دستی اندراج کے معاملے پر ناظم امتحانات سے شیخ الجامعہ کی باز پرس

پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کاخفگی کااظہار،دستی اندراج کے دوبارہ احکامات جاری کردیے


Staff Reporter September 25, 2012
ناظم امتحانات نے موقف اختیارکیا کہ چونکہ امتحانی نتائج کے دستی اندراج میں زیادہ وقت درکارہوتاہے اور اسکے باعث نتائج میں تاخیر کاامکان تھا لہٰذا احکامات پرعمل نہ کیا جاسکا. فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹرمحمدقیصرنے نتائج کادستی اندراج نہ ہونے کامعاملہ دوبارہ سامنے آنے کے بعد ناظم امتحانات کوبلاکراس سلسلے میں باز پرس کی ہے۔

شیخ الجامعہ نے ناظم امتحانات ڈاکٹرارشد اعظمی کوبلاکراحکامات کے باوجود ڈگری کلاسز کے نتائج کے دستی اندراج نہ کیے جانے پرخفگی کااظہارکیا۔

دستی اندراج شروع کرنے کے ایک بار پھر احکامات جاری کیے ''ایکسپریس''کو یونیورسٹی ذرائع نے بتایاکہ جمعرات کوجب ناظم امتحانات ڈاکٹرارشد اعظمی نے شیخ الجامعہ سے ان کے دفترمیں ملاقات کی توشیخ الجامعہ نے ان سے اپنے سابقہ احکامات کے باوجود ڈگری کلاسز کے امتحانی نتائج کادستی اندراج نہ کیے جانے اور نتائج مینول ٹیبولیشن کے بغیر ہی جاری کردینے پر اپنی ناراضی کا اظہارکیا۔

اس موقع پرناظم امتحانات نے موقف اختیارکیا کہ چونکہ امتحانی نتائج کے دستی اندراج میں زیادہ وقت درکارہوتاہے اور اسکے باعث نتائج میں تاخیر کاامکان تھا لہٰذا احکامات پرعمل نہ کیا جاسکا، یادرہے کہ شعبہ امتحانات کے تحت ڈگری اور ایم اے کلاسز کے امتحانی نتائج دستی اندراج کے بغیر محض کمپیوٹرائز ٹیبولیشن کی بنیاد پر جاری کیے جانے کاسلسلہ سابقہ دورسے جاری ہے۔

تاہم شعبہ امتحانات میں شدید بے ضابطگیوں کی شکایات پر شیخ الجامعہ نے عہدے کاچارج سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد اس عہدے پرتبدیلی کرتے ہوئے موجودہ ناظم امتحانات کوتعینات کیاتھااور بعدازاں انھیں نتائج کے شفاف اجرا کے لیے دستی اندراج کرانے کے احکامات دیے تھے تاہم اس پرعملدرآمدممکن نہیں ہوسکاتھا۔