عید الفطر پر ریلیز ہونے والی فلم بُلھا کے حوالے سے جاری بحث پر پروڈیوسر نے وضاحت پیش کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عیدالفطر کے موقع پر ریلیز ہونے والی اس فلم بُلھا نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا کیونکہ یہ صرف ایک ایکشن فلم نہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف جدوجہد، روحانیت اور بیداری کی ایک کہانی ہے۔
فلم کی بنیاد عظیم صوفی شاعر بلھے شاہ کی تعلیمات سے متاثر ہے، جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے معاشرتی ناانصافی، طبقاتی فرق اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔
بُلّھے شاہ نے اپنے وقت میں الفاظ کے ذریعے بغاوت کی، وہیں بُلّھا اس فلسفے کو جدید انداز میں عملی جدوجہد کے ساتھ پیش کرتی ہے۔
فلم کے پروڈیوسر کے مطابق برائی کے خلاف مزاحمت کے تین درجے ہوتے ہیں پہلا، دل میں برائی کو جگہ نہ دینا، دوسرا، زبان کے ذریعے اس کے خلاف آواز اٹھانا اور تیسرا، عملی اقدام کے ذریعے اسے روکنا۔
انہوں نے بتایا کہ فلم میں ان تصورات کو نئے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بُلّھامیں دکھائے گئے ایکشن مناظر، طاقتور کردار اور شدید جذباتی مناظر محض تفریح نہیں بلکہ ایک علامتی اظہار ہیں اس حقیقت کا کہ ظلم کے خلاف لڑائی آسان نہیں ہوتی۔
پروڈیوسر نے کہا کہ یہ فلم ناظرین کو نئے انداز سے سوچنے، سوال اٹھانے اور معاشرتی مسائل پر بات کرنے کے حوالے سے ایک نئی سوچ دے سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ فلم صرف ایک سنیما تجربہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے ایک ایسا پیغام جو ناظرین کو نہ صرف دیکھنے بلکہ محسوس کرنے اور سوچنے پر بھی آمادہ کرتا ہے۔