امریکا نے ایرانی شہریوں، 21 کمپنیوں اور بحری جہاز پر پابندی عائد کردی

امریکا نے ایران پر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے پابندیاں سخت سے سخت کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے


ویب ڈیسک May 01, 2026

امریکا نے ایران کے خلاف اپنی پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے 6 ایرانی شہریوں،21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کیا گیا۔

جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات ایران کے مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورکس کو محدود کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ پابندیوں کا ہدف ایسے افراد اور ادارے ہیں جو مبینہ طور پر ایران کے حساس پروگراموں، بالخصوص توانائی اور ممکنہ طور پر جوہری یا عسکری سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے ذریعے ایران کی بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی کو مزید مشکل بنایا جائے گا اور اس کی اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔

اس تازہ اقدام میں جس بحری جہاز پر پابندی عائد کی گئی ہے اُس پر الزام ہے کہ وہ ایران سے متعلق تجارتی یا توانائی کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا تھا۔

دوسری جانب امریکی وزارت خزانہ کے حکام نے یہ بھی عندیہ دیا کہ بعض چینی کمپنیوں اور افراد کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ امریکا کے ایران کے خلاف پابندیوں کے ایسے اقدامات ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں تاکہ ایران کی تیل کی برآمدات اور شپنگ نیٹ ورک کو محدود کیا جا سکے۔