وزیر خزانہ سینیٹ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا سپلائی شاکس ہے، حکومت اس بحران سے نمٹنے کیلیے کمزور طبقات کو ریلیف دے رہی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کی زیر صدارت مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان میناپ (MENAP) خطے کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینک کے گورنرز اور علاقائی مالیاتی اداروں کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کو حالیہ تاریخ کے بڑے سپلائی شاکس میں سے ایک قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ بحران کے ابتدائی اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے درآمدی حکمت عملی، قیمتوں کے نظام اور لاجسٹکس میں ایڈجسٹمنٹ کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
سینیٹر اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت وسیع پیمانے کی سبسڈیز کے بجائے مخصوص طبقے کی معاونت کی طرف بڑھ رہی ہے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر بحران کے دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں مہنگائی، معاشی ترقی، برآمدات، ترسیلات زر اور کرنٹ اکاؤنٹ شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے مضبوط پالیسی بنیادوں کے ساتھ اس عالمی غیر یقینی صورتحال میں قدم رکھا ہے اور ماضی کے جھٹکوں، خصوصاً حالیہ سیلابوں سے اہم سبق سیکھے ہیں۔
انہوں نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ضروری پالیسی تبدیلیاں ذمہ داری سے کی جائیں گی اور معاشی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اختتام پر وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی قیادت کے مسلسل تعاون اور روابط پر شکریہ ادا کیا۔