریز کون ہوتے ہیں جو ہمارے ملک پر راج کرتے ہیں؟‘‘ تبھی سے اُن میں بغاوت کی چنگاری پیدا ہوئی۔ مشہور واقعہ ہے کہ بھگت سنگھ بچپن میں خالی زمین میں مٹی ڈال کر ’’بندوق اگانے‘‘ کا خواب دیکھتے تھے۔ جب گھر والوں نے پوچھا یہ کیا ہے؟

انہوں نے کہا: ’’میں زمین میں بندوق اُگا رہا ہوں تاکہ انگریزوں سے لڑ سکوں۔‘‘ 1919 میں جب وہ تقریباً 12 سال کے تھے، اُنہوں نے جلیاں والا باغ قتل عام کے بعد وہاں کی مٹی اپنی بوتل میں بھری اور گھر لے آئے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ شہیدوں کی مٹی ہے، اسے اپنے پاس رکھوں گا۔‘‘ یہ واقعہ اُن کی زندگی کا بہت اہم موڑ ثابت ہوا۔

بھگت سنگھ اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ ’’فوجی کھیل‘‘ کھیلتے تھے۔ وہ ہمیشہ انگریزوں کے خلاف حملہ کرنے والا کردار نبھاتے۔ یہ اُن کی انقلابی شخصیت کی ابتدائی جھلک تھی۔ 1920 میں ننکانہ صاحب کے گوردوارے پر حملے میں جب سکھ مارے گئے تو بھگت سنگھ اسکول میں تھے۔ اُنہوں نے اس واقعہ پر کھل کر غصہ اور دکھ کا اظہار کیا۔ یہ دکھ ان کے اندر ’’ظلم کے خلاف لڑنے‘‘ کی سوچ کو مزید مضبوط کرگیا۔ اسکول میں بھگت سنگھ کلاس کے بہترین طلباء میں تھے۔ وہ تاریخی شخصیات گریوا، رانا پرتاپ، اور لالہ لاجپت رائے کو بہت پسند کرتے تھے۔ جب بھگت سنگھ 16–17 سال کے تھے، گھر میں شادی کی بات ہوئی۔

بھگت سنگھ نے کہا: ’’میری زندگی کا ایک ہی مقصد ہے، آزادی!‘‘ اور وہ گھر چھوڑ کر انقلابی سرگرمیوں میں شامل ہوگئے۔ بچپن نہیں بلکہ لڑکپن (16–17 سال) میں انہوں نے اجیت سنگھ کی انجمن ’’نوجوان بھارت سبھا‘‘ کے لیے خفیہ طور پر پوسٹر اور لٹریچر تقسیم کرنا شروع کیا۔ روایت ہے کہ بھگت سنگھ نے ایک بار اسکول میں ایک انگریز استاد کی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی۔ استاد نے اُنہیں سزا دینے کی کوشش کی، مگر وہ ڈٹ گئے۔ شروع سے ہی اُن میں ’’غلامی قبول نہ کرنا‘‘ واضح تھا۔ جوانی کی شروعات ہی میں ان کی سوچ بدل چکی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ انگریز کے ظلم کا بدلہ لینا ہے اور آزادی حاصل کرنی ہے۔

ننکانہ صاحب قتلِ عام کے بعد تحریک میں شامل ہونے کا فیصلہ (1920) کیا۔ اس واقعے نے نوجوان بھگت سنگھ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے پہلی بار کھل کر ’’ظلم کے خلاف مسلح مزاحمت‘‘ کی بات کی۔ گاندھی جی نے تحریک اچانک واپس لی تو نوجوان بھگت سنگھ نے کہا، ’’آزادی کے لیے قربانی چاہیے، آدھے راستے سے واپس نہیں ہوا جاتا!‘‘ یہ وہ لمحہ تھا جب انہوں نے مسلح جدوجہد کو مکمل طور پر اپنا راستہ بنالیا۔

بھگت سنگھ پولیس کے ریڈ سے بچنے کے لیے گھر چھوڑ کر کان پور، کلکتہ اور کشمیر سمیت کئی شہروں میں رہے۔ وہ مکمل طور پر انقلابی تنظیموں میں شامل ہوچکے تھے۔ 1924 میں ایک تنظیم بھارت سبھا ابھی شمولیت اختیار کی۔ اس تنظیم کا مقصد نوجوانوں کو برطانوی راج کے خلاف تیار کرنا تھا۔ بھگت سنگھ نے جلسوں، پمفلٹ اور خفیہ میٹنگوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن (HSRA) میں بھی شمولیت (1924–25) اختیار کی۔ یہ اُن کی زندگی کا سب سے بڑا سیاسی موڑ تھا۔

اس تحریک کا مقصد نوجوانوں کو بیدار کرنا، انقلاب کا شعور پھیلانا اور نوجوانوں کو غلامی کے خلاف سیاسی تربیت دینا۔ یہ تنظیم مسلح انقلابی کارروائیوں پر یقین رکھتی تھی۔ بھگت سنگھ نے عوامی سطح پر کہا: ’’انقلاب صرف بندوق سے نہیں، ذہن بدلنے سے بھی آتا ہے۔‘‘ اس وقت انہوں نے مزدوروں اور کسانوں کے حقوق پر بھی تحریریں لکھیں۔ انگریز افسر سینڈرز نے جب لاجپت رائے پر لاٹھیاں برسائیں، جن سے وہ شہید ہوئے تو بھگت سنگھ نے قسم کھائی کہ لالہ جی کی موت کا بدلہ ضرور لوں گا۔ جے پی سانڈرز کا قتل سب سے بڑا انقلابی عمل (17 دسمبر 1928) تھا۔ بھگت سنگھ، راجگرو اور سکھ دیو نے مل کر منصوبہ بنایا۔ اصل نشانہ اسکاؤٹ افسر اسکاٹ تھا۔

غلطی سے سپرنٹنڈنٹ جے پی سانڈرز مارا گیا۔ اس ایک واقعہ نے بھگت سنگھ کو پورے ہندوستان کا ہیرو بنا دیا۔ دہلی سنٹرل اسمبلی میں بم پھینکنا (8 اپریل 1929) بھگت سنگھ کا سب سے تاریخی واقعہ ہے۔ جس کا مقصد تھا کسی کو مارنا نہیں بلکہ گونگی حکومت کو ’’سنیے ہم بھی موجود ہیں‘‘ کا پیغام دینا تھا۔ بم پھینک کر وہ خود گرفتاری دینے کھڑے ہو گئے۔ بھگت سنگھ اور ساتھیوں نے جیل میں سیاسی قیدیوں کے حقوق کے لیے بھوک ہڑتال کی۔ یہ 116 دن تک جاری رہی۔ ہندوستان کی تاریخ کی طویل ترین بھوک ہڑتال تھی۔

جلیانوالہ باغ سانحہ

سانحہ جلیانوالہ باغ برِصغیر کی تاریخ کا وہ دل خراش واقعہ ہے جس نے ہندوستانی تحریکِ آزادی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ واقعہ 13 اپریل 1919ء کو امرت سر (پنجاب، بھارت) میں پیش آیا۔

1919 میں برطانوی حکومت نے راؤلٹ ایکٹ نافذ کیا، جس کے تحت بغیر مقدمہ گرفتاریاں ہوسکتی تھیں۔ اس ایکٹ نے پورے ہندوستان میں شدید غصہ پیدا کیا، اور کئی شہروں میں عوامی احتجاج شروع ہوگئے۔ 13 اپریل 1919 کو بیساکھی کا تہوار تھا، اور ہزاروں لوگ امرت سر کے جلیانوالہ باغ میں جمع تھے۔ کچھ احتجاج کے لیے اور کچھ صرف میلے کے لیے۔ اسی دوران بریگیڈیئر جنرل ریجینالڈ ڈائر تقریباً 50 فوجیوں کے ساتھ باغ کے تنگ دروازے پر پہنچا۔ اس نے بغیر کسی وارننگ کے گولی چلانے کا حکم دیا۔ باغ کے چاروں طرف اونچی دیواریں تھیں اور باہر نکلنے کا تقریباً کوئی راستہ نہیں تھا۔

فوجیوں نے 10 سے 15 منٹ تک مسلسل فائرنگ کی۔ گولیاں ختم ہونے پر ہی فائرنگ رکی۔ برطانوی ریکارڈ کے مطابق 379 لوگ شہید مگر بھارتی/مقامی اندازوں کے مطابق ایک ہزار سے زائد شہید، ہزاروں زخمی بہت سے لوگ بھاگ کر نکلنے کی کوشش میں کنویں میں کود گئے، جہاں سیکڑوں افراد دم توڑ گئے۔ اس سانحے نے پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ گاندھی جی نے برطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون تحریک شروع کی۔ برطانوی حکومت کی سفاکیت دنیا بھر میں بے نقاب ہوئی۔ یہ واقعہ تحریکِ آزادی کی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن موڑ بن گیا۔ بعد میں انکوائری تو ہوئی لیکن اسے بر طرف کیا گیا مگر کوئی سزا نہ دی گئی۔

برطانوی قوم پرست طبقے نے اُسے ہیرو کے طور پر پیش کیا۔ 2000 کے بعد بھارت نے جلیانوالہ باغ کی تزئین و آرائش کی، جہاں شہیدوں کی دیوار پر گولیوں کے نشانات، شہیدوں کا کنواں، میموریل شعلہ آج بھی موجود ہیں۔ جلیانوالہ باغ سانحہ (13 اپریل 1919) نے پورے برصغیر کی سیاست، قومی شعور اور آزادی کی جدوجہد پر گہرے اثرات ڈالے، مگر بھگت سنگھ کی شخصیت، ذہن اور انقلابی راستے کی تشکیل پر اس کے اثرات سب سے زیادہ گہرے تھے۔

سانحہ کے وقت بھگت سنگھ کی عمر صرف 11–12 سال تھی۔ وہ ننھا تھا مگر گولیوں سے چھلنی معصوم لوگوں کی لاشیں، باغ کی مٹی میں بہا ہوا خون اور نہتے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کے واقعات نے اس کے ذہن پر ہمیشہ کے لیے ایک نشان چھوڑ دیا۔ بھگت سنگھ نے بعد میں بتایا کہ ’’میں نے جلیانوالہ باغ کے میدان کی خون آلود مٹی کو مٹھی میں لے کر آزادی کی قسم کھائی تھی‘‘ (یہ بات کئی سوانح نگاروں نے نقل کی ہے)۔ یہ اس کا پہلا شدید سیاسی جھٹکا تھا۔ جلیانوالہ باغ نے اس کے دل میں برطانوی راج کی ظالمانہ فطرت کی وہ تصویر بٹھا دی جس نے آگے چل کر اسے پرامن سیاست کے بجائے انقلابی راستے کی طرف مائل کیا۔

اس واقعے نے بھگت سنگھ کو یہ یقین دلایا کہ ’’غلامی کا نظام کبھی اصلاح سے نہیں بدلے گا، اسے طاقت سے اکھاڑنا ہو گا۔‘‘ گاندھی جی نے اس واقعے کے بعد عدم تعاون تحریک شروع کی، مگر بھگت سنگھ جلد ہی یہ سمجھ گیا کہ صرف عدم تشدد سے انگریز نہیں نکلیں گے۔ یہی سوچ آگے چل کر اسے نوجوان بھارت سبھا اور ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن (HSRA) جیسے تنظیمی راستے پر لے گئی۔ جلیانوالہ باغ کے بعد بھگت سنگھ نے تاریخِ آزادی کے کتابچے پڑھنے شروع کیے۔

بنگال کے انقلابیوں (کھڈی رام بوس، اوبنندھن ناتھ وغیرہ) کی جدوجہد کو فالو کیا۔ شہیدوں کی زندگی سے متاثر ہوکر خود بھی مسلح مزاحمت کے راستے کی طرف مائل ہوا۔ سانحے نے اس کے اندر’’سیاسی بیداری‘‘ پیدا کی جس نے آنے والے برسوں میں انقلابی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ بعد ازآں بھگت سنگھ نے لکھا: ’’جلیانوالہ باغ نے مجھے آزادی کے صحیح معنی سکھائے۔‘‘ یہ واقعہ اسے مجبور کرتا رہا کہ وہ قوم کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھے۔ سوشلسٹ نظریات کی طرف بڑھے۔ آزادی کو صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی و معاشی انصاف کے ساتھ دیکھے۔ یہ سانحہ بھگت سنگھ کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

اگر جلیانوالہ باغ نہ ہوتا تو شاید بھگت سنگھ وہ انقلابی نہ بنتا جو پوری دنیا میں آزادی و قربانی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

جنرل ڈائر نے ایسے ہی جلیانوالہ باغ پر حملہ نہیں کردیا۔ جنرل ریجینالڈ ڈائر نے جلیانوالہ باغ حملے میں ایک سوچی سمجھی، بے رحمانہ اور یک طرفہ فوجی حکمتِ عملی استعمال کی جس کا مقصد ہجوم کو منتشر کرنا نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔ مورخین اسے ’’قتلِ عام کے طریقہ کار پر مبنی آپریشن‘‘ کہتے ہیں۔ ڈائر جانتا تھا کہ جلیانوالہ باغ چاروں طرف سے دیواروں میں گھرا ہے۔ اندر صرف ایک تنگ راستہ ہے۔ لوگ ایک بار اندر آ جائیں تو واپس نکلنا مشکل ہوگا۔ اس نے اسی وجہ سے باغ کو ’’سبق سکھانے کے لیے بہترین جگہ‘‘ قرار دیا۔ ڈائر نے باغ میں داخل ہوتے ہی اپنی فوج کو دروازے کے آگے پوزیشن لینے کا حکم دیا۔

اس راستے کو بلاک کردیا۔ کسی شخص کو نہ اندر آنے دیا، نہ باہر نکلنے دیا۔ یہ اس حکمت عملی کا بنیادی حصہ تھا: ’’پھنساؤ، پھر مارو۔‘‘ عام فوجی ضابطہ یہ تھا کہ ہجوم کو منتشر ہونے کے لیے وارننگ دی جاتی تھی۔ ہوائی فائرنگ کی جاتی تھی۔ کم نقصان والے طریقے آزمائے جاتے تھے لیکن ڈائر نے وارننگ نہیں دی، منتشر ہونے کا وقت نہیں دیا، ہوائی فائرنگ نہیں کی بلکہ سیدھا حکم دیا: فائر! ڈائر نے فوجیوں کو کہا کہ وہ ایک ہی جگہ کھڑے نہ رہیں۔ ہجوم کی وہ سمتیں نشانہ بنائیں جہاں لوگ دیواروں کے ساتھ دبکے ہوئے تھے۔ گولیاں بھیڑ کے سب سے گھنے حصے میں چلائی جائیں۔ اس کا مقصد تھا: زیادہ لاشیں، کم زندہ بچنے والے۔

ڈائر نے فوجیوں کو آدھے دائرے کی شکل میں کھڑا کیا۔ سامنے کی صف براہِ راست فائر کیے گئے۔ دائیں طرف کے سپاہی بھاگتے ہوئے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بائیں طرف کے سپاہی دیواروں کے پاس دبکے لوگوں کو نشانہ بناتے رہے۔ یہ ایک باقاعدہ فائرنگ اسکوائر کی ٹیکنیک تھی۔ ڈائر نے خود اعتراف کیا کہ میں فائرنگ اسی لیے رکوایا جب میرے سپاہیوں کی گولیاں ختم ہونے لگی تھیں۔

یعنی مقصد صرف خوف پھیلانا نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ قتل تھا۔ حملے کے بعد بھی ڈائر نے کئی گھنٹے تک کسی کو زخمیوں تک جانے نہیں دیا۔ ڈاکٹرز، رشتے داروں، حتیٰ کہ ایمبولینس تک کو اندر جانے سے روکا گیا۔ اس کا مقصد تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ زخمی حالت میں مر جائیں۔ اس کا سیاسی مقصد پنجاب میں سبق سکھانا تھا۔ ڈائر سمجھتا تھا کہ لوگ رولٹ ایکٹ کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ امرت سر کی واپسی حرکتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس نے لندن میں بیان دیا کہ میں نے بغاوت کا دماغ توڑ دیا۔ اگر موقع ہوتا تو میں توپ بھی استعمال کرتا۔

جلیانوالہ باغ سانحہ کی تفتیش کے لیے برطانوی حکومت نے ’’ہنٹر کمیٹی / ہنٹر کمیشن‘‘ تشکیل دیا تھا۔ اس کمیشن نے جنرل ڈائر کے عمل کو ’’غلط، غیرضروری اور حد سے زیادہ‘‘ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی اسے سخت سزا بھی نہیں دی۔ یہی اس رپورٹ پر سب سے بڑا اعتراض تھا۔

کمیٹی کا مقصد پنجاب میں مارشل لا اور عوامی احتجاج کے واقعات کی تفتیش کرنا، جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائر کے اقدام کی وجوہات جانچنا، یہ دیکھنا کہ انگریزی فوج اور سول حکام نے قانون کے مطابق کام کیا یا نہیں۔ کمیٹی کے زیادہ تر ارکان انگریز تھے، اس لیے فیصلہ یک طرفہ سمجھا جاتا ہے۔ ہنٹر کمیٹی نے واضح کہا کہ ڈائر کا اقدام ناقابلِ جواز، امتحانی صورت حال میں بدترین فیصلہ، ایک افسوس ناک غلطی تھا۔ اس نے خاص طور پر درج کیا کہ ڈائر نے بغیر وارننگ براہِ راست فائرنگ کی۔

ہجوم میں عورتیں، بچے، بوڑھے موجود تھے۔ وہ انہیں منتشر ہونے کا موقع دے سکتا تھا۔ اس نے ضرورت سے کہیں زیادہ طاقت استعمال کی۔ یہ ایک بغاوت نہیں بلکہ پُرامن اجتماع تھا۔ ڈائر نے کمیٹی کے سامنے کہا کہ میں نے اخلاقی اثر کے لیے گولیاں چلائیں تاکہ لوگ سمجھ جائیں کہ انگریز سے بغاوت ممکن نہیں۔ ہنٹر کمیٹی نے اس سوچ کو سختی سے غلط اور غیرقانونی قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کسی فوجی افسر کو یہ حق نہیں کہ وہ عوام کو خوف میں رکھنے کے لیے قتلِ عام کرے۔ ڈائر کا یہ بیان کہ ’’میں اگر کر سکتا تو توپ سے نشانہ بناتا‘‘ قابلِ مذمت ہے۔

جنرل ڈائر کی سزا پر رپورٹ کا موقف وہ حصہ ہے جس پر پورے ہندوستان میں غم و غصہ پھیلا۔ ہنٹر کمیٹی نے کہا ڈائر کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ اس کے مستقبل کے عہدوں پر پابندی ہو مگر فوجی عدالت یا قاتلانہ جرم کی سزا دینے سے انکار کردیا یعنی ڈائر پر کوئی فوجداری مقدمہ نہیں ہوا۔ بعد میں انگریزوں نے اُسے پینشن کے ساتھ رخصت کردیا۔ لندن میں تو اسے ہیرو بھی کہا گیا اور چندہ جمع کیا گیا۔ ہنٹر رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل او ڈوائر نے بھی ضرورت سے زیادہ سختی روا رکھی۔ پنجاب پولیس نے عوام کے ساتھ زیادتی کی۔

مارشل لا میں بہت سے غلط اور غیرانسانی احکامات دیے گئے لیکن او ڈوائر پر بھی کوئی سزا عائد نہیں ہوئی۔ ہندوستانی اراکین نے رپورٹ کے ساتھ ایک علیحدہ اختلافی نوٹ لکھا۔ جس میں کہا کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر کیا گیا قتل عام تھا۔ ڈائر نے کوئی خوف نہیں ختم کیا، بلکہ انسانیت کو گولیوں سے چھلنی کیا۔ کمیٹی نے سزا نہیں دی، بلکہ ظلم کو تحفظ دیا۔ رپورٹ حقیقت سے بہت کم زور اور برطانوی مفادات کے مطابق ہے۔ یہ نوٹ تاریخی دستاویزات میں موجود ہے۔ ہندوستان میں لوگ اسے اندھا کمیشن کہتے رہے۔ گاندھی جی نے اسی کے بعد عدم تعاون تحریک تیز کی۔ بھگت سنگھ نے بھی اسے انصاف کا مذاق کہا۔ برطانیہ میں کچھ نے ڈائر کی تعریف کی۔ کچھ نے اسے برٹش امپائر کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔

شہید اُدھم سنگھ المعروف رام محمد سنگھ آزاد

شہید اُدھم سنگھ برصغیر کے ایک عظیم انقلابی مجاہدِ آزادی تھے، جنہوں نے جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کا بدلہ لے کر تاریخ میں اپنا نام امر کردیا۔ 26 دسمبر 1899ء سنم، ضلع سنگرور (مشرقی پنجاب، برطانوی ہندوستان) پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام شیر سنگھ تھا۔ انھیں 31 جولائی 1940ء، لندن میں پھانسی دے دی گئی۔ بچپن میں والدین کا سایہ اٹھ گیا، یتیم خانے میں پرورش پائی۔ جلیانوالہ باغ (1919ء) کے سانحے کے عینی شاہد تھے۔

اس واقعے نے انہیں برطانوی سامراج کے خلاف عملی جدوجہد پر آمادہ کیا۔ 13 مارچ 1940ء کو لندن کے کیکسن ہال میں جنرل ڈائر کو گولی مار کر قتل کیا۔ واقعے کے فوراً بعد خود گرفتاری دی۔ انھوں نے عدالت میں کہا، میں نے یہ قتل اپنے وطن کے مظلوموں کے لیے کیا ہے۔ اُدھم سنگھ کو آج شہیدِ اعظم اور جلیانوالہ باغ کا بدلہ لینے والا ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ بھارت میں ان کے نام پر سڑکیں، ادارے اور یادگاریں موجود ہیں۔

 شہید اُدھم سنگھ نے لندن کی عدالت میں ایسا تاریخی بیان دیا جو آج بھی آزادی کی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عدالت نے جب ان سے قتل کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا، میں نے یہ کام جان بوجھ کر کیا ہے۔ میں نے اس شخص کو اس لیے مارا کیوںکہ وہ میرے لوگوں کو مارنے کا ذمہ دار تھا۔ میں نے یہ قتل کسی ذاتی دشمنی میں نہیں بلکہ اپنے وطن کے مظلوموں کے لیے کیا ہے۔ ’’انہوں نے مزید کہا: مجھے اپنی سزا پر کوئی افسوس نہیں۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ میں اپنے ملک کے لیے اور زیادہ کچھ نہ کر سکا۔ جب جج نے ان سے رحم کی اپیل کے بارے میں پوچھا تو اُن کا جواب تھا کہ مجھے رحم نہیں چاہیے۔

میں نے وہی کیا جو ایک غلام قوم کا بیٹا کر سکتا تھا۔ اُدھم سنگھ نے خود کو رام محمد سنگھ آزاد کے نام سے متعارف کروایا۔ (رام = ہندو، محمد = مسلمان، سنگھ = سکھ، آزاد = ہندوستانی) یہ نام برصغیر کی مذہبی یکجہتی کی علامت تھا۔ اُن کا بیان برطانوی سام راج کے خلاف ایک اخلاقی فردِجرم تھا۔ انہوں نے عدالت کو بھی جدوجہدِ آزادی کا منبر بنا دیا۔ یہی بیان بعد میں انقلابی تحریکوں کے لیے حوصلے کا سبب بنا۔

 یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اُدھم سنگھ کو جنرل ڈائر کے قتل کے لیے لندن کسی نے نہیں بھیجا تھا۔ یہ فیصلہ اُن کا اپنا ذاتی اور انقلابی فیصلہ تھا۔ جلیانوالہ باغ (1919ء) کے بعد اُدھم سنگھ نے اکیلے بدلہ لینے کی قسم کھائی۔ وہ کسی سرکاری یا باقاعدہ انقلابی تنظیم کی طرف سے مشن پر بھیجے گئے ایجنٹ نہیں تھے۔

انہوں نے کئی برس مختلف ملکوں میں مزدوری اور چھوٹے کام کر کے پیسے جمع کیے۔ اسی ذاتی جدوجہد کے نتیجے میں وہ 1934ء میں لندن پہنچے۔ بعض مورخین کے مطابق اُدھم سنگھ غدر پارٹی کے نظریات سے متاثر تھے۔ مگر اس بات کا کوئی مستند ثبوت نہیں کہ غدر پارٹی یا کسی اور تنظیم نے انہیں خاص طور پر جنرل ڈائر کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ہو۔

عدالت میں بھی اُدھم سنگھ نے واضح کہا کہ یہ میرا ذاتی فیصلہ تھا، کسی تنظیم کا حکم نہیں۔ جنرل ڈائر کا قتل منصوبہ بند ضرور تھا، مگر انفرادی تھا۔ اُدھم سنگھ نے یہ عمل اپنے ضمیر اور قوم کے دکھ کے تحت کیا۔ شہید اُدھم سنگھ نے جنرل ڈائر کے قتل کی منصوبہ بندی جذباتی نہیں بلکہ طویل، خاموش اور منظم انداز میں کی۔ یہ ایک اکیلے شخص کی برسوں پر محیط تیاری تھی۔ وہ چوں کہ جلیانوالہ باغ قتلِ عام کے عینی شاہد تھے، اس لئے اسی دن انہوں نے دل میں عہد کیا کہ ذمہ دار شخص کو سزا دیں گے۔

یہ عہد وقتی غصہ نہیں بلکہ زندگی کا مقصد بن گیا۔ انھوں نے ہندوستان، افریقہ اور امریکہ میں مختلف مزدوریاں کیں۔ پیسے جمع کیے اور خود کو غیر مشکوک عام مزدور کے طور پر رکھا۔ انقلابی نظریات کا مطالعہ کیا، مگر کسی تنظیم کے براہِ راست حکم کے پابند نہیں رہے۔ خود اپنے وسائل سے 1933 لندن گئے۔ کئی برس خاموشی سے وہاں مقیم رہے۔ جنرل ڈائر کی حرکات، تقاریب اور عوامی ظہور پر نظر رکھی۔ انہیں معلوم ہوا کہ جنرل ڈائر 13 مارچ 1940ء کو لندن کے کیکسن ہال میں ایک اجلاس میں شریک ہوگا۔

یہی موقع انہوں نے حتمی دن کے طور پر منتخب کیا۔ ایک پستول خریدا۔ اسے کتاب کے اندر خفیہ طور پر چھپا لیا۔ داخلہ عام لوگوں جیسا رکھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ اجلاس ختم ہونے پر جنرل ڈائر کے قریب پہنچے۔ فوری طور پر گولیاں چلائیں۔ فرار کی کوشش نہیں کی۔ خود کو پُرسکون انداز میں گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ عدالت میں فخر سے ذمہ داری قبول کی۔

بھگت سنگھ اور شہید اُدھم سنگھ دونوں برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کے عظیم انقلابی تھے مگر ان کے درمیان تعلق کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ کوئی مستند تاریخی ثبوت موجود نہیں کہ بھگت سنگھ اور اُدھم سنگھ کی براہِ راست ملاقات ہوئی ہو۔ دونوں ایک ہی دور میں سرگرم تھے، مگر مختلف جگہوں اور حالات میں۔ اُدھم سنگھ کے لیے فکری تحریک بنے۔ اُدھم سنگھ بھگت سنگھ کو انقلابی ہیرو اور راہ نما سمجھتے تھے۔ بھگت سنگھ کی شہادت (1931) نے اُدھم سنگھ کے عزم کو مزید مضبوط کی۔ اُدھم سنگھ کا مقصد تاریخی ظلم کا حساب لینا تھا۔ دونوں کی منزل آزادی اور انصاف تھا۔ ایک علامتی رشتہ تو ضرور تھا۔ دونوں پنجاب سے تھے۔ دونوں نوجوانوں کے لیے مزاحمت اور قربانی کی علامت بنے۔ دونوں نے عدالت کو سام راج کے خلاف منبر بنایا۔

مقبول خبریں