انتہائی خوشی اورمسکراہٹ میں دُھلی موت

مکۃالمکرمہ میں ایک بہت خوبصورت موت کا واقعہ پیش آیا۔موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ہم میں سے ہر فرد ایک مقرر مدت کے لیے اس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے۔


عبد الحمید May 08, 2026

مکۃالمکرمہ میں ایک بہت خوبصورت موت کا واقعہ پیش آیا۔موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ہم میں سے ہر فرد ایک مقرر مدت کے لیے اس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے۔دنیاوی زندگی ایک امتحان ہے کہ ہم میں سے کون بہترین عمل کرتا ہے اور اپنے ایمان اور بہترین اعمال کے بدلے ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتوں بھری قیام گاہ حاصل کرتا ہے۔مکہ کے ایک تاجر جناب محمد طارق البشری نے یہ واقعہ ایک مقامی ٹی وی پروگرام میں سنایا جو سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہوا۔

جناب طارق البشری نے بتایا کہ مکۃالمکرمہ کے رہائشی ان کے بہت قریبی رشتے دار محمد صالح البشری نے مدینہ طیبہ میں مسجد نبوی شریف کے قریب ایک بڑے ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر ایک دکان کرائے پر حاصل کر کے اپنا کاروبار شروع کیا۔ محمد صالح کو یہاں ہم مدنی دکاندار کہیں گے۔صالح نے انھیں بتایا کہ ایک دن وہ حسبِ معمول اپنی شاپ پر بیٹھے تھے کہ عصرکی نماز سے کچھ دیر پہلے ایک آدمی ان کی دکان کے سامنے سے گزرا۔وہ دکان سے چند قدم آگے بڑھ کر پلٹا، وہ میری دکان پر آیا اور بہترین لہجے میں سلام کیا جس کا میں نے اتنی ہی محبت سے جواب دیا۔اس فرد نے پوچھا کہ کیا آپ سعودی باشندے ہیں ،میں نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے بتایا کہ جی میں سعودی ہوں۔میں نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ اصل میں تو مکہ مکرمہ سے ہوں لیکن یہاں کاروبار کرتا ہوں۔

اس شخص نے کہا کہ میرا تعلق ترکیئے سے ہے اور میں یہاں عمرے کی ادائیگی کے لیے آیا ہوا ہوں۔ میری ایک شدید خواہش ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب بھی میرا دل کرے میں حرم پاک میں عمرہ کی ادائیگی اور ختم المرسلین کی خدمت میں سلام پیش کرنے کے لیے آسانی سے یہاں آ جا سکوں۔اس نے کہا کہ ویسے تو میرا آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن ہر دفعہ ویزہ لگوانے کے مشکل عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ویزہ نہیں بھی ملتا۔

مجھے حرمین شریفین سے بہت لگاؤ ہے اور چاہتا ہوں کہ جب بھی حاضر ہونے کی طلب پیدا ہو،جو میرے اندر اکثر پیدا ہوتی رہتی ہے،تو بغیر وقت ضایع کیے چل پڑوں۔کوئی چیز میرے راستے میں حائل نہ ہو اور میں بھاگ کر یہاں آ جاؤں اور اپنی پیاس بجھا لوں۔آپ مجھے کوئی راستہ بتائیے یا پھر آپ اس سلسلے میں میری کیا مدد کر سکتے ہیں۔وہ کیا طریقہ ہو سکتا ہے جس سے میں اپنی مرضی کے مطابق حرمین شریفین کی حاضری سے مستفید ہوتا رہوں۔اس کے لیے جو بھی خرچہ کرنا پڑے میں کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کی آواز بھرائی ہوئی اور التجا لیے ہوئے تھی۔مدنی دکان دار نے ترکی باشندے سے کہا کہ آپ نماز کے لیے مسجدِ نبوی شریف جا رہے ہیں،جماعت کھڑی ہونے والی ہے۔آپ نماز کی ادائیگی کے بعد میرے پاس تشریف لائیں۔بات کرتے ہیں۔

نماز کی ادائیگی کے بعد ترکی باشندہ دکان پر آ گیا۔دکاندار بھی نماز ادا کر کے واپس آ چکا تھا۔دکان دار نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ترکی باشندہ کی طلب سچی ہے کیونکہ اس کی آواز میں جذب و شوق،اس کی شدید خواہش کی تصدیق کر رہا تھا۔اﷲ نے دکان دار کے دل میں ڈالا کہ اس بندے کی ضرور مدد کرنی چاہیے۔دکان دار نے ترکی باشندے کو بٹھایا۔اسے قہوہ پیش کیا اور کہا کہ آپ جو چاہتے ہیں وہ بالکل ممکن ہے لیکن اس کے لیے آپ کو میری ملازمت میں آنا ہوگا۔آپ میرے ملازم ہوں گے اور میں آپ کا کفیل بن جاؤں گا لیکن یہ سب کچھ کاغذات کی حد تک ہوگا۔اصل میں آپ کام نہیں کریں گے۔ترکی فرد نے کہا کہ اگر میںاپنی مرضی سے حرمین شریفین آ جا سکوں تو میں ہر شرط قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔اس کے بعد ترکی باشندے کو سعودیہ میں چند دن ٹھہر کر کاغذات مکمل کروانے پڑے اور یوں وہ کاغذات کی حد تک دکان کے مالک کے ہاں ملازم ہو گیا۔

ظاہری طور پر ملازمت کی نوعیت دکان کے لیے سامان کا حصول تھا جس کے لیے اسے سفر میں رہنا پڑتا تھا۔دکان دار نے بتایا کہ ترکی باشندہ مہینے میں ایک بار ضرور حرمین شریفین کا چکر لگاتا۔کبھی کبھی زیادہ بھی آنا جانا ہوتا۔ وہ سیدھا مکۃالمکرمہ پہنچتا۔، عمرہ کرتا، حرم کے کسی کونے میں بیٹھ کر کعبہ شریف کو دیکھتا رہتا اور پھر سلام کے لیے مسجدِ نبوی شریف،مدینہ طیبہ چلا آتا۔وہ ہر چکر میں میرے پاس ضرور آتا۔کوئی مہینہ ایسا نہیں تھا جس میں اس نے حاضری نہ دی ہو۔رمضان المبارک میں کئی دن ٹھہرتا۔چند دن مکہ اور پھر کئی دن مسجدِ نبوی شریف میں قیام و سجود میں بسر کرتا۔اس طرح کئی سال گزر گئے۔اس دوران جب بھی اس سے پوچھا گیا کہ وہ ترکی میں کیا کام کرتا ہے تو وہ کہہ دیتا کہ ایک چھوٹا سا کاروبار ہے،جس سے گزارا چل رہا ہے۔

دکان دار نے بتایا کہ اسے ایک دفعہ ترکی جانا پڑا۔اس نے ترکی باشندے سے رابطہ کیا اور اسے بتایا کہ وہ فلاں دن ترکیئے میں ہوگا۔ترکی باشندے نے اصرار کیا کہ وہ اسے میزبانی کا شرف بخشے۔طے ہوا کہ مدنی دکان دار کو انقرہ ہوائی اڈے سے لے لیا جائے گا۔یونہی ہوا۔ترکی باشندے نے اس کا والہانہ استقبال کیا۔دکان دار نے جو کام کرنے تھے ان میں اس کی بھرپور مدد کی۔وہ دکان دار کو انقرہ میں واقع اپنے دفتر بھی لے گیا جہاں دکان دار کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ترکی والا کوئی عام سا بندہ نہیں تھا۔اس کا بہت وسیع کاروبار تھا۔وہ کئی کمپنیوں کا مالک اور اتنا امیر کبیر تھا کہ شاید اس کو اپنی ساری جائیداد اور دولت کا خود سے علم بھی نہ ہو کیونکہ اس کے کاروبار کو سنبھالنے والے بہت تھے۔

اس نے مدنی دکان دار کی یوں میزبانی کی کہ وہ بہت خوش ہوا۔ترکی والے نے دکان دار کو باتوں باتوں میں یہ بھی بتایا کہ اس کی بہت خواہش ہے کہ وہ مکۃ المکرمہ میں دورانِ طواف سفرِ آخرت پر روانہ ہو۔ترکی سے روانہ ہونے پر اس نے دکان دار کو ڈھیر سارے تحائف دئے۔اس کے بعد بھی ترکی باشندہ معمول کے مطابق حرمین شریفین کی حاضری دیتا رہا۔ مدنی دکان دار نے بتایا کہ ایک روز وہ اپنی دکان پر تھا کہ مسجدِ نبوی شریف کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اسے فون کیا۔اس کا نام کنفرم کیا اور کہا کہ وہ جتنا جلدی ہو سکے مکہ مکرمہ پہنچ کر مسجد الحرام کی انتظامیہ سے رابطہ کرے۔اس نے انتظامیہ کے دو افراد کے نام اور Contactنمبرز بھی دئے۔مدنی دکان دار نے اسی وقت گاڑی نکالی اور مکہ کے لیے روانہ ہو گیا۔

مکہ پہنچ کر اس نے مسجد الحرام کی انتظامیہ سے رابطہ کیا۔اسے انتظامیہ کی جانب سے ایک میت کی تصویر دکھائی گئی اور پوچھا کہ کیا آپ اس کو پہچانتے ہیں اور کیا یہ فرد آپ کے ہاں ملازم ہے۔وہ تصویر دیکھ کر سکتے میں آ گیا کیونکہ یہ ترکیہ کے باشندے کی میت کی تصویر تھی۔مسجدالحرام والوں نے اسے بتایا کہ یہ شخص احرام کی حالت میں دورانِ طواف گر پڑا۔مسجد کے ہر دم چوکس اہلکار فوراً پہنچے لیکن اسے اسپتال لے جانے کی نوبت ہی نہ آئی،وہ شاید گرتے ہی اپنے خالق سے جا ملا تھا۔

انتظامیہ نے بتایا کہ یہ جب گرا تو اس کا رخ کعبہ المشرفہ کی طرف تھا۔اس کے چہرے پر انتہائی خوشی تھی اور اس کا چہرہ ایسے دمک رہا تھا جیسے انتہائی خوشی سے مسکرا رہا ہو۔سارے دیکھنے والے رشک کر رہے تھے۔مدنی دکان دار نے ترکی رابطہ کر کے لواحقین کو اطلاع کی اور ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرکے میت کو دفن کرنے کے لیے تیار کیا۔حرمِ پاک میں اس کا عصر کی نماز کے ساتھ جنازہ ہوا۔لواحقین کی خواہش کے مطابق اسے قدیم مکی قبرستان جنت الماویٰ میں دفن کر دیا گیا۔دعا کریں میرا خاتمہ بھی ایسا ہی ہو۔