تاریخ شاہد ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر کے جنگی جنوں کی تسکین اور تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہیں۔ جنگ میں شامل ہر دو فریق ایک دوسرے پر قابض ہونے، اپنا تسلط قائم کرنے اور اہداف کے حصول میں ناکامی کے امکانات دیکھتے ہیں تو پھر آخری حربہ جسے انگریزی اصطلاح میں (Face Saving) کہتے ہیں یعنی اپنی عزت بچانے کے لیے مذاکرات کی میز پر آجاتے ہیں۔
ایسے موقع پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی ضرورت پڑتی ہے جو دونوں فریق سے اپنے اچھے مراسم کو استعمال کرتے ہوئے جنگ رکوانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں جب بھارت نے پاکستان پر غیر ضروری طور پر جنگ مسلط کی تو اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی بہادر افواج نے بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ مودی سرکار کے اوسان خطا ہوگئے، اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منت سماجت کر کے پاکستان سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر جنگ رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے جارحیت کی تھی اور پاکستان نے اپنا دفاع، بالٓاخر صدر ٹرمپ کی ثالثی کے بعد پاک بھارت جنگ کا خاتمہ ہوا۔امریکا کے صدر ٹرمپ آج بھی بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی۔ وہ کھلے دل سے پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت بالخصوص وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور بروقت دانشمندانہ فیصلوں کی اعلانیہ تعریفیں کرتے ہیں۔
غالباً اسی پس منظر میں امریکا کے صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے اب دوست اور قابل اعتماد ملک پاکستان پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ثالثی کے کردار کو کھلے دل سے خوش آمدید کرتے ہوئے یہ امیدیں باندھی ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے جو دونوں فریق کو قابل قبول ہو۔ مذاکرات کی راہیں ہموار کرنے میں برادر ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر بھی پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون اور معاونت فراہم کررہے ہیں تاکہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ خلیج میں امن قائم ہو اور مشرق وسطی کے مستقبل کے حوالے سے اسرائیل کے مذموم ارادوں کے آگے بند باندھا جاسکے۔
پاکستان کی سیاسی و قومی قیادت نے باہمی تعاون و اشتراک سے بڑی ذہانت ، سمجھداری، حکمت اور بصیرت کے ساتھ سفارت کاری کے محاذ پر جان دار انداز میں پیش قدمی کی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جنگ کے منفی اثرات سے پاکستان میں پیدا ہونے والی بحرانی صورت حال سے بھی نبرد آزما ہیں تو دوسری جانب اسی خلوص و محنت کے ساتھ وہ امریکا ، ایران جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے بھی ٹیلی فونک سفارت کاری کے ذریعے امریکا، ایران، خلیجی ممالک کے سربراہوں، مصر، اردن، ترکیہ کی قیادت اور چین کے ساتھ مسلسل رابطوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے ثالثی کے اس کردار کو نہایت مثبت اور قابل تحسین انداز میں دیکھا اور سراہا جارہا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائم کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر امریکا ایران کشیدگی کم کرانے کی خفیہ سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اسلام آباد امریکا، ایران مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے۔ممکنہ ثالثی اور مذاکرات کی امید کے پیش نظر امریکا کے صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹ پر حملے مزید 10روز کے لیے موخر کردیے جو خوش آیند بات ہے لیکن دوسری جانب وہ مشرق وسطی میں اپنی فوج بھی بھیج رہے ہیں جس سے ان کے مستقبل کے عزائم کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ تمام تر کوشش اور دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام رہے ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے جنگ بندی کے لیے امریکا نے پاکستان کی معرفت ایران کو جو 15نکاتی فارمولا بھیجا ہے اسے ایرانی قیادت نے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور اپنی جانب سے جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کی ہیں دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر جنگ بندی چاہتے ہیں۔
امریکا کی خواہش ہے بلکہ بھرپور مطالبہ اور شرط ہے کہ ایران اپنی جوہری صلاحیتوں کو ختم کردے۔ جمع شدہ یورینیم اور دیگر ایٹمی مواد عالمی جوہری توانائی ایمبسی کے حوالے کردے اور آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی پابندی سے آزاد علاقہ قرار دیا جائے جب کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے حملے روکے جائیں، دوبارہ جنگ نہ کرنے کی ٹھوس ضمانت دی جائے، جنگ کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ، خلیج میں امریکی اڈے ختم کیے جائیں اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خود مختاری کو تسلیم کیا جائے۔ مذاکرات کسی بھی سطح پر ہوں کامیابی کا دارومدار لچک دار رویوں اور کچھ لو اور کچھ دو پر منحصر ہوتا ہے۔ امریکا بڑا ملک اور عالمی سپرپاور ہے اسے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ لچک دکھانا چاہیے اور ٹرمپ عالمی امن قائم کرنے اور جنگیں رکوانے کے وعدے کرتے ہیں۔ ایران جنگ کا آغاز امریکا نے کیا تھا اور ختم کرنے کا پہلا قدم بھی امریکا ہی کو اٹھانا چاہیے۔