کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود ویکسین سے متعلق منفی رجحانات میں کمی نہیں آئی، مصطفیٰ کمال

اعتماد کی بحالی کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے اور اور نتائج پر مبنی اقدامات کو یقینی بنایا جائے، مصطفیٰ اقبال


ویب ڈیسک April 14, 2026
فوٹو: فائل

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود عوامی رائے میں ویکسین کے حوالے سے منفی رجحانات میں کمی نہیں آئی۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ یونیسف کی جانب سے کروڑوں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود ویکسین سے متعلق منفی رجحانات برقرار ہیں۔ آگاہی مہم کا اصل مقصد ویکسین سے انکار کرنے والوں کی شرح میں کمی لانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین کے حوالے سے عوام کے ذہنوں سے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان کے نام پر خرچ ہونے والے کروڑوں ڈالر ہمارے کندھوں پر بوجھ ہیں، ان فنڈز کا درست اور مؤثر استعمال ریاست اور وزارتِ صحت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔حقیقی معنوں میں ہیلتھ کیئر کا مقصد لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے۔ عوام کو بیماریوں سے بچانے کیلئے وزارت صحت خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ فنڈز کے درست استعمال سے نہ صرف مثبت تبدیلی ممکن ہے بلکہ ویکسین سے متعلق منفی رجحانات کا خاتمہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ویکسین سے متعلق عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے اور شفافیت، احتساب اور نتائج پر مبنی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔