بیرون ملک مقیم افغان شہری بھی شریعت کے نام نہاد علمبردار طالبان رجیم کے غاصبانہ اقتدار کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ میں "ویمن فار افغانستان فاؤنڈیشن" کے اجلاس میں افغان طالبان کیخلاف سخت مؤقف سامنے آیا۔
افغان طالبان کے سیاسی و عسکری مخالفین نے اجلاس میں رجیم کی انتہا پسند پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر سخت ردعمل دیا۔
ویمن فار افغانستان فاؤنڈیشن کے اجلاس میں جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے مذہب کا سیاسی استعمال کرکے افغانستان کا سیاسی و سماجی ڈھانچہ تباہ کردیا۔
مزید برآں افغان طالبان کی جانب سےطاقت کے بےجا استعمال اور بنیادی انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق پر قدغنوں نے بحران کو مزید سنگین کردیا جبکہ افغانستان کی بگڑتی انسانی اور اقتصادی صورتحال، بڑھتی غربت اور عوامی مشکلات رجیم کی نااہلی کی دلیل ہیں۔
افغانستان کے مستقبل کا سیاسی نظام عوام کی مرضی ، جامع شمولیت اور جدید آئینی فریم ورک پر مبنی ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق داخلی مزاحمتی تحریکیں اور بیرون ملک احتجاج، طالبان کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور عوامی حمایت کی کمی کا عملی ثبوت ہیں۔