ایران ، سائنس کی یونیورسٹیاں نشانہ کیوں؟

امریکا اور اسرائیل کے ڈرون خاص طور پر ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔



امریکا اور اسرائیل کے ڈرون خاص طور پر ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کی 30 یونیورسٹیاں تباہ ہوئی ہیں۔ امریکا کے ڈرون نے گزشتہ ماہ ایران کے شہر مینات میں طالبات کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا تھا۔ اس اسکول میں 9سال سے 19 سال تک کی عمر کی طالبات زیرتعلیم تھیں۔

اس حملے میں 200 کے قریب لڑکیاں جاں بحق ہوئیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے تو اس اسکول پر امریکا کے حملے سے انکار کیا اور حملے کا الزام ایران پر ہی عائد کیا مگر بعد میں آزاد ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی تھی کہ اس اسکول پر امریکا کا میزائل لگا تھا۔ ایران میں تقریباً 226 سے لے کر 400 یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے ہیں۔ ان میں کچھ یونیورسٹیوں کا تعلیمی معیار یورپ اور امریکا کی یونیورسٹیوں کے قریب قرار دیا جاتا ہے۔

ایران کی مشہور یونیورسٹیوں میں سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیکل سائنس کی یونیورسٹیاں ہیں۔ امریکا نے تہران میں قائم شریف یونیورسٹی پر حملہ کیا اور اس کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔ امریکا کے محققین کا کہنا ہے کہ تہران کی شریف یونیورسٹی کا معیار امریکا کی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے برابر ہے۔ امریکا نے اس کے علاوہ تہران کی ایک اور بڑی یونیورسٹی تہران سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی نشانہ بنایا اور اس کی تجربہ گاہوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔

قطر میں قائم الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکا نے گزشتہ جمعے کو Laser and Plasma Institute کو نشانہ بنایا، یہ انسٹی ٹیوٹ کمپیوٹر سائنس کی تحقیق کا نامور ادارہ ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کی وجہ سے تمام کلاس اور ریسرچ کا کام معطل ہے۔

اس بناء پر انسٹی ٹیوٹ کی عمارت خالی پڑی تھی، یوں کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر انسٹی ٹیوٹ کے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان ہوا۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ جون میں اسرائیل کے میزائل حملہ کا نشانہ اس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کے علاوہ ایٹمی سائنس دان محمد مہدی ترانچی بنے۔ اس انسٹی ٹیوٹ نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ وجوہات جاننے کے حق، تحقیق اور سوچنے کی آزادی (Reason Research Freedom of Thought ) پر حملہ ہے۔

امریکی میزائلوں نے ایک اور تہران سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں ریسرچ سینٹر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اسرائیل اور امریکا نے ایک اور انسٹی ٹیوٹ Pesteur Institute Downtown پر حملہ کیا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں انفیکشن ڈیزیزس ویکسینز کی تیاری، ایڈوانس ڈائیگنوسز اور بیالوجیکل پروڈکٹس کی تیاری کا کام ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت W.H.O کے ماہرین جو اس ایرانی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ کام کرتے تھے کا کہنا ہے کہ امریکی حملہ میں انسٹی ٹیوٹ کا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔

امریکا کے میزائلوں نے اسپتالوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی کئی یونیورسٹیوں کا معیار اتنا بلند ہے کہ دنیا بھر کی معیار کے اعتبار سے مرتب کردہ انڈکس میں یہ یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں تہران یونیورسٹی اور میڈیکل سائنس (T.U.M.S)، شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف تہران شامل ہیں۔ یہ یونیورسٹیاں براہِ راست امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں ہیں۔

گزشتہ دنوں اسرائیل کے میڈیا پر ہونے والے تجزیاتی پروگراموں میں ایران کی یونیورسٹیوں کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی وجوہات پر گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو میں بتایا گیا کہ ایران کی سائنس کی یونیورسٹیوں کا معیار بہت بلند ہے۔ خاص طور پر میڈیکل سائنسز، بیسک سائنسز، سوشل سائنسز، آرکیٹیکچر، انجینئرنگ، ایری گیشن کے شعبوں کی یونیورسٹیوں کا معیار بہت زیادہ بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے سائنس دانوں کے بین الاقوامی سائنسی جرائد میں ہر سال 50 ہزار کے قریب تحقیق پر مشتمل سائنسی آرٹیکل شائع ہوتے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کے جاسوسوں نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران سیاست دانوں اور فوجی افسروں سے زیادہ سائنس دانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی مختلف یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں کام کرنے والے بہت سے سائنس دان ان حملوں میں شہید ہوئے۔ ان حملوں میں شہید ہونے والے سائنس دانوں میں سب سے نمایاں محسن فخری زادہ تھے جن کا شمار دنیا کے ممتاز ایٹمی سائنس دانوں میں ہوتا تھا۔ فخری زادہ کو 27 نومبر 2020ء کو تہران کے قریب نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد متعدد سائنس دان مختلف حملوں میں جاں بحق ہوئے۔

امریکا اور اسرائیل کی ان یونیورسٹیوں کو تباہ کرنے، سائنس دانوں اور ریسرچرز کو ہلاک کرنے کی پالیسی اور طالبان کی لڑکیوں کے اسکولوں کو تباہ کرنے کی پالیسی میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔ طالبان 1996ء میں منظم ہوئے۔ طالبان نے جب کابل پر قبضہ کیا تو انھوں نے طالبات کی تعلیم پر مکمل پابندی لگا دی ۔

پاکستانی طالبان نے پختون خوا اور بلوچستان کے پختون علاقوں میں طالبات کے اسکولوں کو ایک باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنانا شروع کیا۔ سابق قبائلی علاقوں اور سوات میں سیکڑوں اسکولوں کی عمارتوں کو بموں کے دھماکوں میں مسمار کیا گیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ سوات کی بچی ملالہ یوسفزئی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر قاتلانہ حملہ کا شکار ہوئی ۔ طالبان کے بارے میں تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ گروہ رجعت پسندی کا شکار ہے اور طالبان صدیوں پرانا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں مگر امریکا اور اسرائیل کے خاص طور پر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے پس پشت ایک خاص سوچ موجود ہے۔

اگرچہ شہنشاہ ایران کے دور میں ایران میں شہری انفرااسٹرکچر کا معیار خاصا بلند تھا۔ جدید سڑکیں، سیوریج کا نظام، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی خاصی تعداد موجود تھی مگر ان یونیورسٹیوں میں علی شریعتی جیسے دانشور پیدا ہوئے جنہوں نے نوجوانوں میں شعور پیدا کیا اور انھیں جدوجہد کا راستہ دکھایا ۔ ایک وقت تھا جب ایران کی یونیورسٹیاں شہنشاہ ایران کے خلاف مزاحمت کے مراکز میں تبدیل ہوگئیں۔ ایران میں ایک مذہبی حکومت قائم ہوئی۔ ایران میں یونیورسٹیوں کے کردار میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔

ایران کی اسلامی حکومت نے یونیورسٹیوں سے باغیوں کی تو تطہیر کی مگر معیار تعلیم کو بلند کرنے پر پوری توجہ دی گئی۔ معروف سائنس دان ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک میں صرف ایران کا تعلیمی معیار اسرائیل اور امریکا کی یونیورسٹیوں کے قریب تر ہے۔ ایران کے ان سائنس دانوں نے دفاعی ٹیکنالوجی کے علاوہ میڈیکل ٹیکنالوجی میں بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیق کی ہے۔ چین اور روس کے ماہرین نے اس تحقیق میں ایران کے سائنس دانوں کی رہنمائی تو کی ہے مگر دفاعی انفرااسٹرکچر کا سارا نظام ایرانی سائنس دانوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

 سماجی تحقیق کے پروفیسر ڈاکٹر عرفان عزیز کا کہنا ہے کہ ایران نے سائنس میں ترقی کر کے اسرائیل اور امریکا کا مقابلہ کیا ہے اور سائنس میں ترقی کی بنیاد تحقیق کا اعلیٰ معیار ہے۔ اسرائیل اور امریکا، ایران کو سائنس کے میدان میں شکست دے کر خاص طور پر یونیورسٹیوں کو تباہ کر کے اسے پتھر کے زمانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا نے ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت گزشتہ 10 برسوں کے دوران ایران کے سائنس دانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا مگر ایران کے سائنس دانوں کے عزائم میں کمی نہیں آئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ میں حماس کو فراہم کردہ ٹیکنالوجی میں بھی ایران کے ماہرین کا خاصا حصہ ہے۔ اسی طرح لبنان میں حزب اﷲ کو نئی ٹیکنالوجی سے آشنا کرنے میں بھی ایران کے ماہرین کا کردار رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے مارچ میں شروع ہونے والی جنگ میں خاص طور پر یونیورسٹیوں اوراسپتالوں کونشانہ بنانا شروع کیا۔

 جنیوا کنونشن کے تحت تعلیمی اداروں اوراسپتالوں پر حملہ جنگی جرائم قرار دیا گیا ہے مگر صدر ٹرمپ جنگی جرم کا فخر سے اقرار کر رہے ہیں۔ امریکا، ایران میں یونیورسٹیوں کو تباہ کرکے ایران کو پتھر کے زمانہ میں دھکیلنے کا پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر یہ پالیسی ناکام ہوگی۔ صدر ٹرمپ کو اس صورتحال پر ضرور نوبل پرائز ملنا چاہیے۔