سرکاری ادویات اسکینڈل میں گرفتار ملزم ڈاکٹر محمد اسلام احتساب عدالت میں پیش کردئے گئے ہیں۔
ملزم کو احتساب جج محمد حامد مغل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ احتساب عدالت نے ملزم کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کردیا۔ نیب پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ نے کہا کہ ملزم محمد اسلام کارڈیک ٹیکنیشن ہے۔ ملزم کو ادویات سکینڈل میں ملوث ہونے پر نیب نے گرفتار کیا۔
ملزم نے دیگر ملزمان کی ملی بھگت سے نجی کمپنی کے حق میں 220.7 ملین روپے کے ادویات سپلائی آرڈر نکالیں۔ 220.7 ملین روپے میں 157 ملین روپے ملزم کے ذاتی اکاونٹ میں ٹرانسفر ہوئے ہیں۔
ملزم کو ڈی ایچ او لوئر دیر کے آفس سے بھی 40 ملین روپے ادویات کی مد میں ٹرانزیکشن ہوئی ہے۔ ملزم کو یہ ٹرانزیکشن ڈی ایچ کیو ہسپتال تیمرگرہ میں ادویات کی فراہمی کے لیے ہوئی۔ ہسپتال کو ادویات فراہم نہیں کی گئی اور رقم نکالی گئی۔
عدالت نے ملزم کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کردیا۔
دوسری جانب سرکاری ادویات کی خریداری میں کروڑوں روپے غبن اسکینڈل بھی سامنے آیا۔ اسکینڈل میں گرفتار ملزم سید خورشید علی احتساب عدالت میں دوبارہ پیش ہوئے۔
احتساب جج محمد حامد مغل نے ملزم کو مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کردیا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم سید خورشید علی کو میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں خوردبرد کے الزام میں گرفتار کیا گیا، ملزم نے محکمہ صحت کے حکام کی ملی بھگت سے جعلی بینک اکاؤنٹ کھولا۔ محکمہ صحت نے ایک نجی کمپنئ سے ادویات کی خریداری کے لیے 342.4 ملین روپے کی منظوری دی۔ 153 ملین روپے کمپنی کو ادا کیے گئے باقی 184.4 ملین روپے خوردبرد کیے گئے۔
تفتیشی افسر نے مطالبہ کیا کہ ملزم سے مزید تفتیش کی مزید ضرورت ہے جسمانی ریمانڈ پر حوالہ کیا جائے، عدالت نے ملزم کی جسمانی ریمانڈ میں مزید سات کی توسیع کردی،