مردہ جنگلی جانوروں کی کھالیں اتارنے والا ملزمان گرفتار، حنوط شدہ جانور بھی برآمد

مرکزی ملزم ہارون کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا گیا تاہم دیگر ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے


آصف محمود May 03, 2026

لاہور میں وائلڈ لائف رینجرز نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ان ملزمان کو تلاش کرلیا جو ایک مردہ شیر کی کھال اتار رہے تھے۔

ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور ریجن سخی محمد جوئیہ کے مطابق ملزمان بیگم کوٹ کے علاقے میں مردہ جنگلی جانوروں کی کھالیں اتار کر انہیں حنوط کرنے کا غیرقانونی دھندا چلا رہے تھے۔

مرکزی ملزم ہارون کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا گیا تاہم دیگر ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ملزمان کے گھر سے تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں حنوط شدہ جانور برآمد کیے گئے ہیں۔

سخی محمد جوئیہ کے مطابق تین سے چار خاندان مل کر غیرقانونی طور پر جنگلی جانوروں اور پرندوں کو حنوط کرنے کا کام کر رہے تھے۔ جس شیر کی کھال اتاری جا رہی تھی اس کی باقیات تاحال نہیں مل سکیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک افریقن مردہ شیر کی کھال اتائی جا رہی تھی، جس کے بعد وائلڈلائف رینجرز نے فوری ایکشن لیا۔

حنوط شدہ جانوروں اور ٹرافیوں کو ڈرائنگ رومز اور گھروں میں سجانے کا رواج پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم یہ اس وقت سنگین جرم بن جاتا ہے جب یہ عمل غیرقانونی طریقے سے انجام دیا جائے۔

پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 اور اس کے بعد کی ترامیم کے تحت جنگلی جانوروں اور پرندوں کو نجی تحویل میں رکھنے کے لیے وائلڈ لائف محکمے سے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا لازمی ہے۔ اگر پرائیویٹ کیپٹویٹی میں رکھا گیا کوئی جنگلی جانور یا پرندہ مر جائے تو مالک پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ وائلڈ لائف حکام کو دے۔

مردہ جانور کی کھال اتارنا، اسے حنوط کرنا یا اس کے کسی بھی حصے کو محفوظ کرنا بغیر محکمے کی اجازت کے سراسر ناجائز اور قابل سزا فعل ہے۔

وائلڈ لائف حکام کے مطابق قانون کے مطابق حنوط کرنے کا عمل صرف لائسنس یافتہ ٹیکسیڈرمسٹ ہی انجام دے سکتا ہے اور اس کے لیے وائلڈ لائف محکمے سے تحریری اجازت نامہ ضروری ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ملزم کے خلاف جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے جس میں قید اور بھاری جرمانے دونوں شامل ہیں۔

لاہور میں سامنے آنے والا یہ واقعہ اس غیرقانونی نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے جو سرعام جنگلی حیات کے قوانین کو پامال کرتے ہوئے اپنا دھندا جاری رکھے ہوئے تھا۔