اقوامِ متحدہ سے منسلک ایک مبینہ سفارتکار کے مستعفی ہونے اور حساس معلومات لیک کرنے کے دعوے نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔
غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس سفارتکار نے الزام عائد کیا ہے کہ اقوام متحدہ ایران کے خلاف ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خدشات کے پیش نظر تیاریوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
لیک کرنے والے اہلکار نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا اس صورتحال کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہی، اور اگر کسی بڑے شہر جیسے تہران پر جوہری حملہ کیا گیا تو اس کے تباہ کن انسانی نتائج ہوں گے۔
اس نے زور دیا کہ تہران جیسے شہر میں تقریباً ایک کروڑ کے قریب آبادی رہتی ہے، جہاں عام شہری، خاندان اور بچے زندگی گزار رہے ہیں۔
مبینہ سفارتکار کے مطابق اس نے اس ممکنہ ’انسانیت کے خلاف جرم‘ کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور یہ معلومات دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی بڑے سانحے کو روکا جا سکے۔
اس نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور جنگ کے خطرے کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں افراد نے جنگی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ممکنہ تصادم اور جوہری خطرات پر تشویش رکھتی ہے۔
تاہم اس حوالے سے کسی بھی سرکاری یا مستند ذریعے نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی، اور نہ ہی اقوام متحدہ کی جانب سے ایسی کسی تیاری کی باضابطہ توثیق سامنے آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعووں کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے اور مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔