امریکا؛ کنیکٹیکٹ میں بھارت کے خلاف خالصتان حامی سکھوں کا احتجاج

مظاہرین نے بھارت کے خلاف نعرے لگائے، بینرز آویزاں کیے اور بھارتی پرچم کی بے حرمتی کی، رپورٹ


ویب ڈیسک April 23, 2026
فوٹو: میڈیا

امریکا کی ریاست کنیکٹیکٹ میں خالصتان کے حامی بھارتی نژاد سکھ علیحدگی پسندوں نے بھارت کے سرحد پار ظالمانہ اقدامات اور پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

رپورٹ کے مطابق 18 اپریل 2026 کو بھارتی نژاد سکھ علیحدگی پسندوں نے بھارت میں سکھوں اور دیگر اقلیتوں پر بھارتی جبر اور ان کے خلاف سرحد پار جبر کے خلاف احتجاج کیا اور یہ احتجاج سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی آف یو ایس ایسٹ کوسٹ کے بینر تلے بھارتی قونصل خانہ جنرل نیو یارک کی جانب سے منعقدہ بھارتی قونصلر کیمپ کے سامنے کیا گیا۔

قبل ازیں نیویارک میں بھارتی قونصل خانہ جنرل نے سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد قونصلر کیمپ کا مقام گردوارہ دکھ نوارن صاحب، ونڈسر کنیکٹیکٹ سے براڈ اسٹریٹ ونڈسر کنیکٹیکٹ منتقل کر دیا تھا۔

کنیکٹیکٹ میں بھارتی قونصل خانہ جنرل نیو یارک کی جانب سے قونصلر کیمپ کے انعقاد کا مقصد بھارتی کمیونٹی کو پاسپورٹ، ویزا اور دستاویزات کی تصدیق کی خدمات فراہم کرنا تھا۔

سکھ علیحدگی پسندوں نے کیمپ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بھارتی قونصل خانوں کی جانب سے سکھوں کے خلاف سرحد پار جبر کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر اعتراض کیا، جن میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل اور نیو یارک میں سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنن کے خلاف قتل کی سازش شامل ہے۔

مظاہرین نے بھارت کے خلاف نعرے لگائے، بینرز آویزاں کیے اور بھارتی پرچم کی بے حرمتی کی، بیرون ملک مقیم سکھ، بالخصوص کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا میں بھارت کی جانب سے ٹارگٹ کلنگز اور سرحد پار جبر کے حوالے سے شکایات کرتے رہے ہیں، اہم کیسز میں 2023 میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل اور امریکا میں گرپتونت سنگھ پنن کے خلاف ناکام سازش شامل ہے۔

 حالیہ رپورٹس کے مطابق وینکوور میں بھارتی قونصل خانے کے عملے (ایک را افسر) نے نجر کے بارے میں انٹیلی جنس اکٹھی کی اور اسے لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک ہینڈلرز کے ساتھ شیئر کیا، نکھیل گپتا نے امریکا میں پنن کیس میں کرائے کے قتل کا جرم قبول کیا اور اسے 40 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

سکھ گروپس بھارتی حکام اور را اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ نگرانی، دھمکیاں اور تاریخی شکایات موجود ہیں۔

بھارت انسداد دہشت گردی کے نام پر خالصتان علیحدگی پسندی کو نشانہ بنا رہا ہے، نجر کیس کا ٹرائل تاحال پری ٹرائل مرحلے میں ہے جبکہ کینیڈا حساس انٹیلی جنس کے تحفظ کی کوشش کر رہا ہے۔