22 اپریل 2025 کو پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے اشتعال انگیز اقدامات کے جواب میں 24 اپریل 2025ء کو پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا۔
شرکا نے قومی سلامتی کے ماحول اور خطے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور بھارت کی جانب سے 23 اپریل 2025ء کو اٹھائے گئے اشتعال انگیز اقدامات کو غیر منصفانہ، یکطرفہ اور قانونی جواز سے عاری قرار دیا۔
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی اصولی اور مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوامی رد عمل کو بھارتی بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے شرکاء کا موقف تھا کہ بھارت اپنی عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرے۔
اجلاس میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشتگردی کی بلاامتیاز اور دوٹوک مذمت کرتا ہے۔ تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد کے بغیر پہلگام فالس فلیگ کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں بے بنیاد ، غیر منطقی اور حقائق کے منافی ہیں۔
بھارت فوری الزام تراشی اور سیاسی مقاصد کے لیے پہلگام جیسے واقعات کے منظم استعمال سے باز رہے، قومی سلامتی کمیٹی
قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ بھارتی سرکارکی سرپرستی میں چلنے والا غیر ذمہ دار میڈیا خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، جو قابلِ مذمت ہے، پاکستان بھارت کی آبی جارحیت سختی سے مسترد کرتا ہے،پانی پاکستان کا نہایت اہم قومی مفاد ہے اور اس کی دستیابی ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی
کمیٹی نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم امن کے لیے پُرعزم ہے، مگر اپنی خودمختاری، سلامتی، وقار اور بنیادی حقوق پر کسی قسم کی آنچ برداشت نہیں کرے گی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی میں کیے گئے اعلانات کو عملی میدان میں سچ ثابت کیا گیا اور دشمن کو ہر محاذ پر عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔