کراچی ڈیفنس میں اسنیپ چیکنگ کےدوران گاڑی روکنے پرخاتون پولیس افسرکا بیٹا آپے سےباہرہوگیا،خاتون پولیس افسرکے بیٹے نے اسنیپ چیکنگ پرمامورپولیس افسرکا گریبان پکڑلیا ساتھ گالیاں بھی بکتا رہا واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ایکسپریس کے مطابق ڈیفنس تھانے کے علاقے ڈیفنس فیز 7 ایکسٹیشن میں اسنیپ چیکنگ کے دوران گاڑی روکنے پر خاتون پولیس افسر کا بیٹا آپے سے باہر ہوگیا۔
خاتون پولیس افسر کے بیٹے نے اسنیپ چیکنگ پرمامورپولیس افسر کا گریبان پکڑلیا ساتھ گالیاں بھی بکتا رہا طاقت کے نشے میں چور خاتون پولیس افسر کے بیٹے نے مبینہ طور پر گاڑی پر پولیس لائٹس اورپولیس کی نمبر پلیٹ لگائی ہوئی تھی۔
اسنیپ چیکنگ پرمامورپولیس نےروکا تو خاتون پولیس افسرکے بیٹے نے بدکلامی کی خاتون پولیس افسرکےبیٹے نے سب انسپیکٹر کا گریبان پکڑا اورمغلظات بھی بکتارہا۔
خاتون افسر کے بیٹے کی گاڑی میں دو پرائیوٹ گارڈ بھی موجود تھے، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں خاتون افسر کے بیٹے کو پولیس افسرسےجھگڑا کرتے دیکھاجسکتا ہے جبکہ ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے گاڑی پرجعلی نمبر پلیٹ لگانے کا ذکرکیا گیا۔
پولیس کے ساتھ بدتمیزی کی وائرل ویڈیو پر ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے وائرل ویڈیو کا فوری نوٹس لے لیا ہے ڈی آئی جی ساؤتھ کی جانب سے ایس ایس پی ساؤتھ کو واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
بعد ازاں کراچی پولیس نے خاتون پولیس افسر کے بیٹے کو گرفتار کرکے گاڑی برآمد کرلی۔
بعد ازاں اسنیپ چیکنگ کے دوران خاتون پولیس افسر کے بیٹے سے مبینہ بدسلوکی کے واقعے کا دوسرا رخ بھی سامنے آ گیا۔
رپورٹس کے مطابق نئی ویڈیو نوجوان خبیب کے والد کی جانب سے فراہم کی گئی ہے، جس میں واقعے کی مختلف صورتحال دکھائی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ خبیب کو قیوم آباد چوکی کے انچارج پولیس افسر شازان شکیل نے روکا تھا، جس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ پولیس افسر شازان شکیل اور گاڑی میں سوار افراد ایک دوسرے سے سخت جملوں کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم بعض لمحات میں دونوں جانب سے بات چیت کو بہتر رکھنے کی کوشش بھی کی گئی۔
مزید بتایا گیا کہ پولیس افسر نے گاڑی کا دروازہ پکڑ کر کھینچا اور چابی نکالنے کی کوشش کی۔
خاتون ایس ایس پی نسیم آرا پہنور کے شوہر علی انور نے ڈیفنس تھانے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی سرکاری عہدے پر تعینات ہیں میرے بیٹے سے بدتمیزی کی گئی، واقعے کا پتا چلنے پر میں اور اہلیہ تھانے آئے اور ایس ایچ او سے ملاقات کی اس دوران سب انسپکٹر نے میری اہلیہ کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگی تھی جس کے بعد ہم گھر چلے گئے جبکہ ایس ایس پی ساؤتھ کے کہنے پر گاڑی بھی پولیس کے حوالے کر دی جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے بیٹے کو گرفتار کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے تو پولیس کی بات مانی لیکن صرف ایک جانب کی بات نہ سنی جائے واقعے میں غیر جانب داری کا مظاہرہ کیا جائے، میرے بیٹا وکیل ہے جبکہ اس کے ہمراہ موجود گارڈز آر آر ایف کے ہیں۔
مدعی مقدمہ ڈیفنس تھانے کی قیوم آباد پولیس چوکی انچارج شاہزان شکیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان کی گاڑی کا ماڈل 2023ء یا 2024ء کا ہے جس پر پولیس کا جاری کیے جانے والا نمبر سال 99ء یا 2000ء کا لگا ہوا تھا، گاڑی روکنے کے بعد انھوں نے ڈرائیور سے نام پوچھا تو انھوں ںے بتایا کہ وہ ایس ایس پی نسیم آرا پہنور کا بیٹا ہوں لیکن اپنا نام نہیں بتایا اور اپنے گارڈز سے کہا کہ اسے ہٹاؤ ، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ پرائیویٹ گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہے جبکہ سرکاری گن مین کی بھی اجازت نہیں ہے ، میں گرفتار کرنے کے لیے گاڑی کا دروازہ کھول کر ڈرائیور کا ہاتھ پکڑا تو اس نے میرا گریبان پکڑ لیا۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ خاتون ایس ایس پی اپنے ہمراہ 10 جوانوں کے ہمراہ آکر تھانے کا محاصرہ کر کے تھانے سے زیر حراست گن مین کو چھڑا کر لے گئیں۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ساؤتھ مہزوز علی کی جانب سے واقعے سے متعلق ویڈیو وائرل ہونے کا نوٹس لتیے ہوئے قیوم آباد پولیس چوکی انچارج کے خلاف تحقیقات کے لیے ایس پی کلفٹن خالد جاوید کو انکوائری افسر مقرر کر دیا جو 3 روز میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔