پنجاب میں گندم کی کٹائی اور گہائی جاری ہے، تقریباً 70 فیصد کی ہارویسٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور یہ گندم ’’روایتی ہاتھوں‘‘ میں جا چکی ہے ۔گزشتہ برس کسان کو گندم کی اوسط کھیت قیمت2 ہزار روپے فی من ملی تھی جس پر کسانوں اور سیاسی حلقوں میں ایک طوفانی قسم کا احتجاج کیا گیا تھا کیونکہ پنجاب حکومت نے نہ خود خریداری کی تھی اور نہ ہی کوئی علامتی قیمت خرید مقرر کی تھی بعد ازاں یہی گندم اوپن مارکیٹ میں4800 روپے من تک فروخت ہوئی۔
اس مرتبہ صورتحال یکسر مختلف ہے ،کسان کو اوپن مارکیٹ میں گندم کی اوسط کھیت قیمت3250 روپے جبکہ غلہ منڈی میں 3500تا3600 روپے قیمت مل رہی ہے جو کہ گزشتہ سال ملنے والی قیمت سے تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے مگر کسان اور سیاسی حلقوں کی جانب سے احتجاج اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور ان کا ہدف حکومت پنجاب کی جانب سے بنایا گیا ’’ایگریگیٹرز گندم خریداری ‘‘ نظام ہے یہاں یاد رہے کہ 70 فیصد کسان اپنی گندم بیوپاری کو پہلے ہی بیچ دیتا ہے اور پھر بیوپاری اس گندم کو فروخت کرتا ہے۔
تنقید اور احتجاج کرنے والوں کا موقف ہے کہ حکومتی نگرانی میں منتخب کردہ نجی ٹریڈنگ کمپنیوں نے10 اپریل سے گندم خریداری شروع کرنا تھی مگر24 اپریل تک ٹریڈنگ کمپنیوں کی جانب سے ایک دانہ گندم بھی نہیں خریدی گئی تھی ،خریداری مراکز پر نجی کمپنیوں کی جانب سے باردانہ اجراء بھی سست رفتاری سے جاری ہے اور گزشتہ روز تک ایک لاکھ ٹن سے کم گندم کیلئے باردانہ جاری ہوا ہے۔کسانوں اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اس کے ماتحت ادارے نئے نظام کو بروقت فعال کرنے میں ناکام رہے ،کمرشل بنکوں کے ساتھ تنازع گزشتہ روز تک مکمل حل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے ایگریگیٹر گندم نہیں خرید رہے کیونکہ انہوں نے کسان کو گندم کی قیمت ادائیگی ایک معاہدے کے بعد کمرشل بنکوں کے ذریعے کرنی ہے اور ابھی تک محکمہ خوراک، کمرشل بنکوں اور ایگریگیٹرز کے درمیان ٹرائی پارٹی معاہدے حتمی منظور نہیں ہوئے ہیں اور اس تاخیر کے سبب گندم کاشتکاروں کو سستی قیمت پر اپنی فصل فروخت کرنا پڑ رہی ہے ۔
محکمہ خوراک پنجاب جب ماضی میں کسانوں سے براہ راست گندم خریدتا تھا تب بھی کسانوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے احتجاج کیا جاتا تھا کہ باردانہ اجراء، گندم خریداری میں کرپشن ہوتی ہے ،عالمی مالیاتی ادارے بھی پرانے خریداری نظام کے شدید خلاف تھے ،پنجاب حکومت نے گندم سبسڈی کی مد میں700 ارب روپے کا گردشی قرضہ جس مشکل سے اتارا ہے وہ عام آدمی کو معلوم نہیں ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کیلئے ہمیشہ سستی روٹی اور سستا آٹا اہم ترین ترجیح رہی ہے۔وزیر اعلی مریم نواز کی آج بھی یہی سوچ ہے کہ کسان کے مفاد اور روٹی آٹا صارف کے مفادات میں ایک توازن برقرار رہنا چاہئے ،اسی مقصد کیلئے انہوں نے تمام تر دباؤ کے باوجود سادہ روٹی کی قیمت14 روپے سے بڑھانے کی اجازت نہیں دی تھی ،حکومت نے سب سے پہلے غیر ظاہر شدہ8 لاکھ ٹن گندم سرکاری نگرانی میں فلورملز کو3 ہزار روپے قیمت پر فراہم کروائی جس کے بعد حکومت نے سرکاری گندم ریلیز شروع کی۔ ڈی جی فوڈ امجد حفیظ نے نہایت عمدگی اور دلیری کے ساتھ نہ صرف کوٹہ والی فلورملز کی سازشوں اور دباؤ کا سامنا کیا بلکہ انہوں نے ثابت کردیا کہ ماضی میں36 لاکھ ٹن سرکاری گندم کی ریلیز کرپشن ہی کرپشن تھی کیونکہ ڈی جی نے18 لاکھ ٹن گندم کے ساتھ کامیابی سے سیزن مکمل کیا۔
اب اگر ’’ایگریگیٹر نظام‘‘ کا جائزہ لیں تو چند روز قبل پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن اعجاز شفیع نے اپنی تقریر میں چند سوالات اٹھائے لیکن انہوں نے اپنے سوالات میں ایک جانب کا زاویہ اپنایا، انہوں نے کہا کہ حکومتی نگرانی میں گندم خریدنے والی کمپنیوں کو سرکاری گودام مفت کیوں دیئے گئے، 6 ارب کا سرکاری باردانہ مفت کیوں دیا گیا ،نجی کمپنیوں کو400 سرکاری ملازمین کی خدمات کیوں دی گئیں،ان کمپنیوں کو ملنے والے بنک قرضہ کا70 فیصد مارک اپ حکومت کیوں ادا کرے گی، اگست تا اکتوبر میں ان کمپنیوں کو اضافی منافع کیوں دیا جائے گا۔ یہ سوالات سنیں تو لگتا ہے کہ واقعی حکومت کا بڑا سکینڈل سامنے آگیا ہے مگر اب ان سوالات کے حقیقی جوابات بھی کھلی سوچ کے ساتھ سننا چاہئیں۔
سب سے پہلے تو یہ حکومت ہر سال سستی روٹی اور آٹاکی خاطر من گندم پر1200 روپے سے زائد کی سبسڈی برداشت کرتی ہے۔ آئی ایم ایف شرائط کے سبب براہ راست گندم خریداری ممکن نہیں تھی اور عوام کیلئے روٹی بھی سستی رکھنا تھی لہذا نجی نظام بنایا گیا۔ نجی گودام اس لئے دئے گئے کہ یہاں موجود گندم کا پہلا حق استعمال حکومت کا طے ہے اس لئے انہیں حکومتی نگرانی میں رکھنا ضروری ہے جبکہ بوقت ضرورت جغرافیائی لحاظ سے یہاں سے فلورملز کو ریلیز بھی آسان ہوتی ہے۔ محکمہ خوراک کے سرکاری ملازمین کواس لئے ایگریگیٹرز کی معاونت کیلئے مقرر کیا گیا تاکہ حکومت اس بات کو یقینی بنا سکے کہ ایگریگیٹرز کوئی اونچ نیچ نہ کرے اور حکومت کی مکمل نگرانی رہے۔