عدلیہ، اداروں اور وکلا کی کردار کشی پر سائبر کرائم کے مقدمات درج کیے جائیں، پاکستان بار کونسل

اسلام آباد میں ملک بھر کی بار کونسلز کا اجلاس، 26، 27ویں آئینی ترمیم کی توثیق اور آئینی عدالت کی حمایت کا اعلان


ویب ڈیسک May 07, 2026
فوٹو فائل

پاکستان بھر کی بار کونسلز نے 26، 27 ویں ترمیم اور آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ججز اور عدلیہ کے خلاف نامناسب گفتگو کرنے والوں کو کٹھہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام بار کونسلز کا اجلاس وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں تمام صوبوں کی بار کونسلز کے وائس چیئرمین اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وکلاء برادری نظام انصاف کا اہم ستون ہے، جنہیں پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران درپیش دھمکیوں، تشدد اور ہراسانی جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہتا ہے اور اس کی روک تھام اب ناگزیر ہوگئی ہے۔

پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ موثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے، حملہ آوروں کے خلاف فوری ایف آئی آر کے اندراج، عدالتوں میں خصوصی سیکورٹی پروٹوکول کے قیام اور متاثرہ وکلاء کو فوری پولیس تحفظ فراہم کیا جائے۔

بار کونسلز نے کہا کہ وکلا تحفظ ایکٹ کے نفاذ سے وکلاء بلا خوف اپنے فرائض انجام دے سکیں گے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو تقویت ملے گی، بار ایسوسی ایشنز ہمیشہ قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، ادارہ جاتی اور آئین کی بالادستی کے لئے کوشاں رہی ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو آئینی ترامیم اور عوامی فلاح کے لئے قوانین بنانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اجلاس میں 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی حمایت اور توثیق جبکہ  آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔

اجلاس میں مںظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالت کے قیام سے آئینی و سیاسی مقدمات کے فیصلے مؤثر انداز میں ممکن ہو سکیں گے جبکہ سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم اور وفاقی نظام مزید مضبوط ہوگا۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ میں تمام خالی اسامیوں کو ایک ماہ کے اندر پُر کیا جائے، ججوں کے تبادلوں سے پیدا ہونے والی اسامیوں پر متعلقہ ہائی کورٹ سے ہی تقرری کی جائے۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ کوئی نئی تعیناتی نہ کی جائے، ریٹائرمنٹ کے بعد ججز کی دوبارہ تعیناتی نہ کی جائے۔

 اجلاس میں بعض سیاسی عناصر کی جانب سے عدلیہ اور اداروں کے خلاف نامناسب زبان اور انتشار پھیلانے کی کوششوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایسے عناصر سیاسی مقاصد کے لئے ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر وکلاء، بار نمائندگان یا ججز کے خلاف کردار کشی میں ملوث افراد کے خلاف فوری مقدمات درج کئے جائیں، ایسے افراد کا سائبر کرائم قوانین کے تحت جلد از جلد ٹرائل کیا جائے۔

اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973ء کی دفعہ 54 میں ترمیم کی جائے، وکلاء کے لائسنس معطلی کے اختیارات بار کونسلز کو دیئے جائیں، دفعہ 57 میں لفظ may کو Shall میں تبدیل کیا جائے تاکہ گرانٹ ان ایڈ کی ادائیگی یقینی ہو۔

اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ عدلیہ کو بار کونسلز کے داخلی معاملات سے مداخلت سے گریز کرنا چاہئے، اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے ججز کے تبادلے بھی صوبائی ہائی کورٹس کی طرز پر کئے جائیں، ان خالی اسامیوں پر متعلقہ ہائی کورٹس سے ججز لائے جائیں۔

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان بار کونسل نے کہا کہ معرکہ حق (آپریشن بنیان مرصوص) کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستانی قوم اور حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، معرکہ حق میں پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان بار کونسل نے آخر میں مطالبہ کیا کہ وکلا کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات واپس لئے جائیں۔