پشاور: اٹھارویں آئینی ترمیم جمہوری تاریخ کا سنگِ میل ہے، ایمل ولی خان

اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اُن کے حقوق، اختیارات اور خیبر پختونخوا کو شناخت ملی، جو تاریخی پیشرفت ہے


ویب ڈیسک April 19, 2026

ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ 19 اپریل کا دن پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو صرف ایک آئینی ترمیم نہیں بلکہ طویل جدوجہد، قربانیوں اور پختہ عزم کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اُن کے حقوق، اختیارات اور خیبر پختونخوا کو شناخت ملی، جو تاریخی پیشرفت ہے۔

ایمل ولی خان نے اسفندیار ولی خان کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بصیرت اور سیاسی جدوجہد نے اس ترمیم کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ اس عمل میں شامل دیگر پارلیمنٹیرینز کو بھی سلام پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی دراصل باچا خان اور خان عبدالولی خان کے فکر و فلسفے کی عملی تعبیر ہے، جنہوں نے صوبائی خودمختاری، وسائل پر عوام کے حق اور ایک مضبوط وفاق کے لیے جدوجہد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور صوبوں کو وسائل اور فیصلوں پر اختیار دے کر دیرینہ محرومیوں کا ازالہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھنا بھی اسی جدوجہد کا اہم سنگِ میل ہے۔

ایمل ولی خان نے اس موقع پر شہداء اور اے این پی کارکنان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ امن، جمہوریت اور آئینی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل وفاق پر حملہ ہوگا، اور عوامی نیشنل پارٹی اس کے دفاع کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کرے گی۔

آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی اپنے اکابرین کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی جہاں صوبے مضبوط، وسائل پر عوام کا حق اور ہر شہری کو امن، تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔