عظمیٰ بخاری نے صوبائی وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی کے ہمراہ پنجاب اسمبلی میں مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی غذائی ضروریات کا بڑا حصہ پنجاب پورا کرتا ہے اور رواں سال بھی گندم کی بہترین پیداوار حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے مریم نواز پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور مختلف سروے رپورٹس بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "مریم کی دستک" جیسے منصوبوں سے عوام کو براہ راست سہولیات مل رہی ہیں جبکہ صوبے میں ماحول دوست گرین بسیں چل رہی ہیں اور اپریل کے آخر تک مزید 100 نئی بسیں شامل کی جائیں گی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کچھ عناصر گندم کے حوالے سے منفی پراپیگنڈا کر رہے ہیں، تاہم حکومت کام پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں فری میٹرو بس سروس شروع کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب عاشق حسین کرمانی نے بتایا کہ اس سال 22.5 ملین ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے اور گزشتہ تین سال سے پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بہتر قیمت ملنے سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا، جبکہ سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پہلی مرتبہ کسانوں کو 6 ارب روپے مالیت کا معیاری باردانہ مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جس کی تقسیم شروع ہو چکی ہے۔ کسان اپنے قریبی مراکز پر رجسٹریشن کے بعد فی ایکڑ 25 من باردانہ حاصل کر سکیں گے۔
صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ مارچ میں درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے گندم کو خطرہ لاحق ہوا تھا، تاہم بعد میں موسم بہتر ہونے سے فصل سنبھل گئی۔ بارشوں اور ژالہ باری سے صرف 2 سے 3 فیصد تک نقصان ہوا ہے اور متاثرہ کسانوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باردانہ کی تقسیم مکمل شفافیت سے ہوگی، کسی سفارش کی گنجائش نہیں ہوگی اور کسان کارڈ ہولڈرز کو ترجیح دی جائے گی۔ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی گندم خریدنے کی اجازت دی گئی ہے بشرطیکہ 3500 روپے فی من قیمت ادا کی جائے۔
عاشق کرمانی نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فی ایکڑ 20 ہزار روپے دیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 20 ارب روپے امداد فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو اکیلا نہیں چھوڑے گی اور زرعی شعبے کی بہتری کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔