پاکستان ریلویز کے 11 سے زائد افسران کرکٹ بورڈ سمیت دیگر اداروں میں ڈیپوٹیشن پر پرکشش عہدوں پر فائز

ڈیپوٹیشن پر جانے والے افسران کی واپسی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا


ویب ڈیسک May 07, 2026
فوٹو: فائل

تین خواتین سمیت  پاکستان ریلویز کے 11 سے زائد افسران پاکستان کرکٹ بورڈ، نارکوٹکس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت دیگر اداروں میں ڈیپوٹیشن پر پرکشش عہدوں پر فائز رہنے کے بعد واپس آنے کو تیار ہی نہیں۔

ایکسپریس نیوز کو ملنے والے مختلف افسران کے مراسلے کے مطابق پاکستان ریلویز سے دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر جانے والے افسران کی واپسی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔

ریلوے انتظامیہ کی جانب سے افسران کو واپسی کے لیے لیٹر ارسال کئے گئے لیکن  کوئی بھی  افسر واپس نہیں آیا۔

اس پر ریلوے انتظامیہ نے ڈیپوٹیشن پر جانے والے ریلوے افسروں کی واپسی کے لیے دوبارہ لیٹر ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مذکورہ افسران کو ارسال کیے گئے لیٹر میں کہا گیا کہ ریلوے میں افسران کی کمی ہے، آپ واپس اپنے محکمے کو رپورٹ کریں مگر کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ۔

ریلوے افسروں کو لیٹر میں یہ بھی کہا گیا واپس رپورٹ نہ کرنے پر ان کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے مگر اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔

پاکستان ریلوے سے ڈیپوٹیشن پر جانے والے ریلوے افیسر ضیا الرحمن وزارت مذہبی امور میں راشد علی حکومت سندھ میں، مسزشیریں حنا وزارت داخلہ نارکوٹکس کنٹرول،  طارق عزیز کلاچی سندھ بورڈ آف ریونیو کراچی، صائمہ بشیر ڈائریکٹر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مس سروش اعجاز نیشنل اسکول آف پبلک، نصیر احمد خان ڈائریکٹر ایڈمنسٹریٹر ری فیوجی میں تعینات ہیں۔

قاضی جواد احمد اور فرخ عباس فخری پاکستان کرکٹ بورڈ ریلوے افسر نوید رضا اسسٹیٹ آفس حکومت پاکستان، سید ظہیر الحسن گیلانی اسسٹیٹ آفس حکومت پاکستان، میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔