رمضان المبارک میں روزے کے دوران بہت سے افراد کو اپنی فٹنس روٹین برقرار رکھنا مشکل لگتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ ہلکی ورزش کو معمول کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
درست وقت کا انتخاب اور متوازن غذا اس حوالے سے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فٹنس ٹرینر کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورزش ایسے وقت کی جائے جب معدہ زیادہ بھرا ہوا نہ ہو۔
افطار کے بعد ورزش کرنا ایک بہتر انتخاب ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ افطار ہلکی غذا سے کیا جائے، ورزش مکمل کرنے کے بعد بھرپور کھانا کھایا جائے تاکہ جسم پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
جو افراد صبح جلد بیدار ہونے کی عادت رکھتے ہیں وہ سحری سے پہلے بھی ورزش کرسکتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو خالی پیٹ ورزش کے عادی ہیں، افطار سے قبل بھی ہلکی جسمانی سرگرمی کرسکتے ہیں، تاہم اس دوران پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق روزے کے دوران توانائی برقرار رکھنے کے لیے غذا کے انتخاب پر خاص توجہ دینا چاہیے۔ سادہ کاربوہائیڈریٹس کے بجائے فائبر سے بھرپور غذائیں زیادہ فائدہ مند رہتی ہیں۔ چاول اور پاستا کے مقابلے میں سبزیاں اور سالم اناج دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں، جبکہ پٹھوں کی مضبوطی کے لیے پروٹین کا استعمال بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے گوشت، دالیں، لوبیا یا پروٹین شیک کو غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
روزے کے دوران جسم توانائی کے لیے ذخیرہ شدہ کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین استعمال کرتا ہے، جس کے باعث پٹھوں کی کمزوری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ہلکے وزن کے ساتھ ورزش یا باڈی ویٹ ایکسرسائز جیسے پش اپس، اسکواٹس اور سینے و کندھوں کی ہلکی ٹریننگ زیادہ موزوں رہتی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ رمضان میں تیز دوڑ یا جاگنگ سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جسم میں موجود گلائیکوجن تیزی سے ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس افطار سے پہلے ہلکی واک ایک محفوظ اور مؤثر سرگرمی ثابت ہو سکتی ہے، جو جسم کو متحرک رکھنے کے ساتھ ساتھ توانائی کے توازن کو بھی برقرار رکھتی ہے۔