خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں نورنگ ریلوے پھاٹک کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 9 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ جائے وقوعہ سے 42 افراد اسپتال لائے گئے،ذرائع کے مطابق دھماکے میں موٹر سائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اور حکومت غیر متزلزل عزم کے ساتھ بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کو ملک کے امن و ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف اس جد و جہد میں بیش قدر قربانیاں دی ہیں۔
پاکستان اس وقت ایک بار پھر دہشت گردی کی ایسی خطرناک اور منظم لہر کا سامنا کر رہا ہے جس کے اثرات صرف داخلی امن و امان تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے استحکام کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات نے اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر آشکار کر دیا ہے کہ دشمن نے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔
اب وہ براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے عام شہریوں، بازاروں، مساجد، پولیس اہلکاروں اور نرم اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ خوف، بے یقینی اور انتشار کی ایسی فضا پیدا کی جا سکے جس سے ریاستی رٹ کمزور دکھائی دے اور عوام کے دلوں میں عدم تحفظ کا احساس جنم لے۔ لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ہونے والا ہولناک دھماکا اسی مذموم سلسلے کی ایک دردناک کڑی ہے، جس نے نہ صرف کئی خاندانوں کے چراغ گل کر دیے بلکہ پوری قوم کے دلوں کو سوگوار کر دیا ہے۔
اس نوعیت کی کارروائیاں اچانک نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے منظم نیٹ ورکس، مالی معاونت، تربیت یافتہ سہولت کار اور محفوظ پناہ گاہیں موجود ہوتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں افغانستان کی سرزمین کا کردار ایک بار پھر سوالیہ نشان بن کر سامنے آتا ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے عالمی برادری کو یہ باور کراتا آیا ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد عناصر مسلسل پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ افغان عبوری حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود وہاں موجود شدت پسند گروہ نہ صرف آزادانہ نقل و حرکت رکھتے ہیں بلکہ انھیں مختلف سطحوں پر سہولت اور تحفظ بھی حاصل ہے۔ پاکستان کے اندر ہونے والی متعدد کارروائیوں کے شواہد، گرفتار دہشت گردوں کے بیانات اور انٹیلی جنس رپورٹس اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سرحد پار موجود عناصر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے سرگرم ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو بھارت کا وہ مسلسل کردار ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پر ماضی میں بھی پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرپرستی، علیحدگی پسند گروہوں کی مالی معاونت اور تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ بلوچستان سے کراچی اور قبائلی اضلاع تک متعدد گرفتار دہشت گردوں نے بھارتی روابط کا اعتراف کیا،مگر عالمی طاقتوں کی سیاسی مصلحتوں کے باعث بھارت کو کبھی اس انداز میں جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا جس کا وہ مستحق تھا۔ آج جب خوارج اور دیگر دہشت گرد عناصر پاکستان میں نئی شدت کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں تو اس کے پس منظر میں بھارت کی پراکسی جنگ کی نئی شکل نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
یہ امر انتہائی اہم ہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے سفارتی، عسکری اور سیاسی میدان میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ معرکۂ حق میں بھارت کو جس طرح سفارتی اور اخلاقی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا، اس نے پاکستان دشمن قوتوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ دشمن جانتا ہے کہ ایک مستحکم، متحد اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتا ہے۔
اسی لیے وہ دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے تاکہ پاکستان کی توجہ داخلی استحکام سے ہٹا کر بدامنی اور انتشار میں الجھائی جا سکے۔ خوارج کی حالیہ کارروائیاں اسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں۔ جب دہشت گرد میدان جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے سامنے ٹھہرنے کے قابل نہ رہے تو انھوں نے سول اور سوفٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، یہ دراصل ان کی شکست، کمزوری اور ذہنی دیوالیہ پن کا کھلا اعتراف ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آپریشن ضرب عضب، ردالفساد اور متعدد خفیہ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے مضبوط ترین نیٹ ورکس کو تباہ کیا گیا۔
شمالی وزیرستان سے سوات تک اور بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں سے شہری مراکز تک پاک فوج، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جانوں کے نذرانے دے کر ملک میں امن بحال کیا۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال موجود ہو جہاں کسی قوم نے پاکستان جتنی قربانیاں دی ہوں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردی صرف بندوق کی طاقت سے جنم نہیں لیتی بلکہ اس کے پیچھے فکری، سماجی اور نفسیاتی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ دشمن سوشل میڈیا، جعلی پروپیگنڈے اور مذہبی نعروں کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعلیمی اداروں، علما، دانشوروں اور میڈیا کا کردار بھی کلیدی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ قوم کے نوجوانوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ خوارج اور دہشت گرد عناصر کسی مذہب، قوم یا نظریے کے نمایندہ نہیں بلکہ وہ بیرونی طاقتوں کے آلۂ کار ہیں جن کا مقصد صرف خونریزی، انتشار اور پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ لکی مروت کے عوام کا دہشت گردوں کے خلاف شدید ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم اب ان عناصر کے حقیقی چہرے کو پہچان چکی ہے۔ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ جو لوگ بازاروں، مساجد اور عوامی مقامات پر دھماکے کرتے ہیں، ان کا اسلام، انسانیت اور قبائلی روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی قومی شعور دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی قوت بن سکتا ہے۔ جب عوام، ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہوں تو کوئی دشمن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے لکی مروت دھماکے کی مذمت اور ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار ایک مثبت پیغام ہے، تاہم اصل ضرورت ان اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف عسکری اداروں کی ذمے داری نہیں بلکہ یہ پورے نظامِ ریاست کا امتحان ہے۔ سیاسی قیادت کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کے مسئلے پر یک زبان ہونا ہوگا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی تقسیم بعض اوقات قومی مسائل کو بھی متاثر کرتی ہے، جس کا فائدہ دشمن اٹھاتا ہے۔ ایسے وقت میں قومی یکجہتی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
عالمی برادری کو بھی یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں، اگر ان عناصر کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو اس کے نتائج مستقبل میں مزید تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ چین، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی بات کی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا دہشت گردی کے مسئلے پر دہرا معیار ترک کرے اور ان قوتوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے جو پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ پاکستان نے اپنی تاریخ میں بے شمار آزمائشیں دیکھی ہیں، مگر ہر بار قوم نے اتحاد، ایمان اور قربانی کے جذبے سے مشکلات کا مقابلہ کیا۔ آج بھی حالات خواہ کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، پاکستان دشمن قوتیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
لکی مروت کے شہداء کا خون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاست اور قوم دہشت گردی کے خلاف پہلے سے زیادہ مضبوط عزم کے ساتھ کھڑی ہو۔ یہ جنگ صرف سرحدوں کی حفاظت کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے، اگر آج اس ناسور کا مکمل قلع قمع نہ کیا گیا تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔پاکستان کے عوام اور ریاستی ادارے متحد ہیں اﷲ کے فضل سے دہشت گردی کی یہ نئی لہر بھی ماضی کی طرح شکست سے دوچار ہوگی۔ دشمن چاہے افغانستان کی سرزمین استعمال کرے، بھارت کی خفیہ سرپرستی حاصل کرے یا خوارج کے ذریعے بزدلانہ کارروائیاں کرے، پاکستان کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔ اس وطن کی بنیاد قربانی، استقامت اور ایمان پر رکھی گئی تھی، اور یہی قوتیں آج بھی اسے ہر سازش کے مقابلے میں سربلند رکھیں گی۔