ڈرگ ڈیلر پنکی کو پروٹوکول دینے پر 3 پولیس افسران معطل

ملزمہ کو ممکنہ طور پر ایس ایچ او کی ہدایت پر گاڑی میں عدالت لایا گیا


ویب ڈیسک May 12, 2026

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجارنے منشیات کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی اور غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی جس پر تین پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گارڈ ن سے منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی پروٹوکول کے ساتھ پیش کیا گیا، جس کی ویڈیو سامنے آنے پر وزیر داخلہ سندھ نے نوٹس لیا تھا۔

وزیرداخلہ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے کی شفاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ملزمہ کو پروٹوکول دینے سے متعلق تمام ذمہ دار اہلکاروں سے وضاحت مانگی ہے۔

ضیا الحسن لنجار نے ہدایت کی کہ ملزمہ کو پروٹوکول فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، ایسا عمل کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، غفلت برتنے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مجرم قانون سے بالاتر نہیں، ہر شخص کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے، پولیس کی وردی عوام کے اعتماد کی علامت ہے، اختیارات کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ضیا الحسن لنجار نے ملزمہ کو پروٹول دینے کے عمل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ملزمان کو غیر ضروری پروٹوکول دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، سندھ حکومت قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور شہریوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ محکمہ داخلہ اس معاملے کی مکمل نگرانی کر رہا ہے، رپورٹ آنے پر مزید سخت فیصلے کیے جائیں گے۔

قبل ازیں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈشنل آئی جی کراچی کوواقعے کی مفصل ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور واقعے میں غفلت و کوتاہی کے مرتکب متعلقہ تفتیشی افسرو عملے کو فوری طور پر معطل کرکے گارڈن ہیڈکواٹرساؤتھ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔

آئی جی سندھ نے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لئے سینئرافسرپرمشتمل تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

پولیس افسران معطل

ملزمہ انمول پنکی کی عدالت میں بغیر ہتھکڑی گھومنے کی ویڈیو وائرل ہونے اور غفلت برتنے پر تین پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔

ترجمان کے مطابق ایس ایچ او حنیف سیال ، ایس آئی یو ظفر اقبال اور آئی او سعید احمد کو معطل کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ممکنہ طور پر ایس ایچ او کی ہدایت پر ملزمہ کو گاڑی میں بیٹھا کر عدالت لایا گیا۔ واقعہ کی انکوائری ایس ایس پی سائوتھ مہزور علی کے سپرد کردی گئی ہے۔

قبل ازیں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے انمول عرف پنکی کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے فوری رپورٹ طلب کی۔

کراچی پولیس چیف نے متعلقہ افسران کے کردار کے تعین کیلئے انکوائری کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، کراچی پولیس کے تمام افسران و اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں۔