سوشل میڈیا کے فوڈ ٹرینڈز وزن میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں؟

فوڈ ولاگز لوگوں کے ذہنوں میں خوراک سے متعلق نئے تصورات پیدا کر رہے ہیں


ویب ڈیسک March 05, 2026

دنیا میں مٹاپے کی بڑھتی شرح کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی، پراسیس شدہ خوراک کی آسان دستیابی اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔

تاہم جدید دور میں سوشل میڈیا بھی ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے جو ہماری روزمرہ غذائی عادات اور طرزِ زندگی پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’آج میں نے کیا کھایا‘ جیسے وی لاگز، انفلوئنسرز کے میل پلانز اور وائرل ڈائٹ چیلنجز لوگوں کے ذہنوں میں خوراک سے متعلق نئے تصورات پیدا کر رہے ہیں۔

فاسٹ فوڈ اشتہارات، بڑی مقدار میں پیش کیے جانے والے کھانے اور دلکش تراکیب کی مسلسل نمائش غیر صحت بخش انتخاب کو عام بناتی ہے اور غیر ضروری کھانے کی خواہش کو بڑھا دیتی ہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال جسمانی سرگرمی میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ گھنٹوں اسکرین کے سامنے وقت گزارنا نہ صرف حرکت میں کمی لاتا ہے بلکہ وزن میں اضافے اور مٹاپے کے خطرے کو بھی بڑھاتا ہے۔

ماہرین اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے کئی ڈائٹ پلانز، جیسے کیٹو، ڈیٹوکس کلینز، انتہائی وقفے وقفے سے فاقہ کشی یا صرف مائع غذا پر مشتمل منصوبے، اکثر سائنسی بنیاد کے بغیر پیش کیے جاتے ہیں۔ پیشہ ورانہ نگرانی کے بغیر ان پر عمل غذائی کمی، بے قابو کھانے کی عادت یا خوراک کے ساتھ غیر صحت مند تعلق کو جنم دے سکتا ہے۔

کریش ڈائٹس کے حوالے سے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ ابتدا میں وزن میں کمی نظر آتی ہے، لیکن یہ زیادہ تر پانی اور عضلات کی کمی ہوتی ہے۔ مناسب غذائیت نہ ملنے پر جسم میٹابولزم کی رفتار کم کر دیتا ہے، اور جیسے ہی معمول کی خوراک بحال ہوتی ہے، جسم تیزی سے چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے، یوں وزن دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر جسمانی ساخت کے غیر حقیقی معیار بھی دباؤ کا باعث بنتے ہیں، جہاں انتہائی دُبلی جسامت کو مثالی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ افراد کھانے کے امراض، جذباتی دباؤ اور غیر ضروری ڈائٹنگ کا شکار ہو سکتے ہیں، جو طویل المدتی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اگرچہ سوشل میڈیا بعض اوقات گمراہ کن معلومات پھیلا سکتا ہے، لیکن یہی پلیٹ فارم مستند غذائی رہنمائی، ماہرین تک رسائی اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے خواہش مند افراد کے لیے معاون کمیونٹیز کی تشکیل میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ صارفین معلومات کو تنقیدی نظر سے پرکھیں اور صحت سے متعلق فیصلے ماہرین کے مشورے سے کریں۔

مقبول خبریں