انٹر داخلہ پالیسی کو محکمہ تعلیم اور پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنالیا

طلبا سے پولیس اور محکمہ تعلیم کاعملہ نذرانہ وصول کر رہا ہے


Safdar Rizvi August 19, 2014
انٹر میں داخلے کے لیے جمع کرائے گئے آن لائن فارموں کی خامیاں درست کرانے کے لیے طلبا کی بڑی تعداد سیکریٹری تعلیم کے دفتر تغلق ہاؤس میں جمع ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

انٹر کی نئی آن لائن داخلہ پالیسی کو محکمہ تعلیم کے عملے اورسندھ سیکریٹریٹ کے پولیس اہلکاروں نے آمدنی کا ذریعہ بنالیا۔

آن لائن داخلوں کے لیے جمع کرائے گئے فارموں کی خامیاں درست کرانے سیکڑوں طلبہ و طالبات روزانہ محکمہ تعلیم کے آئی ٹی سیکشن پہنچ رہے ہیں جہاں بدانتظامی کے سبب طلبہ و طالبات کومشکلات کا سامنا ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی کے سرکاری کالجوں میں انٹر کے داخلوں کے خواہشمند طلبہ و طالبات آن لائن داخلہ پالیسی کی خامیاں درست کرانے کے لیے روزانہ سندھ سیکریٹریٹ جارہے ہیں،جہاں وہ اپنے جمع کرائے گئے آن لائن داخلہ فارم میں پیش آنے والی خامیوں کے حل کے لیے محکمہ تعلیم کے آئی ٹی سیکشن کا رخ کررہے ہیں۔

ہزاروں طلبہ و طالبات محکمہ تعلیم کی ناقص پالیسی کے سبب شدید مشکلات کا سامنا ہے دوسری جانب آئی ٹی سیکشن پہنچنے کے لیے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو پولیس اہلکاروں اور محکمہ تعلیم کے عملے کو خوش کرنا پڑرہا ہے، پیرکو سندھ سیکریٹریٹ میں صورتحال گھمبیر نظرآئی جہاں سیکڑوں طلبہ و طالبات اوران کے والدین آن لائن داخلہ فارم کی خامیاں درست کرانے پہنچے تھے۔

طلبہ و طالبات اور والدین سندھ سیکریٹریٹ میں داخل ہونیکی کوشش کرتے ہیں تو پولیس اہلکار ان سے نذرانہ لیتے ہیں جب طلبا سندھ سیکریٹریٹ کی پہلی منزل پر محکمہ تعلیم کے دفتر پہنچتے ہیں تو عملہ آئی ٹی سیکشن جانے پر نذرانہ طلب کرتے ہیں،آئی ٹی سیکشن میں طلبا اور والدین کی رہنمائی کیلیے انتظام نہیں کیا گیا، محکمہ تعلیم کا عملہ معصوم طلبہ و طالبات سے ہتک آمیز رویہ اختیار کرتا ہے جس پر ہزاروں طلبااور ان کے والدین اذیت سہتے ہوئے نئی داخلہ پالیسی کے آن لائن داخلہ فارم کی تصحیح کرانے پر مجبورہیں۔

مقبول خبریں