اسلام آباد:
سیکریٹری پیٹرولیم نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران سے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزارنے کی اجازت کے لیے بات کر رہے ہیں، آبنائے ہرمز سے اجازت مل جائے تو ہمارے چار جہاز کھڑے ہیں، ساتھ ہی روس سے تیل کی خریداری کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں شرکا کو سیکریٹری پیٹرولیم نے بریفنگ دی۔
سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ مشرق وسطٰی میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، اس وقت جہازوں کی آمد و رفت بند ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر پر پہنچ گئی ہے، پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر سے بڑھ کر 130 ڈالر ہو گئی ہے، عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دنوں میں مل جاتا ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ ذخائر کو بڑھا دیا جائے۔
سیکریٹری پیٹرولیم نے کہا کہ اب یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، وزیراعظم کی طرف سے قائم وزارتی کمیٹی روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم پیٹرول کی دستیابی ملک بھر میں ہے، خام تیل کے ذخائر 11 دنوں کے لیے، ڈیزل کے ذخائر 21 دنوں کے لیے اور پیٹرول ذخائر 27 دنوں کے لیے ہیں جو کہ کافی ہیں اسی طرح ایل پی جی کا 9 دن کا ذخیرہ ہے، جے پی ون کے ذخائر 14 دنوں کے لیے موجود ہیں۔
سینیٹر منظور احمد نے کہا کہ ملک میں 28 دنوں کے ذخائر موجود تھے تو ریٹ کیوں بڑھایا؟
سیکریٹری پٹرولیم نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے چار دن میں ہمارے تیل کے جہاز پہنچ رہے تھے، ریڈ سی سے ہمیں تیل منگوانے پر 12 دن لگ رہے ہیں، سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر حملہ ہوا تو پیداوار بند ہو سکتی ہے، آئی ایم ایف کی شرط یہ ہے کہ ہم کوئی سبسڈی نہیں دیں گے، ہفتہ وار بنیادوں پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ 7 مارچ سے پہلے تیل کی قیمتیں کیا تھیں اور ٹیکسز کیا تھے؟ 7 مارچ کے بعد قیمتیں کیا تھیں اور ٹیکسز کتنے بڑھے؟
سیکریٹری پٹرولیم نے کہا کہ جنگ سے پہلے خام تیل کی قیمت 72 ڈالر تھی، جنگ کے دوسرے دن خام تیل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل پر چلی گئی، اس وقت خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے، ڈیزل اور پٹرول کے دو ٹینکر آئے ہوئے ہیں، سیکریٹری پٹرولیم
سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ روسی تیل اس وقت پوری دنیا خرید رہی ہے آپ کیوں نہیں خرید رہے؟
سیکریٹری پٹرولیم نے کہا کہ ہم بھی روس سے تیل کی خریداری کی کوشش کر رہے ہیں، ایران سے آبنائے ہرمز سے تیل گزارنے کی اجازت کے لیے بات کر رہے ہیں، آبنائے ہرمز سے اجازت مل جائے تو ہمارے چار جہاز کھڑے ہیں۔
ڈی جی مائع گیس نے بتایا کہ قطر سے گیس کی سپلائی مکمل معطل ہوچکی ہے، موجودہ صورت حال میں ملک میں مقامی گیس کی پیداوار بڑھا دی گئی ہے، گیس کی ڈیمانڈ ابھی تک بجلی سے زیادہ نہیں آئی ہے، مارچ میں گیس کے 8 کارگوز میں سے 2 آگئے تھے، جنگ شروع ہونے کے باعث مارچ کے 6 کارگوز نہیں آ سکے، اپریل 6 کارگوز میں سے بھی 3 کارگوز نہیں آ سکیں گے، مائع ہمارے پاس 14 اپریل کے بعد گیس نہیں ہوگی۔
گیس حکام نے مارچ 2026ء کے لیے گیس کے ہنگامی سپلائی پلان پر بریفنگ دی اور بتایا کہ سسٹم گیس سپلائی 655 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 642 کرنے کا منصوبہ ہے، آر ایل این جی سپلائی 28 سے بڑھا کر 30 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کی تجویز ہے،
مجموعی گیس سپلائی 683 سے کم ہو کر 672 ایم ایم سی ایف ڈی متوقع ہے، گھریلو صارفین کے لیے گیس کا استعمال 399 سے بڑھا کر 420 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا پلان ہے، کمرشل سیکٹر کی گیس کھپت 10 سے کم کر کے 8 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کی تجویز ہے، پراسیس انڈسٹری کے لیے گیس 140 سے کم کر کے 120 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا منصوبہ ہے، پاور سیکٹر کو گیس کی فراہمی 18 سے بڑھا کر 20 ایم ایم سی ایف ڈی متوقع ہے، کھاد کے کارخانوں کے لیے گیس سپلائی 29 سے بڑھا کر 30 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا پلان ہے، کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس 82 سے کم کر کے 70 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کی تجویز ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایل این جی کی ڈیمانڈ بڑھی تو آذربائیجان کی کمپنی کے ساتھ بھی معاہدہ ہے، آذربائیجان سے ایل این جی تین گنا مہنگی ملے گی۔