اٹلی نے کہا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مستقل اور قابلِ اعتماد جنگ بندی قائم ہوجاتی ہے تو وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی مشن کے تحت اپنے دو مائن سویپر جہاز بھیجنے پر غور کرسکتا ہے۔
اطالوی وزیر دفاع گائیدو کروسیتو نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فوجی تعیناتی سے قبل “حقیقی، قابلِ اعتماد اور مستحکم جنگ بندی” یا مکمل امن معاہدہ ضروری ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ مائن سویپر جہازوں کو خلیجی علاقے تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، اسی لیے اٹلی نے ابتدائی طور پر ان جہازوں کو مشرقی بحیرہ روم اور بعد ازاں بحیرہ احمر کے قریب تعینات کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
اطالوی وزیر دفاع کے مطابق یہ اقدام صرف احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا جا رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز کے قریب فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت شدید کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جبکہ امریکا ماضی میں ایران پر اس اہم بحری راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام بھی عائد کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش یا غیر یقینی صورتحال عالمی تیل سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔