سندھ حکومت ٹیکس دینے والے شہر میں عالمی اداروں سے قرض لے کر منصوبے بنارہی ہے، ایم کیو ایم

عوام کو دھوکا دینے کیلیےسندھ میں نظام چل رہا ہے، عالمی اداروں سے ملنے والے پیسوں کا آڈٹ کیا جائے، متحدہ اراکین اسمبلی


نعیم خانزادہ April 11, 2026
فوٹو فائل

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کیلیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی اداروں کے فنڈز والے منصوبوں پر تختیاں لگاکر عوام کو دھوکا دے رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے مرکزی شاہراؤں کی ٹوٹ پھوٹ اور سندھ حکومت کی نمائشی سیاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی اداروں کے فنڈز سے بننے والے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد سے جاری بیان میں متحدہ اراکینِ اسمبلی نے  کہا کہ کراچی کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر سندھ حکومت کے اپنے بجٹ سے نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں سے لئے گئے قرضوں اور گرانٹس کے مرہونِ منت ہے۔

انہوں نے کاہ کہ قرض کی پیالی اور اپنی واہ واہ کے مصداق سندھ میں یہ نظام چل رہا ہے، ملک کو پالنے والے شہر کے ساتھ یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ کام عالمی بینک اور ایشین بینک کے پیسوں سے کام ہو رہا ہے جس کا بوجھ بھی بالآخر اسی عوام نے مزید ٹیکس کی صورت میں اتارنا ہے لیکن سندھ حکومت کے وزراء اس پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے یہ ان کا ذاتی کارنامہ ہو۔

متحدہ کے اراکین اسمبلی نے سوال اٹھایا کہ کراچی سے جمع ہونے والے اربوں روپے کے ٹیکس اور سندھ حکومت کا اپنا سالانہ ترقیاتی بجٹ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ اگر مرکزی شاہراؤں کے چند کلومیٹر کے لئے بھی عالمی اداروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو صوبائی خزانہ کس کی جیب میں جا رہا ہے؟

اراکین نے مزید کہا کہ حکومت کاغذی شیر بننے کے بجائے ان منصوبوں کی شفافیت پر توجہ دے، عالمی اداروں کے فنڈز سے بننے والی سڑکوں پر تختیاں لگانے کی دوڑ تو لگی ہوئی ہے لیکن ان منصوبوں میں ہونے والی تاخیر اور معیار پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے اور نام نہاد مقامی، سندھ حکومت کی اپنی کارکردگی صرف ان گڑھوں تک محدود ہے جو ہر شاہراہ پر موجود ہیں اور میڈ ان سندھ گورنمنٹ کا اصل اشتہار ہیں۔

اراکینِ سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ عالمی بینکوں سے ملنے والے فنڈز کا آڈٹ کیا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ ان اداروں سے لی گئی رقم کا کتنا حصہ واقعی زمین پر لگا اور کتنا کمیشن مافیا کی نذر ہو گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ صرف رنگ و روغن اور تختیوں سے مطمئن نہیں ہوں گے انہیں معیاری اور پائیدار انفراسٹرکچر چاہیے۔