مسلم حکمران ایک نہ ہوئے تو استعمال ہونگے اور اپنے وسائل کے مالک نہیں رہیں گے، مولانا فضل الرحمان

 امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لئے پاکستان کی میزبانی پاکستان کا اعزاز ہے، ایرانی سفیر سے گفتگو


ویب ڈیسک April 15, 2026

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی توقع، مستقبل امن کی تمنا کے ساتھ اسلامی بلاک کا قیام ہماری خواہش ہے، مسلم حکمران ایک نہ ہوئے تو استعمال ہوتے رہیں گے اور اپنے وسائل سے بھی محروم ہوں گے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے  وفد کی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد ہوئی جہاں دونوں شخصیات کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے اثرات ، مضمرات سمیت اہم امور پر تفصیلی نشست ہوئی۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کے بارے میں مولانا فضل الرحمان کے جاندار موقف پر ایرانی قوم کی طرف سے شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لئے پاکستان کی میزبانی پاکستان کا اعزاز ہے، جنگ بندی کی توقع اور مستقل امن کی تمنا کے ساتھ اسلامی بلاک کا قیام ہماری تمنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی بلاک جمعیت علماء کے منشور کا حصہ ہے کیونکہ آج کے حالات سے اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہیےکہ وحدت کے بغیر ہم ہمیشہ استعمال ہونگے اور ہم اپنے وسائل کے خود مالک نہیں رہیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلامی ممالک کی خود مختاری کا احترام اور فلسطین کی آزادی ہماری مدنظر ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلم اُمّہ کا مل بیٹھ کر مضبوط قوت سے مسائل کو حل کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

سربراہ جے یو آئی کا مزید کہنا تھا کہ قبلہ اول بیت المقدس کا تحفظ اور اسرائیل کے ناجائز قبضے سے آزاد کرانا ہر مسلمان اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔

اس موقع پر ایرانی سفیر نے مولانا فضل الرحمان کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ امریکی جارحیت کے مقابلے میں جمعیت علماء اور مولانا فضل الرحمان سمیت پاکستانی عوام کا ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ایرانی سفیر  نے کہا کہ پاکستانی عوام ،علماء اور مختلف طبقہ فکر کا مضبوط اور متوازن موقف قابل تحسین ہے۔

اس ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، سنیٹر کامران مرتضٰی، محمد اسلم غوری، مولانا اسجد محمود، مفتی ابرار شریک تھے۔