کراچی میں بھاری ای چالان کے باوجود سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں کو نہ روکا جاسکا۔
ٹریفک پولیس کا خیال تھا کہ بھاری جرمانے عائد کرنے سے معاملات ٹھیک ہوجائیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ ٹریفک پولیس کی سفارش پر حکومت سندھ نے گزشتہ سال بھاری جرمانے عائد کیے، ان میں ون وے کی خلاف ورزی پر موٹر سائیکل پر 25 ہزار اور کار پر 30 ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا، اسی طرح موٹر سائیکل کی ون ویلنگ پر 25 ہزار روپے، بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر موٹر سائیکل کے لیے 25 ہزار روپے اور کار ڈرائیور پر 30 ہزار روپے کا جرمانہ لاگو کیا گیا، اسی تناسب سے کم عمری میں موٹر سائیکل چلانے پر 25 ہزار روپے اور کار چلانے پر 30 ہزار روپے جرمانہ نافذ کیا گیا لیکن اس کے باوجود شہر میں سنگین نوعیت کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
صوبائی اسمبلی سے جرمانوں کی شرح بڑھانے کی منظوری حاصل کرنے کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے گزشتہ سال یکم اکتوبر کو جرمانوں کی شرح میں بھاری اضافہ کیا، جبکہ اکتوبر کے آخر میں ای چالان متعارف کرایا گیا، جس کے تحت ایک مہینے کے اندر ایک لاکھ لوگوں کو مختلف خلاف ورزیوں پر ان کے رہائشی پتے پر ای ٹکٹ ارسال کیے گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 28 اکتوبر 2025 کو پولیس نے 1525 ای چالان جاری کیے، یہ چالان سیٹ بیلٹ نہ پہننے، ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے، ریڈ سگنل کی خلاف ورزی کرنے اور ڈرائیونگ کرتے وقت موبائل فون استعمال کرنے پر جاری کیے گئے۔ ان میں وہ سنگین خلاف ورزیاں شامل نہیں تھیں جن پر بھاری جرمانے لاگو کیے گئے تھے، یعنی بغیر لائسنس یا کم عمری میں گاڑی چلانے اور ون وے کی خلاف ورزی مییں ملوث لوگ بڑی حد تک قانون کی پکڑ سے محفوظ رہے۔
شہریوں کے مطابق ای چالان متعارف کرنے اور بند سگنلز کو فعال بنانے سے شہر میں ٹریفک کے نظام میں کسی حد تک بہتری ضروری آئی ہے لیکن سنگین خلاف ورزیاں نہیں رک پائی ہیں۔ روزانہ صدر اور کورنگی کے درمیان موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے ایک شہری حفیظ الرحمان قریشی نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ تقریبباً ہر روڈ پر موٹر سائیکل سوار ون وے کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اور تو اور شاہراہ فیصل جیسی اہم شاہراہ پر بھی لوگ غلط رخ پر موٹر سائیکل چلاتے ہیں، وہ اکثر ایسے لوگوں کو گورا قبرستان کے ساتھ کورنگی روڈ کی طرف جاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹریفک کا نظام بہت عرصے سے خراب ہے، اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، جبکہ ای چالان کا نظام ابھی نیا ہے اور اس کے عملدرآمد کے دوران بعض مسائل سامنے آئے ہہیں جنہیں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر ای چالان سسٹم کے تحت جاری کیے گئے ہزاروں کی تعداد میں ای ٹکٹ اصل مالکان تک پہنچ ہی نہیں سکے۔
ڈی آئی جی ٹریفک سید پیر محمد شاہ کی جانب سے حال ہی میں آئی جی سندھ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 19 ہزار سے زائد ای چالان اس لیے اصل مالکان تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ اصل مالکان نے وہ گاڑیاں بیچ دی تھیں اور خریدنے والے لوگوں نے گاڑیاں اپنے نام نہیں کروائی ہیں۔ اسی طرح دو ہزار سے زائد گاڑیوں پر نمبر پلیٹ ہی غلط لگے ہوئے تھے، یہی وجہ ہے کہ ٹریفک پولیس نے شہر میں ایسی گاڑیوں کے خلاف ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔
کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق مذکورہ مہم کے دوران دو دن میں 134 گاڑیوں کے خلاف نمبر پلیٹ نہ ہونے پر کارروائی کی گئی ہے جبکہ 185 لوگوں کے خلاف اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹ چھپا کر چلنے پر کارروائی ہوئی ہے۔
پولیس کو امید ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے عالمی صورتحال کی روشنی میں موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول کی مد میں ماہانہ دو ہزار روپے کی سبسڈی دینے کے اعلان کے بعد بیشتر لوگوں نے موٹر سائیکلیں اپنے نام منتقل کرانا شروع کرادیا ہے، جس سے صورتحال میں کچھ بہتری آئے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ مذکورہ اعلان کے بعد صرف دو دن میں 1500 موٹر سائیکلیں حالیہ مالکان کے نام ٹرانسفر کرائی جاچکی ہیں۔