ایچ ای سی نے ملک بھر کی یونیورسٹیز میں ضمنی کیمپسز قائم کرنے پر پابندی عائد کردی

حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں ایچ ای سی کی جانب سے  ریگولیٹری کارروائی کرے گی، خط


ویب ڈیسک April 15, 2026

اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے سندھ سمیت پورے ملک میں یونیورسٹی میں اضافی ضمنی کیمپسز کے قیام اور فعالیت پر پابندی عائد کردی ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے سندھ سمیت پورے ملک میں قائم یونیورسٹیز میں اضافی کیمپسز کے قیام پر پابندی عائد کردی، اس پابندی کو تحصیل کی سطح پر یونیورسٹی سب کیمپسز کے قیام اور آپریشن پر پابندی کا نام دیا گیا ہے۔

اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے کہا کہ ایسے کیمپسز کے لیے زمین کا حصول، تعمیرات، داخلے ، تدریس اور فعالیت نہ کی جائے،  اس سلسلے میں چیئرمین اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے ملک بھر کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز/ریکٹرز کو ایک خط کے ذریعے آگا کردیا ہے۔

15 اپریل کو جاری کیے گئے اس خط میں وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس 2002 کے تحت اپنے قانونی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تحصیل کی سطح پر قائم یا کسی مجوزہ سب کیمپسزکی اب اجازت نہیں ہوگی یہ فیصلہ ان کیمپسز اور ان کی فیکلٹی کی تعلیمی استعداد، انتظامی صلاحیت کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ان کیمپسز کے معائنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تحصیل کی سطح کے سب کیمپسز عموماً اسٹریکچر میں کمزور اور تعلیمی بنیادوں نا پائیدار ہوتے ہیں ایسے کیمپسز کو پی ایچ ڈی اساتذہ کی تقرریوں اور انھیں جاری رکھنے میں مشکلات رہتی ہیں یہاں طلبہ کی تعداد محدود اور ڈگری پروگرامز کی افادیت محدود ہوتی ہے جبکہ معیاری اعلیٰ تعلیم کے لیے درکار تجربہ گاہوں، تکنیکی، رہائشی اور تعلیمی سہولیات کا فقدان ہوتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورتحال میں اب کوئی بھی یونیورسٹی یا اسناد تفویض کرنے والا ادارہ تحصیل کی سطح پر کسی نئے سب کیمپس کا قیام، اس کی تشہیر، آغاز، فعالیت یا منظوری حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔

اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان ایسے کسی کیمپس کے لیے این او سی، منظوری، ایکریڈیٹیشن یا اسناد کی توثیق نہیں کرے گا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی منظوری، نوٹیفکیشن، جامعات کی سنڈیکیٹ یا سینیٹ کا فیصلہ یا انتظامی حکم  اگر ایچ ای سی کی پیشگی منظوری کے بغیر سامنے آیا تو یہ اقدام ریگولیٹری مقاصد کے لیے کالعدم تصور ہوگا اور اس کی کوئی تعلیمی حیثیت نہیں ہوگی۔

خط میں جامعات کو مزید پابند کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تحصیل سطح کے سب کیمپسز سے متعلق تمام زیر التواء دستاویزات یا درخواستیں فوری طور پر معطل تصور ہوں گی لہذا ایسے کیمپسز کے لیے داخلہ، تشہیر، فیکلٹی کی بھرتی، زمین کا حصول، خریداری یا تعمیراتی سرگرمی شروع نہیں کی جائے گی اور عدم تعمیل کی صورت میں ایچ ای سی کی جانب سے  ریگولیٹری کارروائی کی جاسکتی ہے جس میں کیمپس اور اس کے تعلیمی پروگرامز کی عدم منظوری، منظوریوں کی معطلی، اور قانون کے تحت دیگر اقدامات شامل ہوں۔