اکثر لوگ ہنسی کو صرف خوشی کے اظہار تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ہنسنا دراصل ایک قدرتی علاج کی حیثیت رکھتا ہے جو جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنسی نہ صرف اداسی اور ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہے بلکہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے، اسی لیے اسے دل اور دماغ کے لیے بہترین ٹانک بھی قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق جب انسان ہنستا ہے تو دماغ میں ڈوپامائن اور اینڈورفن جیسے خوشی پیدا کرنے والے ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔ یہ ہارمونز فوری طور پر موڈ کو بہتر بناتے ہیں اور ذہنی تناؤ میں کمی لاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان خود کو زیادہ پُرسکون اور خوش محسوس کرتا ہے۔
طبی تحقیق کے مطابق ہنسنے کے دوران جسم میں آکسیجن سے بھرپور ہوا کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے جبکہ پٹھوں کو بھی سکون ملتا ہے۔ طبی ادارے کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب انسان دل کھول کر ہنستا ہے تو دل کی دھڑکن متوازن ہوتی ہے، سانس گہری ہو جاتی ہے اور جسم میں توانائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
ہنسی کا اثر صرف اندرونی صحت تک محدود نہیں رہتا بلکہ چہرے کی خوبصورتی پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک سادہ مسکراہٹ چہرے کے تقریباً 43 مسلز کو متحرک کرتی ہے، جس سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور جلد قدرتی طور پر زیادہ شاداب دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہنسی خون کے سفید خلیات کی پیداوار بڑھا کر جسم کی قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
تحقیقی ادارے یونیورسٹی آف سینٹ آگسٹائن فار ہیلتھ سائنسز کے مطابق ہنسنے سے خارج ہونے والے اینڈورفن اسٹریس ہارمونز کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، دل پر دباؤ میں کمی آتی ہے اور دل کے دورے یا فالج کے خطرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنسی کی تقریباً 40 مختلف اقسام ہوتی ہیں، جن میں ہلکی مسکراہٹ سے لے کر زور دار قہقہے تک شامل ہیں۔ ہر طرح کی ہنسی اعصاب اور پٹھوں میں ایک خاص ارتعاش پیدا کرتی ہے جو دماغ کو تازگی اور جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔
مزید برآں ہنسی قوتِ مدافعت کو بہتر بنا کر نزلہ، زکام اور فلو جیسی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ تنہائی یا بیماری کے باعث پیدا ہونے والے ڈپریشن کو کم کرنے، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور مشکل حالات میں امید اور مثبت سوچ کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر زندگی کو ایک ڈرامہ سمجھا جائے تو ہنسی اس کا پس منظر میں بجنے والا خوشگوار میوزک ہے۔ یہ عمر، موقع یا مقام کی پابند نہیں بلکہ ہر انسان کو یکساں خوشی فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین روزمرہ زندگی میں ہنسنے اور مسکرانے کی عادت اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ ایک اچھی ہنسی دل کے لیے اتنی ہی فائدہ مند ہو سکتی ہے جتنی جسم کے لیے ورزش۔