ہائی کورٹ ججز کے تبادلے پر غور کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس شروع ہو گیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی پانچ ججوں کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلہ پر غور ہو گا۔
اجلاس میں شرکت کے لیے ممبر جوڈیشل کمیشن بیرسٹر گوہر علی خان بھی سپریم کورٹ پہنچے، پی ٹی آئی کے دونوں ممبران اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے ، جبکہ 27ویں ترمیم سے پہلے وہ اجلاسوں کا بائیکاٹ کرتے رہے تھے۔
اجلاس میں شرکت سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان میں سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر سے پہلے واضح رولز بننے چاہیں اور بغیر ٹھوس وجوہات کے ججز کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں جو مطالبات اٹھائے ہیں وہ درست ہیں اور ججز ٹرانسفر کے لیے شفاف اور مضبوط بنیادیں ضروری ہیں۔
صحافی کے سوال پر کہ کیا پی ٹی آئی اور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی ایک ہی مؤقف پر ہیں، علی ظفر نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے موقف کے ساتھ ہیں کہ اس معاملے میں اصولی طریقہ اپنایا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے ٹرانسفر سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے قبل اہم پیش رفت سامنے آئی جب کہ ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام بطور سربراہ جوڈیشل کمیشن خط لکھ دیا جس میں انہوں نے ٹرانسفر کے معاملے پر انہیں ذاتی طور پر سنے جانے کی استدعا کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر کے معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل کمیشن کے اجلاس میں انہیں سنا جائے۔ واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار کا نام بھی آج ٹرانسفر کے لیے زیر غور ججز میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے ٹرانسفر سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے نام زیر غور آئیں گے۔ اس کے علاوہ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ٹرانسفر ججز کے لیےاجلاس بلانے کی مخالفت کی تھی، تاہم چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے 5 ممبران کی ریکوزیشن پر یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔