یو این کو تالا لگاکرٹرمپ کا مواخذہ کریں

گالیوں والی ٹویٹ ٹرمپ کی ناکامی اور فرسٹریشن کا اظہار ہے۔


[email protected]

گالیوں والی ٹویٹ ٹرمپ کی ناکامی اور فرسٹریشن کا اظہار ہے۔ کیا اس مینٹلٹی کا حامل صدر اپنی دھمکیوں پر عمل کرکے دنیا کو عالمی جنگ کے جہنّم میں جھونک دے گا یا مواخذے کا سامنا کرے گا؟ ایران کب تک تباہی برداشت کرسکے گا؟ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بند ہوگی یا اس کی شدّت میں اضافہ ہوگا؟ ہر شخص اپنی زبان پر یہی سوالات لیے پھرتا ہے۔

 علامہ اقبال کونسل کی میٹنگز میں کبھی کسی شعبے کے ماہر (expert)کو گفتگو کے لیے مدعو کرلیا جاتا ہے۔ پرسوں ماہانہ میٹنگ تھی جس میں معروف سفارت کار میڈم رفعت مسعود کو مدعو کیا گیا۔ موصوفہ ایران میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں، فارسی روانی سے بولتی ہیں ، ایران اور ایرانی سوسائٹی کو بخوبی سمجھتی ہیں۔

انھوں نے حالیہ جنگ کے عوامل، ایران کی صلاحیّت اور اس خطے اور ملک پر جنگ کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سوال وجواب اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ امریکا کو ایران کے راہبر یا ان کی نیوکلیئر صلاحیت سے اتنا مسئلہ نہیں تھا، ان کا اصل ہدف ایران میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے، جو صدر ٹرمپ کا وطیرہ بن چکا ہے۔

عالمی قبضہ گروپ کا یہ سرغنہ، جہاں کسی کمزور ملک میں انرجی کے ذخائر دیکھتا ہے، اس کی رال ٹپک پڑتی ہے اور وہ کوئی بے بنیاد اور بوگس جواز تراش کر اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اِسی طرح امریکا نے صدام حسین پر WMD کا بے بنیاد الزام لگا کر عراق کو تباہ کیا، صدام حسین کو قتل کردیا اور عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلیا۔ یہی کام چنگیز خان اور ہلاکو خان کیا کرتے تھے اور اسی نظرئیے کا جھنڈا اٹھا کر ہٹلر پوری دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے۔ بلاشبہ آج کے ہلاکو خان اور ہٹلر ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں، اس لیے وہ کسی عزت و تکریم کے مستحق نہیں۔ سفیر صاحبہ نے بتایا کہ ایک بار عمران خان وزیراعظم کی حیثیّت سے ایران آئے تو راہبر سیّد علی خامینائی سے ملنے گئے، سفیر کی حیثیّت سے میں بھی ساتھ تھی۔

عمران خان نے راہبر سے پوچھا کہ ایران پر اس قدر پابندیاں ہیں کہ آپ تیل نہیں بیچ سکتے، بینک کے ذریعے کاروبار نہیں کرسکتے۔ مگر پھر بھی آپ کے ملک کا کاروبار بہت اچھا چل رہا ہے۔ یہ حوصلہ اور یہ استقامت آپ نے کہاں سے سیکھی ہے؟ اس پر سید علی خامینائی نے کہا ’’کشورِ اقبالؒ کے وزیراعظم کو یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ آپ اقبالؒ سے رجوع کریں، آپ کو اقبالؒ کے کلام سے حوصلہ بھی ملے گااور امید بھی، ہم نے بھی وہیں سے لیا ہے۔‘‘ 

شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ ایران نے جس حوصلے، جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ غیر معمولی اور بے مثال ہے، ان کی پوری قیادت ختم ہوگئی، سیکڑوں کمانڈر اور سائنسدان شہید ہوگئے مگر ان کا حوصلہ نہیں ٹوٹا، بے تحاشا قربانیوں اور بے اندازہ نقصانات کے باوجود ایرانی قیادت جنگ بندی کی بھیک نہیں مانگ رہی، ایران نے کسی ملک سے مدد نہیں مانگی۔ ایران میں اشیائے خوردونوش کی کمی واقع نہیں ہوئی۔ روزمرہ کی اشیاء مہنگی نہیں ہوئیں، دکاندار اور تاجر بے مثال ایثار کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کوئی ایرانی ملک چھوڑ کر نہیں گیا بلکہ بیرونِ ملک گئے ہوئے ایرانی بھی واپس آکر اپنے ملک کا دفاع کرنا چاہتے ہیں، یہ سب حقائق ایک بہادر اور حوصلہ مند قوم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس بات پر بھی اتفاق تھا کہ پورے عرب ممالک تو اسرائیل کے آگے لیٹے ہوئے ہی، لیکن اگر کوئی ملک صیہونی عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے تو وہ ایران ہے۔ ایرانی حکمران اگرچہ شیعہ مسلک سے رکھتے ہیں مگر ہمارے ملک کی 95% سنی آبادی کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔

ایران کی جرأت واستقامت سے پاکستان میں سنی شیعہ اختلافات کی شدّت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور دونوں فرقوں کے لوگ بھی اور ان کے علماء بھی ایران کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیّد علی خامینائی سمیت ایران کے مذہبی علماء بہت پڑھے لکھے ہیں۔ وہ اپنی تقاریر میں اللہ، رسول اللہ اور قرآن کا ہی ذکر کرتے ہیں اور اپنے جلوسوں میں اللہ اکبر کے نعرے لگاکر خالقِ کائنات کی عظمت کا اعلان کرتے اور خالق سے ہی مدد مانگتے ہیں، وہ دین پر مسلک کو حاوی نہیں ہونے دیتے اور متنازعہ باتیں نہیں کرتے اس لیے یہاں بھی خواص و عام کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی اور عقیدت کے جذبات موجزن ہیں۔

اس بات پر سب نے حیرانی اور تشویش کا اظہار کیا کہ اکیسویں صدی کی مہذّب اور ترقی یافتہ دنیا کے سر پنچ اور چوہدری ریاست ہائے متحدہ امریکا کا منتخب صدر ہزاروں میل دور ایک آزاد اور خودمختار ملک پر بلا جواز اور بلااشتعال حملہ کردیتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں، وہ ایران کی سیاسی قیادت اور چوٹی کے سائینسدانوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کردیتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ نہیں روکتا۔ وہ علاقے کے بدمعاش کی طرح اپنے سے کمزور مگر ایک آزاد ملک کے عوام کو گالیاں بھی دے رہا ہے اور ساتھ دھمکیاں بھی دے رہا ہے کہ تمہارے ملک میں بجلی پیدا کرنے والے پاور اسٹیشن تباہ کردوںگا، پل تباہ کردوںگا اور تمہارے ملک کو جہنم بنادوںگا۔مگر پھر بھی اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ ٹرمپ نے پوری دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم عملی طور پر آج بھی بارہویں اور تیرہویں صدی میں رہ رہے ہیں ۔

 اس نے بتادیا ہے کہ آج بھی دنیا پرMight is Right  ہی کا اصول چلتا ہے، میرے پاس طاقت ہے اس لیے جسے چاہوں قتل کردوں اور جس ملک پر چاہوں قبضہ کرلوں۔ ہے تو تلخ مگر حقیقت یہی ہے کہ ٹرمپ ہر روز ایسے جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جو جنگ کے دوران بھی جرائم سمجھے جاتے ہیں اور ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا ہیگ میں واقع ٹریبونل فاروار کریمنلز کے سامنے ٹرائل ہوتا ہے اور بہت سوں کو سزا بھی ہوچکی ہے۔ مگر کیا ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہوکو بھی وار کرائم ٹریبونل میں پیش کیا جائے گا؟ فی الحال تو اس کے امکانات نظر نہیں آتے۔ مگر کچھ حقائق کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکا میں کانگریس بھی موجود ہے، ایک طاقتور سینیٹ بھی ہے، سپریم کورٹ بھی ہے، مگر پورے سسٹم میں اتنی جان نہیں، کہ صدر کو تباہی کے راستے سے روک سکے۔

امریکی عوام کی واضح اکثریّت ٹرمپ کی ایران کے خلاف شروع کی جانے والی بلاوجہ اور بلا ضرورت جنگ کے خلاف ہے، ملک کے قومی سطح کے قائدین صدر کی ذہنی حالت پر شکوک و شہبات کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ’’ ٹرمپ دماغی طور پر غیر متوازن معلوم ہوتا ہے، ہمارا صدر اس طرح کے خطرناک بیان دے رہا ہے کہ کانگریس کو ان کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی۔‘‘ سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسٹر کے موقع پر امریکی صدر بے قابو ہوکر چیخ رہا ہے۔‘‘ سینیٹر مرفی نے کہا ہے کہ ’’میں کابینہ میں ہوتا تو ایسٹر کا دن ٹرمپ کو نااہل کروانے کے لیے 25ویں ترمیم پر مشاورت میں گزارتا۔‘‘ سینیٹر ٹم کین نے کہا ہے کہ ’’ٹرمپ کی طرف سے ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکیاں اور گالیاں شرمناک اور بچگانہ ہیں۔‘‘ تمام سیاسی لیڈروں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس جنگ میں جو چیز ہمیں واضح طور پر نظر آرہی ہے ،وہ کسی منصوبے اور دلیل کا فقدان ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ جھنجھلاہٹ اور فرسٹریشن میں اپنے فوجیوں کو لڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذہبی ٹچ دینے کی بھی کوشش کررہا ہے ، اسے عیسائیوں اور مسلمانوں کی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، نہ صرف ایران گرا نہیں بلکہ ایران نہ ڈرا ہے اور نہ جھکا ہے۔ امریکا بے پناہ نقصان اُٹھا رہا ہے، اس کا دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کا mylth  ٹوٹ چکا ہے۔ تنگ آئے ہوئے اسرائیلی عوام جنگ کے خالف مظاہرے کررہے ہیں، امریکا میں صدر کے مواخدے کی باتیں ہورہی ہیں۔ یورپی یونین امریکا کو چھوڑ چکی ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ایک فرسٹریٹڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرتے کرتے پوری دنیا کو جہنم میں نہ جھونک دے۔ اس کا خطرہ پوری طرح موجود ہے۔

یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ یو این او سمیت تمام عالمی ادارے حملہ آور کا ہاتھ روکنے اور کمزور ملکوں کی سرحدی خودمختاری کا دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، اس لیے تیسری دنیا کے تجزیہ کار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یو این او کو تالا لگا کر اس طرح کے غیر موثر اداروں کو ختم ہی کردیا جائے۔ ہماری میٹنگ میں بھی اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ یو این او سے نکل کر پاکستان ترکی اور چند دیگر ممالک عالمی سطح کی تنظیم بنائیں جس میں چین اور روس کوبھی شامل کیا جائے اور امریکا کے عوام اور ادارے اپنے جنونی صدر کا ہاتھ روکیں اور مواخذے کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔