ریٹائرڈ افسران یا اہل خانہ کو ایسی مراعات دینے کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان کے سابق چیف سیکرٹریز کو تاحیات مراعات کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا


ویب ڈیسک May 02, 2026
فوٹو فائل

وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان کے سابق چیف سیکرٹریز کو تاحیات مراعات کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان کے سابق چیف سیکرٹریز اور ان کی بیواؤں کو تاحیات اضافی مراعات دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان کی اپیل خارج کر دی ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری چار صفحات پر مشتمل حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے خلاف کیا گیا ہر حکومتی اقدام بلاجواز ہوتا ہے اور ریٹائرڈ افسران یا ان کے اہلخانہ کو ایسی مراعات دینے کی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن اور دیگر مراعات صرف قانون کے مطابق ہی دی جا سکتی ہیں اور اس حوالے سے قواعد بنانے کا اختیار صرف فنانس ڈیپارٹمنٹ کو حاصل ہے، جبکہ وزیر خزانہ یا چیف سیکرٹری کو اس بارے میں کوئی اختیار حاصل نہیں۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اضافی مراعات کی منظوری بھی خلافِ قانون ہے کیونکہ آئین صرف انہی اقدامات کی اجازت دیتا ہے جن پر کوئی قانونی پابندی نہ ہو۔

یاد رہے کہ بلوچستان حکومت نے سابق چیف سیکرٹریز اور ان کی بیواؤں کو تاحیات مراعات دی تھیں، جسے بلوچستان ہائیکورٹ پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی تھی، اور اسی فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت نے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔