قابل تصدیق یقین دہانی تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا، سینئر سیکیورٹی اہلکار

آپریشن کا دورانیہ مکمل طور پر زمینی حقائق اور عملی اقدامات پر منحصر ہوگا


ویب ڈیسک March 02, 2026

ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے واضح کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک افغان طالبان حکومت پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے قابل تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاملے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور آپریشن کا دورانیہ مکمل طور پر زمینی حقائق اور عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف عناصر کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور بچوں پر مسلط دہشت گردی کے تناظر میں دفاعِ خود کے زمرے میں آتے ہیں۔

بتایا گیا کہ اب تک 180 سے زائد چوکیاں تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے، جنہیں دہشت گرد لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

اہلکار نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات آپریشن کی پیش رفت سے متعلق مسلسل تفصیلات جاری کر رہی ہے اور مکمل شفافیت اختیار کی گئی ہے۔

ان کے مطابق افغان طالبان اور ان کے مبینہ سرپرست سوشل میڈیا اور سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، اس لیے تمام دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں اور کارروائیاں صرف ان عناصر کے خلاف ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث یا معاون ہیں۔ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، یہ افغان عوام کا داخلی معاملہ ہے۔

ایران کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ پاکستان متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح کیے ہیں، تاہم ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد ہے اور پاکستان اپنی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ملک گیر احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن احتجاج کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور شرپسند عناصر کو افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آخر میں سینئر سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں