افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ کام کرنیوالے افغان شہری کو ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم

کینیڈا ایمبیسی میں پناہ کی درخواست دے رکھی ہے، جو اس وقت پراسس میں ہے، درخواست گزار


ویب ڈیسک May 12, 2026

پشاور:

افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہری کو عدالت نے ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

پاکستان میں مقیم افغان شہری مسیح اللہ کو ڈی پورٹ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔

عدالت نے درخواست گزار کو افغانستان ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزارت داخلہ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیا اور آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کو آئندہ سماعت تک افغانستان ڈی پورٹ نہ کیا جائے جبکہ فریقین سے 29 جون تک جواب طلب کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل ملک شہباز خان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار افغان شہری ہے اور اس وقت پاکستان میں مقیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار نے افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ کام کیا تھا اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد جان بچانے کے لیے پاکستان آگیا۔

وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو افغانستان میں جان کا خطرہ ہے ۔ اس نے کینیڈا ایمبیسی میں پناہ کی درخواست بھی دے رکھی ہے، جو اس وقت پراسس میں ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار کو اس وقت افغانستان ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔