کروز شپ میں مبینہ وائرس سے تین افراد ہلاک

بحر اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر مبینہ ہینٹا وائرس پھیلنے کے باعث 3 افراد ہلاک ہوگئے: ڈبلیو ایچ او کی بی بی سی سے گفتگو


ویب ڈیسک May 04, 2026

بحر اوقیانوس میں موجود کروز شپ میں مبینہ طور پر ہینٹا وائرس کے سبب تین افراد ہلاک ہوگئے۔

عالمی ادارہ صحت نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ بحرِ اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر مبینہ ہینٹا وائرس پھیلنے کے باعث تین افراد ہلاک ہو گئے۔

ادارے کے مطابق ایک کیس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پانچ مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایک 69 سالہ برطانوی شہری جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہے۔

ہینٹا وائرس عموماً چوہوں جیسے جانوروں کے پیشاب یا فضلے کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور یہ شدید سانس کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ شاذ و نادر ہی یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہوتا ہے۔

برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔

یہ واقعہ ایم وی ہونڈیس نامی کروز شپ پر پیش آیا، جو ارجنٹینا سے کیپ ورڈے جا رہی تھی۔

جنوبی افریقا کی وزارتِ صحت کے ترجمان فوسٹر موہیل نے اس سے قبل بتایا تھا کہ کم از کم دو افراد کی ہلاکت سے متعلق خبر دی تھی۔