چین میں جاسوسی کا ڈر؟ امریکی حکام فون چارج کرنے سے بھی گھبراتے رہے

امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ چین کے جدید سکیورٹی اور نگرانی کے نظام ان کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں


ویب ڈیسک May 15, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے دوران امریکی وفد کی جانب سے غیرمعمولی سائبر سکیورٹی اقدامات سامنے آئے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے کئی اعلیٰ حکام اور کاروباری شخصیات اپنے ذاتی موبائل فون اور لیپ ٹاپ ساتھ لے کر ہی نہیں گئے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ چین کے جدید سکیورٹی اور نگرانی کے نظام ان کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں یا ان کی ڈیوائسز کو ہیک کیا جاسکتا ہے۔

اسی وجہ سے متعدد حکام نے محدود فیچرز والے عارضی فون استعمال کیے، جبکہ کچھ افراد نے حساس معلومات والی ڈیوائسز مکمل طور پر استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

امریکی ذرائع کے مطابق وفد میں شامل افراد اس قدر محتاط تھے کہ فون چارج کرتے وقت بھی خدشات کا شکار رہے۔ حکام کو خوف تھا کہ چارجنگ سسٹمز یا نیٹ ورکس کے ذریعے خفیہ سافٹ ویئر انسٹال کیا جاسکتا ہے یا ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق وفد میں شامل بڑی امریکی کمپنیوں جیسے ایپل، بوئنگ، اور بلیک روک کے نمائندوں نے بھی چین میں سخت سائبر سکیورٹی پروٹوکولز اپنائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی جنگ اور جاسوسی کے خدشات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

خاص طور پر مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سکیورٹی اور سائبر نگرانی کے معاملات اب عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑے سفارتی دوروں میں اب صرف جسمانی سکیورٹی ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل سکیورٹی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔