18 مئی تک ممبرفنانس تعینات نہ کیا تو وزیراعظم کو خود عدالت میں وضاحت دینا ہوگی، جسٹس محسن اختر کیانی

 ریٹائرڈ ججز نے زیادہ بیڑا غرق کیا ہواہے، رات کو ان کو سیلوٹ یاد آتے ہیں تو وہ سونے نہیں دیتے، جسٹس محسن اختر کیانی


فیاض محمود April 28, 2026
ذرائع کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی طبعیت ناسازی کے باعث آج چھٹی پر ہیں

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی اے ٹریبیونل کے ممبر فنانس کی عدم تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر 18 مئی تک ممبر فنانس تعینات نہ کیا گیا تو وزیراعظم پاکستان کو خود عدالت میں پیش ہونا ہوگا اور وضاحت دینا ہوگی کہ تعیناتی کیوں نہیں کی گئی۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیکریٹری اور سیکرٹری کابینہ بھی پیش ہوں۔

سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایک ریٹائرڈ جج کو ٹریبیونل کا ممبر تعینات کیا گیا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ ججز نے زیادہ بیڑا غرق کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ججز کو ٹریبونلز میں جانے کا زیادہ شوق ہے، رات کو ان کو سیلوٹ یاد آتے ہیں تو وہ سونے نہیں دیتے، کسی کا دل چاہتا ہے تو این آر سی میں لگ جاتا ہے تو کوئی کسی اور ٹریبیونل میں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کے بعد تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سماعتوں سے وفاقی حکومت اس تعیناتی کے لیے وقت مانگ رہی ہے، لہٰذا اسے ایک آخری موقع دیا جا رہا ہے۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگر ممبر فنانس تعینات نہ ہوا تو سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری قانون بھی پیش ہوں اور تعیناتی میں حائل رکاوٹوں کی وضاحت کریں۔ حکمنامے کے مطابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ تعیناتی کی سمری پر حکومت نے اعتراضات لگا کر واپس بھیج دی ہے۔

یہ ٹربیونل ٹیلی کمیونیکیشن اپیلٹ ٹربیونل ایکٹ 2024 کے تحت قائم کیا گیا تھا جس کا نوٹیفکیشن 28 ستمبر 2024 کو جاری ہوا، جبکہ عدالت نے مزید سماعت 18 مئی تک ملتوی کر دی۔