آبنائے ہرمز کھلنے کے محض 24 گھنٹوں بعد ہی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور ایران نے تیل کی اس اہم ترین آبی گزرگاہ کی دوبارہ بندش کا اشارہ دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کی ہے۔
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنکے بقول فائرنگ کا یہ واقعہ آبنائے ہرمز عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 20 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا۔ آئل ٹینکر اور عملہ محفوظ ہیں، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب شپنگ مانیٹرنگ گروپ ٹینکر ٹریکر نے دعویٰ کیا ہے کہ دو بحری جہازوں جن میں سے ایک بھارتی پرچم بردار سپر ٹینکر بھی شامل تھا کو ایرانی گن بوٹس نے نشانہ بنایا اور واپس جانے پر مجبور کیا۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوسرا آئل ٹینکر بھی بھارت سے منسلک تھا اس طرح دو بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم بھارت کی جانب سے تردید یا تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک اور واقعے میں ایک بڑا خام تیل بردار جہاز، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لے جا رہا تھا، بھی متاثر ہوا۔ اس دوران وارننگ کے طور پر فائرنگ بھی کی گئی۔
مزید برآں رائٹرز نے بھی شپنگ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کم از کم دو تجارتی جہازوں نے بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں کچھ جہازوں کو ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔
قبل ازیں پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو اس راستے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب اُس وقت تک ایران کی مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا۔
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں امریکی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کو بحری قزاقی اور غیرقانونی اقدام قرار دیا تھا۔