تاریخ کے اوراق جب پاکستان کی معاشی داستان لکھیں گے تو بجٹ محض ایک سالانہ میزانیہ نہیں بلکہ خوابوں کی کرچیوں کا وہ ڈھیر قرار پائے گا جس تلے غریب عوام، سفید پوش طبقہ، تنخواہ دار طبقہ، نجی ملازمین اور سرکاری ملازمین و پنشنرز آ چکے ہیں۔ جون کی تپتی ہوئی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے، عین اسی وقت ایوانوں کے ٹھنڈے کمروں میں آئی ایم ایف کے ’’فرمان عالیہ‘‘ کی روشنی میں تیار کردہ بجٹ پیش کیا جائے گا جسے اصطلاح میں قومی بجٹ کہا جاتا ہے۔
بجٹ تیزی سے اختتامی مراحل طے کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے ورچوئل مشاورت بھی جاری ہے۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر کیا جائے۔ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہ دینے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کا بجٹ 17 ہزار 573 ارب روپے کا تھا جوکہ 10 جولائی 2025 کو پیش کیا گیا تھا۔ خسارہ 6501 ارب روپے کا تھا۔ اس میں سے سود پر 8207 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً نصف بجٹ کی رقم تو صرف سود کی مد میں ہی خرچ ہو جاتی ہے تو پھر عوام کے لیے ان کے فلاحی منصوبوں کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے پنشنرز کو دینے کے لیے کیا بچے گا۔ گزشتہ برس بجٹ کے موقع پر کہا گیا تھا کہ افراط زر کی شرح 7.5 فی صد متوقع ہے۔ اس وقت بالکل درست اندازہ لگایا گیا تھا کیونکہ کسے خبر تھی کہ ایران، امریکا کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 50 فی صد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہوگا اور پاکستان میں تیل کی قیمت دسمبر 2025 میں جب 265 روپے فی لیٹر تھی اور اب 415 روپے فی لیٹر تک جا پہنچے گی۔ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی اور دیگر شعبوں میں 1186 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ زراعت جوکہ ملکی جی ڈی پی کا 21 فی صد فراہم کرتا ہے اس کے لیے وفاقی حکومت نے محض 4 ارب روپے مختص کیے تھے جس قوم کو بڑے پیمانے پر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے اور کم از کم تین سے چار سو ارب روپے اس مد میں مختص کیے جانا ضروری تھا، وہاں پر محض 38.5 ارب روپے کی گنجائش نکالی جا سکی۔ آئی ایم ایف کو تو اس پر اعتراض بھی کرنا چاہیے تھا اور مشورہ بھی دینا چاہیے تھا کہ یہ رقم کم ازکم 5گنا بڑھائی جائے۔ اس سے یورپ اور مغرب کو مالی فوائد بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ان طلبا نے یورپ اور امریکا کی یونیورسٹیوں میں بھی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانا ہوتا ہے۔
پاکستان جو کہ ایک زرعی ملک ہے گزشتہ دنوں یہاں پر اچانک آٹے کی قیمت میں 30 سے 40 فی صد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گندم اور آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ نہ پیداوار میں کمی ہے نہ ہی ملک میں گندم اور آٹے کی قلت ہے۔ نہ ہی افغانستان اسمگلنگ کا معاملہ ہے، نہ ہی بڑی مقدار میں بیرون ملک برآمد کر دی گئی ہے صرف اور صرف بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ کسان کو اس کی محنت کا صلہ بھی نہیں مل رہا اور صارف کو آٹا سونے کے بھاؤ مل رہا ہے۔ یہ ایسی بدانتظامی ہے جہاں ہزاروں ٹن گندم ادھر سے ادھر ذخیرہ کر لی جاتی ہے اور غریب کی تھالی سے روٹی کم ہو جاتی ہے۔
پاکستانی معیشت کا پہیہ درآمدی پٹرول سے چلتا ہے، پٹرول کی درآمدی مقدار میں کچھ خاص اضافہ تو نہیں ہوا، البتہ گزشتہ 2 ماہ سے عالمی منڈی میں قیمت نے بڑی چھلانگ لگا لی ہے، لیکن بہت سے ملکوں نے اس اضافے کو حکومتی سطح پر جھیلا۔ عام آدی کے لیے قیمت میں کوئی خاص اضافہ نہ ہونے دیا، شاید وہاں پر آئی ایم ایف کی فرمانروائی نہ ہوتی ہو ورنہ ہماری طرح گزشتہ دسمبر میں جب پٹرول 265 روپے فی لیٹر تھا اب تک 415 روپے فی لیٹر تک بڑھا چکے ہوتے۔ یعنی نصف سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہوتا۔ یہاں تو آبنائے ہرمز کی لہروں کا بہانہ بنا کر پٹرول کی قیمت میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
ہر سال بجٹ کے آنے سے پہلے اور بعد میں سب سے زیادہ مایوس اور دل خراش پہلو ہمارے پنشنرز کا ہوتا ہے۔ وہ سفید پوش بزرگ جنھوں نے اپنی زندگی کی بہترین توانائی اور اپنی جوانی وطن کے نام کر دی تھی، آج ان کا بڑھاپا فاقوں کے نام ہو رہا ہے اور ان کی پنشن میں کبھی 7فی صد کبھی 5 فی صد کا برائے نام اضافہ کرکے ان کے زخموں کو مزید کریدا جا رہا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے وہ ریاست کی ترجیحات میں سب سے نچلے درج پر ہیں۔ ہر شے کی قیمت میں گزشتہ برس کے مقابلے 16 سے 20 فی صد اضافہ، آٹا اور پٹرول کی قیمت میں نصف تک کے اضافے، ادویات اور کرایوں میں بھی 30 سے 40 فی صد اضافے کے باوجود ان کی پنشن میں محض چند فی صد کا اضافہ کیا۔ کیا یہ ان کی خدمت کا صلہ ہے؟ یا ان کی اس جوانی کا معاوضہ ہے جو انھوں نے ملک کی خدمت میں گزار دیے۔
آئی ایم ایف کے ہی مشوروں پر کئی دہائیوں سے عمل کرتے کرتے اب یہ عالم ہے کہ کارخانے بند ہو رہے ہیں، ملکی ترقی کی شرح میں کمی آ رہی ہے، متوسط طبقہ ختم ہو رہا ہے اور لوگ تیزی سے غربت کی لکیر سے نیچے گر رہے ہیں۔ ان گرنے والوں میں زیادہ تر گریڈ ایک سے گریڈ سترہ تک کے پنشنرز ہیں۔
آج جب عالمی منظرنامہ ہنگامہ خیز ہے، پاکستان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ اسے اپنی سمت کو درست کرنا ہوگا، اگر بجٹ سازی کے عمل کا انحصار آئی ایم ایف پر ہی رہا اور عوام کی غربت، ملازمین کی تنخواہوں اور تمام پنشنرز کے علاوہ نجی اداروں کے ملازمین اور تمام تر غریب طبقے کو ترجیح نہ دی گئی، ان کا بھرپور خیال نہیں کیا گیا اور وطن کے لیے جوانی لٹانے والے پنشنرز کو فاقوں کی پلیٹ سے دور نہ کیا گیا۔ تو اس کے منفی اثرات معاشی ترقی پر مرتب ہوں گے اور ملک معاشی عدم استحکام سے دوچار ہو کر مزید بے روزگاری کی شرح میں اضافے سے دوچار ہو جائے گا، لہٰذا آئی ایم ایف سے زیادہ اہمیت غریبوں کے مسائل کی طرف دینا ہوگی۔