امن مذاکرات کےسلسلےمیں غیرملکی وفود کی آمد، جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، اسنائپر تعینات

راولپنڈی میں ایران، امریکہ جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے


ویب ڈیسک April 19, 2026

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایران امریکا جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات کے پیش نظر ہر قسم کی پرائیویٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ تاحکمِ ثانی معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق معزز غیر ملکی مہمانوں کو نجی ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جبکہ سکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار نفری تعینات کی جائے گی، جن میں پنجاب سے آنے والی 7 ہزار نفری بھی شامل ہے۔

ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس لازمی استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سکیورٹی انتظامات میں اسلام آباد پولیس کے ساتھ پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کور بھی تعینات ہوں گے، جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ ناکے بھی قائم کیے جائیں گے۔

ائیرپورٹ سے ہوٹل تک روٹ پر اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے، جبکہ گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا۔

ہدایت دی گئی ہے کہ روٹ کے دوران بغیر سروس کارڈ کے کسی بھی اہلکار کو ڈیوٹی ایریا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ ہوٹل کے اطراف سکیورٹی فورسز کی متعدد پکٹس قائم کر دی گئی ہیں۔

شہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک پولیس مختلف مقامات پر تعینات ہے اور متبادل ٹریفک پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے۔

اسپیشل برانچ کی جانب سے انٹیلیجنس معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ شہر بھر خصوصاً روٹ ایریاز میں سڑکوں کی مرمت کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

راولپنڈی میں ایران، امریکہ جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ شہر میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ اڈے، گڈز ٹرانسپورٹ، پرائیویٹ رینٹ اے کار سروسز بھی تاحکمِ ثانی بند رہیں گی، جبکہ وی وی آئی پی روٹس پر آنے والی مارکیٹیں، گلیاں، مری روڈ، فیض آباد، کمرشل مارکیٹس اور دیگر کاروباری مراکز بھی مخصوص اوقات میں بند رکھے جا رہے ہیں۔ روٹ پر واقع شادی ہالز کو بھی بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

سید خالد محمود ہمدانی کے احکامات پر راولپنڈی پولیس کے 10 ہزار سے زائد اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہیں، جبکہ 600 سے زائد خصوصی پکٹس قائم کر کے شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس اور دیگر کوئیک رسپانس یونٹس گشت پر مامور ہیں، جبکہ تربیت یافتہ سنائپرز اور ایلیٹ کمانڈوز بھی حساس مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر بھر میں سرچ، سویپ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے اور مشتبہ افراد کی کڑی نگرانی جاری ہے۔

حساس تنصیبات، اہم سرکاری و نجی مقامات اور قیام گاہوں کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے 24 گھنٹے مانیٹرنگ جاری ہے۔

ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان تشکیل دیا گیا ہے اور شہریوں کو متبادل راستے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

سید خالد محمود ہمدانی کا کہنا ہے کہ فول پروف سکیورٹی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔

رپورٹس کے مطابق اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شریک ہوئیں۔

اس کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کم از کم ایک مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے فون پر رابطہ کیا جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، آئندہ ممکنہ مذاکرات کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہونے میں صرف تین روز باقی رہ گئے ۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اس ہفتے کسی ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، تاہم تاحال مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ طور پر جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سچویشن روم میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔