امریکا،اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ بندی22اپریل2026 کی صبح تک مؤثر تھی۔خیال کیا جا رہا تھا کہ دونوں فریقوں کے مابین مذاکرات ہوں گے اور مسئلے کا کوئی حل نکل آئے گا۔مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ہر لحاظ سے تیار کیا گیا تھا۔صدر ٹرمپ نے اپنا وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا لیکن ایران نے مذاکراتی وفد روانہ کرنے کے سلسلے میں کوئی عندیہ نہ دیا۔پاکستان کی کوششوں سے ایران نے آبنائے ہرمز کھولی لیکن امریکا نے ایران کے اردگرد پانیوں میں بحریہ متعین کر کے ایران کی بحری ناکہ بندی کر دی۔یوں ایران کی تیل و گیس سے ہونے والی آمدن ٹھپ ہو گئی۔
یہ ایران کے لیے زندگی اور موت کے معاملے کی طرح ہے۔جب مقررہ آخری وقت تک ایرانی وفد مذاکرات کے لیے نہ آیا تو صدر ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی طرف سے درخواست کا کہہ کر جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی۔دراصل امریکا اس جنگ سے تھک چکا ہے لیکن کمزوری بھی نہیں دکھانا چاہتا۔انھی کالموں میں پہلے کہا جا چکا ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ایران پر اب شاید کبھی حملہ نہ ہو۔
اس جنگ سے امریکی سپر پاور کو شدید دھچکا لگا ہے۔اس کی ہوا اکھڑ گئی ہے۔وہ قابلِ اعتماد سیکیورٹی دینے والا ملک نہیں رہا۔ایران کے لیے ناکہ بندی اس کا گلہ دبانے کے برابر ہے۔امریکا اب پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران کو ڈیل کے لیے منائے۔پاکستان کو دامن بچانا ہوگا۔
جس طرح ہر سکے کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر واقعے میں منفی اور مثبت پہلو پنہاں ہوتے ہیں۔امریکا،اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کی جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک سے دوسرے ممالک کو تیل،گیس اور فرٹیلائزر و ایل این جی کی ترسیل بہت مشکل ہو گئی۔ اس نزاع کی بدولت ساری دنیا کی معیشت مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔چونکہ جہازرانی سب سے زیادہ مشکلات سے دوچار ہوئی ہے اس لیے آپ نے خبروں میں پڑھا ہوگا کہ پاکستان کی بندرگاہوں پر بہت زیادہ تعداد میں کنٹینر کارگو آیا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک خوش آئند بات ہے۔دراصل آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے وہاں کی بندرگاہوں تک جہازوں کا پہنچنا اور کارگو لے کر واپس لوٹنا تقریباً نا ممکن بن گیا تھا اس لیے جبلِ علی،خلیفہ پورٹ اور ہرمز سے ذرا باہر سلالہ کی بندر گاہوں سے جہازوں نے دوری اختیار کی اور اپنا رخ پاکستانی بندر گاہوں کی جانب موڑ دیا۔صرف ایک مارچ کے مہینے میں کراچی بندرگاہ میں کارگو ہینڈلنگ ایکٹوٹی میں 1400فیصد اضافہ ہوا۔یہ بڑھوتی پورے2025 کی ایکٹوٹی کے برابر ایک ماہ میں ہوئی۔ہمیں دیکھنا ہے کہ بڑھوتی کا یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہ سکتا ہے یا پھر یہ ایک جز وقتی ابال تھا اور یہ برقرار نہیں رہے گا۔کراچی کی بندر گاہ ماضی قریب میں ہماری پالیسیوں کی بدولت ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر نہیں ابھری۔ہماری بندر گاہوں میں آنے والا کارگو دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک ہمارا نیشنل کارگو اور دوسرا لینڈ لاکڈ پڑوسیوں مثلاً افغانستان اور سینٹرل ایشیائی ریاستوں کا کارگو۔
امریکا،ایران تنازعے میں ٹرانس شپمنٹ کارگو صرف ہمارے ہاں ہی نہیں آیا بلکہ یہ انڈیا کی بندرگاہوں کی طرف بھی گیا ہے۔حتیٰ کہ یہ کارگو سنگا پور تک پہنچا ہے،کراچی کی بندر گاہ پر چار پانچ جہازوں سے 8ہزار سے کچھ اوپر کنٹینرز اتارے گئے ہیں۔اسی طرح ایک بہت بڑا جہاز پورٹ قاسم پر بھی لنگر انداز ہوا جس سے 4ہزار سے اوپر کنٹینرز لائے گئے۔گوادر کی بندرگاہ پر بہت سا نان کنٹینر کارگو لایا گیا۔یہ بہت بڑی کارگو ایکٹوٹی لگتی ہے لیکن اصل میں یہ ہماری بندرگاہوں کی کارگو ہینڈلنگ صلاحیت کے حساب سے سال میں صرف دو دن کی ایکٹوٹی کے برابر ہے۔البتہ یہ کارگو اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ یہ ہماری بندر گاہوں کے لیے نیا کارگو ہے۔
یہ ہمارے نیشنل کارگو اور ٹرانزٹ کارگو سے ہٹ کر ٹرانس شپمنٹ کارگو ہے جو کہ پہلے نہیں آ رہا تھا۔اسے ایک جہاز سے اتار کر اور دوسرے جہاز میں لاد کر منزلِ مقصود کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا کتنا امکان ہے کہ یہ عمل اب جاری رہے گا اور کنفلکٹ خاتمے پر ختم تو نہیں ہو جائے گا۔اس ایکٹوٹی کو جاری رکھنے کے کچھ ہارڈHardاور کچھ سافٹ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ہارڈ سے مراد انفراسٹرکچر ہے جیسے بندرگاہ،ٹرمینل اور ضروری مشینری اور سافٹ میں سافٹ ویئر وغیرہ۔اس کے علاوہ تربیت یافتہ لیبر بھی بہت اہم ہوتی ہے۔اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہارڈ اور سافٹ دونوں چیزیں پاکستان کے پاس دستیاب ہیں۔پاکستان کے پاس 4بہترین ٹرمینل ہیں جو علاقے میں بہترین ٹرمینلز کہے جا سکتے ہیں۔
ان چار بہترین ٹرمینلز کی صلاحیت سال میں 6ملین کنٹینرز ہینڈل کرنے کی ہے۔اس وقت ہمارے ٹرمینلز صرف سالانہ 3.8ملین کنٹینرز ہینڈل کر رہے ہیں جب کہ ابھی ہمارے پاس 2.2ملین کنٹینرز مزید ہینڈل کرنے کی صلاحیت باقی ہے۔990 کی دہائی کے آخری سالوں میں پاکستان نے ورلڈ بینک کا دیا ہوا ایک پورٹ ماڈل اختیار کیا جس میں سارا کارگو خود ہینڈل کرنے کے بجائے اسےSpecialized terminal operatorsکو آؤٹ سورس کر دیا گیا۔ ہمارے پاس چار ٹرمینلز،کراچی اور پورٹ قاسم پر ایک ایک بلکbulkٹرمینل ،کے علاوہ کیمیکل ٹرمینل،ایل این جی ٹرمینل اور ایل پی جی ٹرمینلز بھی ہیں۔ان میں سے بہت سے فارن کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ ونچرز ہیں جو بہترین مشینری اور بہترین سافٹ ویئر استعمال میں لاتے ہیں۔
اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں سہولتیں اتنی ہی اچھی ہیں جتنی کہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں ہونی چاہیئیں۔ ہم جس تیزی،مہارت اور پھرتی سے کارگو لوڈ،ان لوڈ کر سکتے ہیں تقریباً وہی معیار دنیا کی ترقی یافتہ بندرگاہوں کا ہے۔جب ہماری بندر گاہوں پر ٹرانس شپمنٹ کارگو یک دم بڑی تعداد میں آنا شروع ہوا تو یار لوگوں نے تنقید کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ بندر گاہوں پر شدید رش ہو گیا ہے اور انتظار کرتے جہازوں کی قطار لگ گئی ہے۔دراصل کراچی اور پورٹ قاسم پر بہترین سہولیات کی وجہ سے کوئی رش نہیں پڑا اور سارا کام بخوبی ہو رہا ہے۔
پاکستان نے سینٹرل ایشیائی ریاستوں کے لیے کارگو ایران کے راستے بھیجنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔افغانستان کے مقابلے میں ایران کے اندر انفراسٹرکچر بہت بہتر ہے۔سڑکیںاچھی ہیں،تیل سستا ہے اور ٹرانسپورٹ تیزی سے سفر کر سکتی ہے۔فاصلہ زیادہ ہے لیکن اچھے انفراسٹرکچر کی وجہ سے راستہ جلدی طے ہوتا ہے۔پاکستان کا مسئلہ مشکل ہمسائے اور بہت کم پاکستان ملکیتی جہاز ہونا ہے ۔ہمارے جہاز بہت تھے لیکن بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن کی بدولت سرمایہ کار بھاگ گئے اور اب ہمارے پاس کل بارہ کے قریب جہاز ہیں جن میں شاید سات تیل بردار ہیں۔ حکومت کو پرائیویٹ سیکٹرکی حوصلہ افزائی کر کے جہازوں کی تعداد کو جلد بڑھانا ہوگا۔ ہمارے پاس پورٹ انفراسٹرکچر بہت اعلیٰ ہے۔اس سیکٹر نے پچھلے دس سال میں دو بلین ڈالر کی فارن ڈائیریکٹ انویسٹمنٹ لائی ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ یہ سیکٹر مکمل ڈاکومنٹڈ ہے۔ لیبر کی تنخواہیں بھی زیادہ ہیں اور خواتین بھی اس سیکٹر میں کام کرنا شروع ہو گئی ہیں۔اس سیکٹر سے منسلک جید افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نے جنگ کے دوران مسلسل تین ہفتے کام کرکے حکومت کو سفارشات بھیجیں جنھیں حکومت نے چند ہی دنوں میں منظور کر کے قوانین میں مناسب ردوبدل کر دیا ہے۔ اب حکومتی اداروں،بشمول نیشنل شپنگ کارپوریشن اور سفارت خانوں کو چاہیے کہ دنیا کی شپنگ کمپنیوں کو پاکستانی پورٹس پر پائی جانے والی سہولتوں سے آگاہ کریں تاکہ ٹرانس شپمنٹ کارگو ہمارے ہاں مسلسل آتا رہے۔