کراچی سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے دوسرے اور متحرک امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بدل دو نظام تحریک عوام کے دل کی آواز ہے، اس لیے جماعت اسلامی ملک میں عید کے بعد بدل دو نظام تحریک شروع کرے گی اور اس تحریک کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کر دی گئی ہے۔ اب عوام کو بھی متحد ہو کر ملک کے استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔ انھوں نے اس سلسلے میں کراچی کے صدر دفتر میں یہ اعلان بھی کیا کہ ہم نے کراچی میں دس لاکھ نئے ممبران بنانے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔
یہ درست ہے کہ حافظ نعیم نے ملک بھر میں جماعت اسلامی میں جان ڈال دی ہے اور ملک بھر کے دورے کرکے اپنی جماعت کے کارکنوں سے رابطوں کو تیز اور متحرک کیا ہے کیونکہ ہر جماعت میں اس کے کارکن ہی اس کا سرمایہ ہوتے ہیں جن کے بل بوتے پر ہی پارٹی فعال رہتی ہے مگر پاکستان میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ ماضی سے اب تک ملک کی تین بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے کہنے کی حد تک اپنے کارکنوں کی محنت و جدوجہد سے اقتدار حاصل کیا اور بعد میں انھیں بھول گئیں کیونکہ تینوں کی قیادت جانتی ہے کہ انھیں اقتدار کسی اور قوت نے دلایا ہے۔
اسی لیے تینوں پارٹیاں کارکنوں کو بھول کر اقتدار دلانے والوں کی خوشنودی میں مصروف ہو جاتی ہیں اور عوام کو بھی نظرانداز کر دیتی ہیں اور اسی دوڑ میں پہلی بار جب پی ٹی آئی کو وفاقی اقتدار ملا تھا تو اس کے وزیر اعظم نے اقتدار دلانے والے کو’’ قوم کا باپ‘‘ قرار دے دیا تھا اور اس مصنوعی پشت پناہی سے اپنی اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا تھا اور پہلی بار اقتدار حاصل کرکے وہ کسی کی بھی نہیں سنتے تھے جس پر نادیدہ قوتوں نے وزیر اعظم کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تھا جس سے پونے چار سال اقتدار میں رہنے والے کا دھڑن تختہ ہو گیا تھا اور اقتدار دلانے والے نظام نے ثابت کر دیا تھا کہ وہی اصل نظام ہے جسے عوام نہیں اپنی طاقت وقت پر دکھانا پڑتی ہے اور زیادہ تر یہ نظام پس پردہ ہی رہتا ہے ۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی امیر جماعت ایک بار پھر بدل دو نظام تحریک شروع کر رہے ہیں اور عوام سے متحد ہونے کی اپیل کر رہے ہیں۔
ملک کا اقتدار دلانے اور واپس کرنے والے اس نظام کی اپنی محدود طاقت ضرور موجود ہے مگر اس نظام کو ایسا کرنے کی اصل طاقت سیاسی پارٹیوں سے ہی ملی ہے۔ ماضی میں اقتدار اور سیاسی مفادات کے لیے مفاد پرست سیاستدان خود ہی اس نظام کی گود میں پلے بڑے اور ہر دور میں اس نظام کا حصہ رہے اور حصول اقتدار کے لیے جمہوری اصولوں کو پامال کرکے اسی نظام کی مدد سے اقتدار میں آ کر انھوں نے خود کو کچھ سمجھنے کی کوشش کی اور ان کے دست شفقت سے محروم ہو کر کچھ پوچھتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا، کچھ اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دے کر خاموش ہو گئے اور آخر والے نے تو انتہا ہی کر دی تھی۔ یہ نظام اتنا ہی خراب تھا تو اس کے سربراہ کو کبھی تاحیات رہنے کی آفر دی مگر اس کے نہ ماننے پر سسٹم کے نئے سربراہ کا تقرر روکنے کی بھی کوشش کی ۔
جنرل ضیا الحق کے دور میں جماعت اسلامی کچھ عرصہ اس نظام کا حصہ رہی پھر جنرل پرویز کے نظام میں صوبہ سرحد میں مجلس عمل کی حکومت میں بھی شامل رہی اور اب اس نظام کو بدلنے کی تحریک ایک بار پھر شروع کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی سمیت بعض دیگر یہ بھی تحریک چلا چکے ہیں کہ’’ چہرے نہیں نظام کو بدلو‘‘ مگر نظام نہ بدلا جا سکا اور وہی پرانے چہرے اسی نظام کی بدولت آج بھی اقتدار میں ہیں اور جو شخص خود اسی نظام کی مدد سے اقتدار میں آیا تھا اور اسی نظام کی پشت پناہی سے دوسری بار بھی طویل عرصہ اقتدار میں رہنا چاہتا تھا ایک بار پھر کوشش کر رہا ہے کہ اسی طاقتور نظام سے اس کی صلح ہو جائے تاکہ وہ اقتدار میں آ سکے۔بظاہر موجودہ نظام کی شدید مخالفت کرنے والا خود سیاست اور جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا اور موجودہ سیاسی قوتوں سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا اور اسی نظام سے مذاکرات پر بضد ہے جسے وہ اصل طاقت سمجھتا ہے جبکہ جمہوریت سیاست کے ذریعے قائم ہوتی ہے اور جمہوری طریقہ سے ہی اقتدار مل سکتا ہے۔
جماعت اسلامی صرف جمہوری طور متعدد بار کراچی میں اقتدار میں آئی اور اس بار جمہوری اکثریت کے باوجود اپنا میئر نہ لا سکی اور سندھ حکومت کے نظام میں پی پی کا میئر لایا گیا۔ اس نظام اور جمہوریت کی کئی شکلیں ہیں اور امیر جماعت اسلامی ملک کے موجودہ نظام کو بدلنے کی تحریک شروع کر رہے ہیں جبکہ کئی بار ملک کے اقتدار میں آنے والی بڑی پارٹیاں نظام نہ بدل سکیں کیونکہ نظام بدلنے کے لیے پہلے عوام کو تیار اور خود کو بدلنا پڑتا ہے جبکہ عوام اور دیگر پارٹیاں نظام بدلنے کے موڈ میں نہیں بلکہ اسی نظام کا حصہ ہیں تو بدل دو نظام تحریک کی کامیابی کے امکانات کیا ہوں گے اور کیا جماعت اسلامی اتنی طاقت کی حامل ہے کہ نظام کو بدل سکے۔