11 سالہ اریب اعجاز قتل کیس میں مجرم کی عمرقید کی سزا برقرار

عدالت نے ریمارکس دیے زینب قتل کیس سے ملتاجلتا کیس ہے، اس میں بھی سی سی ٹی وی فوٹیج سے مجرم پکڑا گیا تھا


ویب ڈیسک April 16, 2026

11 سالہ اریب اعجاز قتل کیس میں مجرم کی بریت کی اپیل پر مجرم ذولفقارخان کی عمرقید کی سزا برقرار ہے جب کہ ،سپریم کورٹ نے مجرم زولفقارخان کی عمرقید کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی۔

کیس کی سماعت کے دوران  جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیےگیارہ سالہ بچہ قتل کردیا، دشمنی بھی کوئی نہیں، بچے کےساتھ زیادتی بھی ہوئی، زیر تعمیر جگہ سے بچے کی لاش برآمد ہوئی، تشدد کے چھ نشانات ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔

ڈی این اے فارنزک رپورٹ بھی خلاف ہے، وقت وفات سے پوسٹمارٹم تک کا وقت مشکل ہوتاہے،پوسٹمارٹم میں لاش کا درجہ حرارت، خون کا جمنا، آنکھوں پر گرمی سردی کا اثر دیکھنا ہوتاہے، مجرم کے وکیل نے کہا مقتول کے وفات پانے کی وجہ نہیں دی ہوئی ڈاکٹر نے مقتول کے حوالے سے فریکچر نہیں لکھا۔

عدالت نے ریمارکس دیےہرکسی کی انگریزی آپکی طرح نہیں ہوتی،کچھ میری طرح بھی ہوتےہیں جو فریکچر کی جگہ بریکیج لکھ دیتےہیں۔

وکیل نے کہا تین روز بعد لاش برآمد ہوئی جس کے بعد ملزم کو گرفتار کیاگیا، عدالت نے ریمارکس دیے ہوسکتا ہے پہلے بچے کو رکھا ہو، پھر قتل کیا ہو، بچے کو کدھر بند رکھا، یا مجرم کو معلوم ہے یا رب کو،ایسے کیس میں مدعی پر قیامت گرتی ہے، کبھی تھانہ، کبھی کچہری، کبھی تفتیش سے گزرنا ہوتاہے۔

مجرم کے وکیل نے بتایاباپ نے بچے کی لاش کو نہیں دیکھا، عدالت نے ریمارسکس دیے  باپ نے اپنے بچے کا جنازہ تو پڑھاہے، قاتل بڑھ چڑھ کر مقتول کے جنازے میں حصہ لیتاہے،  ایک کیس میں قاتل نے مقتول کا جنازہ خود پڑھایا، پھر جنازے میں دعا کی کہ اللہ ملزم کو غرق کردے، بعد میں معلوم ہوا کہ مقتول کا جنازہ پڑھانے والا ہی قاتل تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیے زینب قتل کیس سے ملتاجلتا کیس ہے، اس میں بھی سی سی ٹی وی فوٹیج سے مجرم پکڑا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے مجرم زولفقارخان کی عمرقید کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی مجرم زولفقارخان کے خلاف 2020 میں 11سالہ بچے اریب اعجاز کے خلاف راولپنڈی میں مقدمہ درج کیاگیا تھا۔